blog

عوامی احتساب

تحریر: حافظ زبیر فیروز
نااہل وزیراعظم اور ان کی پارٹی کہہ رہی ہے کہ عوامی احتساب ہونا چاہیے نہ کہ عدالتی۔ نعرہ ہے کہ ووٹ کو عزت دو۔ دنیا بھر کا مافیا ایک خاص ”طرز جمہوریت“ کو اپنی کرپشن چھپانے کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے اور اس میں آج کل کے دانشور بھی بڑھ چڑھ کر پراپیگنڈہ کررہے ہیں کہ عوامی احتساب ہی سب سے بہتر طریقہ ہے۔ یعنی وہ ریاست کے ذمہ دار ترین ادار ے کو بھی ماننے سے انکاری ہوگئے ہیں۔ اگر ہم ن لیگ اور ان کے ہمنوا دانشوروں کی بات مان لیں تو اس حساب سے تو کسی بھی حکمران یا ممبر اسمبلی کو کسی بھی برے فعل کی سزا نہیں ملنی چاہیے کیونکہ وہ ووٹ لے کر آتے ہیں۔
ایسے ہی صبح صبح آج ایک دانشور کا کالم پڑھا جس نے اپنے کالم میں لکھا کہ پیپلزپارٹی کو عوام نے اس کی کرپشن کی وجہ سے 2013ءکے الیکشن میں چھٹی کروادی حالانکہ ابھی تک وہ صوبہ سندھ کی حکمران جماعت ہے۔ کیا سندھ پاکستان کا حصہ نہیں؟ اور کیا سندھ کے عوام کو اس کی کرپشن نظر نہیں آتی یا سندھ کے عوام ناسمجھ ہیں؟ جس طرح پیپلزپارٹی عوامی ووٹوں کی وجہ سے سندھ میں حکمران ہے اسی طرح ن لیگ پنجاب کو اپنی جاگیر سمجھتی ہے۔ ان کے خیال میں جیسے سندھ میں پیپلزپارٹی جیت گئی ہے ہم بھی کرپشن کرنے کے باوجو دپنجاب میں جیت جائیں گے۔ اس لئے ن لیگ عامی احتساب کا نعرہ لگارہی ہے۔ وہ یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ 2008ءسے پہلے پاکستان میں تقریباً دو جماعتی سسٹم چل رہا تھا۔ 1988ءسے 2013ءتک چھ جمہوری حکومتیں بنیں جس میں تین دفعہ پیپلزپارٹی اور تین دفعہ ن لیگ کی حکومتیں بنیں لیکن اب 2018ءمیں پیپلزپارٹی کرپشن کی وجہ سے سندھ تک محدود ہوگئی کیونکہ صوبہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے اس لئے ن لیگ سمجھتی ہے کہ سندھ کی طرح ہم پنجاب میں کرپشن میں پکڑے جانے کے باوجود جیتنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
بقول زرداری ”میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ پہلے آپ کی باری پھر ہماری باری“ اور یہی ہورہا ہے یعنی یہ دونوں پارٹیاں آج تک کرپشن کرنے کے باوجود باریاں لے رہی ہیں۔ یہ بات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ سب جمہوری ملکوں میں دو یا تین پارٹیاں ہی حکومت کررہی ہیں۔
پوری دنیا کی عوام کی بے بسی یہی ہے کہ وہ ان کرپٹ لوگوں کے شکنجے سے اپنی جان نہیں چھڑواسکے۔ اسی مافیا طرز جمہوریت کی وجہ سے یہ دونوں کرپٹ حکمران کہتے ہیں کہ عوام کو احتساب کرنے دو لیکن پاکستان میں اب شاید انتخابی ماحول بدل جائے کیونکہ ایک تیسری پارٹی انتخابی عمل میں شامل ہوچکی ہے۔
عوام کی بدقسمتی یہی ہے کہ وہ چاہتے ہوئے بھی اس انتخابی عمل سے کرپٹ سیاستدانوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکیں گے کیونکہ ہمارے سیاستدان تو اب انتخابی گوشواروں کے کالم میں سیاست کو اپنا پیشہ لکھتے ہیں حالانکہ جمہوریت خدمت کرنے کے لئے ہے نہ کہ اس کو پیشہ بنایا جائے۔ جب سیاستدان اس کو پیشہ بنائیں گے تو عوام کے پاس ان سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ یعنی حکومت اور حزب اختلاف نے عوام کی جمہوریت کے نام پر بری طرح جکڑ رکھا ہے۔
کیا موجودہ انتخابی عمل سے عوام ان کرپٹ سیاستدانوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں؟ کبھی نہیں! اسی لئے جب بھی عدالتیں ان کو کرپشن میں سزا دیتی ہیں تو یہ کہتے ہیں ”ہمیں عوام میں جانے دیں“۔ میرا سب دانشوروں سے معصومانہ سوال ہے کہ کیا پیپلزپارٹی کی کرپشن سندھیوں کو نظر آئے گی یا نواز شریف کی کرپشن پنجابیوں کو نظر آئے گی۔ اسفند یار ولی اور فضل الرحمان کی کرپشن خیبرپختونخوا کے عوام کو نظر آئے گی یا بلوچ سرداروں کی کرپشن بلوچیوں کو نظر آئے گی؟ میرے خیال میں عوام کو دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود ان کرپٹ عناصر سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا اس لئے وہ جمہوریت کے جنگل میں مجبوراً اپنے ووٹ کا بے جا استعمال کررہے ہیں۔
احتساب محض عوامی نہیں ہوسکتا، قانون اور عدالتوں کو اپنا راستہ بہرحال ہمیشہ صاف رکھنا ہے اور عوامی مفاد کیلئے کرپشن کو کرپشن اور چور کو چور قرار دینا ہے۔ بصورت دیگر معاشرے میں بگاڑ اور عدم توازن بھیانک شکل اختیار کرسکتا ہے۔ آئین اور عدل پر عوامی اعتماد اسی صورت حال ہوگا جب انصاف عملی طور پر ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔ انصاف ضلع بہاولنگر کے محمد سلیم کیلئے ہو یا لاہور کے محمد بوٹا کے لئے، انصاف ہوتا ہوا دکھائی دینا چاہیے۔ ورنہ جمہوریت کی اصل روح بھی زخمی رہے گی اور خوشحال معاشرہ محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔

۔