ایسا عظیم واقعہ جسے ڈاکٹر علامہ اقبال نے اپنی زندگی میں بتانے سے منع کیا تھا

علامہ اقبال کے خادم میاں علی بخش کو علامہ کے ہاں ایسا نا قابل فراموش واقعہ پیش آیا جسے وہ عمر بھر یاد کرتے رہے۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد عبد الستار نیازی اس واقعے کے اصل راوی تھے۔ گوجرانوالہ کے ایک بزرگ علی بخش کے پاس آئے اور کہا کہ انھیں علامہ اقبال کی زندگی کے کچھ واقعات بتائیں۔ علی بخش نے جوب دیا’’ میں ساری باتیں کہہ چکا ہوں ، اب کو ئی بات باقی نہیں رہی۔ جب اس بزرگ نے اصرار کیا تو علی بخش نے کہا ’’ہاں‘‘ ایک واقعہ ایسا ہے جو پیش آیا

مگر علامہ اقبال نے اسکی تفصیلات مجھے نہیں بتائیں ایک روز وہ یعنی علامہ صاحب میری فداکارانہ خدمت سے مسرور تھے۔ اور مجھے کہا ، علی بخش بتاؤ تمہیں کیا دوں کہ تم خوش ہو جاؤ ؟ میں نے جواب دیا کہ جو معاملہ آپ کو ایک دن پیش آیا تھا اور میں نے اسکے بارے میں نے آپ سے سوال کیا ، تو آپ نے بتانے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ بتائیں۔ علامہ نے فرمایا اب بتانا چاہتا ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ میرے( حین حیات )عمر بھرکسی کو نہ بتانا ، البتہ میری زندگی کے بعد بتا سکتے ہو۔ وہ واقعہ یوں ہے۔ایک روز نصف شب علامہ اقبال بستر پر لیٹے ہوئے تھے بے حد بے چین اور مضطرب تھے۔ دائیں بائیں کروٹ بدلتے تھے۔ یکایک آپ اٹھ کھڑے ہوئے

اور کوٹھی (میکلوڈ روڈ ) کے دروازے کی طرف گئے۔ میں بھی پیچھے چلا گیا۔ اتنے میں ایک پاکیزہ بزرگ اندر داخل ہوئے۔ ان کا لباس خوبصورت اور سفید تھا۔ انھیں آپ اندر لے آئے اور پلنگ پر بٹھا دیا اور خود نیچے بیٹھ کر بزرگ کے پاؤں دبانے لگے۔ اس دوران علامہ صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ کے لئے کیا لاؤں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ دہی کی لسی بنا کر پلا دو۔ اس پر علامہ صاحب نے مجھ سے کہا کہ جگ لیکر جاؤ اور لسی بنوا کر لے آؤ۔میں حیران تھا کہ اس وقت لسی کہاں سے حاصل کروں۔ بھاٹی گیٹ جا کر کسی مسلمان کی دکان سے بنوا کر لاؤں یا اسٹیشن جاؤں۔ جونہی میں کوٹھی سے باہر نکلا

تو کوٹھی کے سامنے ایک بازار دکھائی دیا۔ جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ بازار میں مجھے ایک لسی والے کی دکان نظر آئی۔ میں اس کے پاس گیا اور اسے کہا مجھے جگ میں لسی بنا کر دے دو۔ اس نے جگ مجھ سے لیکر اچھی طرح دھویا۔ پھر ایک دہی کی صحنک (کونڈا) اٹھا کر اپنے گڈوے میں لسی بنائی۔اور جگ میں بھر دی ، میں نے پیسے پوچھے تو سفید ریش بزرگ نے جواب دیا کہ علامہ صاحب سے ہمارا حساب چلتا رہتا ہے۔ تم لے جاؤ اور ان کو پیش کر دو۔ میں جگ لیکر آیا

قبر میں دفن ہونے سے پہلے انسان کے پاس کتنے فرشتے آتے ہیں اور آکر کیا کہتے ہیں؟‎

فرمان مصطفی ﷺ: جب آدمی پر نزع کا عالم طاری ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی طر ف پانچ فر شتے بھیجتاہے۔پہلافر شۃ اس کے پاس اس وقت آتا ہے جب اس کی روح حلقوم(یعنی حلق) تک پہنچتی ہے ۔ وہ فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے :

”اے ابن آدم ! تیرا طاقتوربدن کہاں گیا؟ آج یہ کتنا کمزور ہے ؟ تیری فصیح زبان کہاں گئی ؟آج یہ کتنی خاموش ہے ؟ تیرے گھر والے اور عزیزواقرباء کہاں گئے؟ تجھے کس نےتنہاکردیا۔پھر جب اس کی رو ح قبض کرلی جاتی ہے اور کفن پہنادیا جاتاہے تو دوسرا فرشۃ اس کے پاس آتا ہے او راسے پکار کر کہتا ہے :”اے ابن آدم !تُو نے تنگدستی کے خوف سے جو مال واسباب جمع کیا تھا وہ کہاں گیا ؟

تُونے تباہی سے بچنے کے لئے گھر بسائے تھے وہ کہاں گئے؟ تُو نے تنہائی سے بچنے کے لیے جو اُنس تیار کیا تھا وہ کہاں گیا؟”پھر جب اس کا جنازہ اٹھایا جاتاہے تو تیسرا فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکا ر کر کہتا ہے:” آج تُو ایک ایسے لمبے سفر کی طرف رواں دواں ہے جس سے لمبا سفر تُو نے آج سے پہلے کبھی طے نہیں کیا ،آج تُو ایسی قوم سے ملے گا کہ آج سے پہلے کبھی اس سے نہیں ملا ،آج تجھے ایسے تنگ مکان میں داخل کیاجائے گا کہ آج سے پہلے کبھی ایسی تنگ جگہ میں داخل نہ ہوا تھا، اگرتُو اللہ عزوجل کی رضا پانے میں کامیاب ہوگیا تو یہ تیری خوش بختی ہے او راگر اللہ عزوجل تجھ سے ناراض ہوا تویہ تیری بدبختی ہے ۔”

امریکہ میں لاکھوں شہد کی مکھیاں دو دن سے ایک کار کا پیچھا کر رہی ہیں، وجہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے

 یہ ایک زبردست فوج کی کہانی ہے جو اپنی ملکہ کو بچانے کے لئے دو دن سے ایک کار کا پیچھا کر رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک بوڑھی خاتون کیرول ہورتھ نے اپنی گاڑی پر جب ایک نیچر ریزرو کا دورہ کیا تو ایک چھوٹا سا مسافر غلطی سے اس کی گاڑی میں سوار ہو گیا۔

واپسی پر کیرول نے بیک مرر میں دیکھا تو لاکھوں مکھیاں اس کی گاڑی کا پیچھا کر رہی تھیں بعدازاں وہ ہاورڈفورویسٹ مغربی ویلز میں شاپنگ کیلئے گئیں۔ واپس آئیں تو ان کی گاڑی کے ارد گرد لاکھوں مکھیوں نے منڈلانا شروع کر دیالیکن کیرول نے اس بات کا زیادہ نوٹس نہیں لیا۔ کچھ دیر بعد جب انہوں نے دوبارہ ایک جگہ کار پارک کی اور واپس آئیں تو مکھیاں کار کے اوپر بیٹھی ہوئی تھیں جس پر انہوں نے نیشنل پارک رینجرز کو بلوایا جنہوں نے ان مکھیوں کو ڈبوں میں بند کر کے واپس نیشنل پارک میں چھوڑ دیا۔

اگلے دن صبح کیرول کہیں جانے کیلئے اپنی پارک کی ہوئی گاڑی کے پاس آئیں تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گئیں کہ پھر شہد کی مکھیاں اسی گاڑی پر موجود تھیں جو کہ ایک حیران کن بات تھی جس پر دوبارہ نیشنل پارک رینجرز کو بلوایا گیا اور ساتھ شہد کی مکھیوں کے ماہرین کو بھی بلوایا گیا۔ ماہرین نے تحقیقات کے بعد کہا کہ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا انوکھا واقعہ نہیں دیکھااور انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ شہد کی مکھیاں ہمیشہ ملکہ مکھی کی پیروی کرتی ہیں ممکن ہے ملکہ مکھی گاڑی کے اندر ہو جس کی وجہ سے شہد کی مکھیوں کی فوج اس گاڑی کا پیچھا کر رہی ہے ٗ نیشنل رینجرزدوبارہ مکھیوں کو جنگل چھوڑ آئے ہیں اور آج گاڑی میں سے ملکہ مکھی کی تلاش کی جا رہی ہے۔

کسانوں سے اس قیمت پر گنے کو خریدا جائے ورنہ،شوگر مل مالکان کو خطرناک وارننگ جاری‎‎

پنجاب کے صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے گنے کی قیمت خرید 180 روپے فی 40 کلو گرام مقرر کی گئی ہے۔ مقرر کر دہ ریٹس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ اس حوالے سے حکومت کا موقف بالکل واضح ہے

کہ کسان کا استحصال کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گنے کے نرخوں میں کمی کی خبریں بے بنیاد ہیں،مقرر کردہ نرخوں سے کم خریداری کے معاملے پر کسانوں میں اضطراب پایا جاتاتھا جس کا وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف نےخود نوٹس لیتے ہوئے صوبائی مشینری کو متحرک کردیا ہے اور احکامات کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے گی۔ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان شوگر ملوں کی طرف سے مقرر کردہ نرخوں پر فالتوچینی خریدنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

حکومت نے 3لاکھ میٹرک ٹن چینی خریدنے کا ہدف مقرر کیاہے جسے ضرورت پڑنے پر بڑھایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع سرگودھا کے دورے کے دوران کیا۔ انہوں نے سیال موڑ، بھلوال اور سلانوالی میں واقع 3 شوگر ملز کا معائنہ کیا۔صوبائی وزیر کے اچانک معائنوں کے دوران مختلف مقامات پر کسانوں سے کم نرخوں پر گنا خریدنے والے 9غیرقانونی کنڈے سیل کردیے گئے جبکہ 5 کنڈوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی گئی۔انہوں نے ملزانتظامیہ کو ہدایت کی کہ کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی جائے۔‎‎

اس ان پڑھ شخص نے زرافے کی گردن پکڑی اوروہ سرجنوں کاسرجن بن گیا‎

نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے پلکوں پر ٹشو رکھ لیا، ہم سب چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے۔ اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو اس کی یہی صورتحال ہوتی،آپ ایک لمحے کے لیے خود سوچئے اگر آپ نے اچھی پوزیشن کے ساتھ ایم بی اے کیا ہو‘ اگر آپ ایک صحت مند اور خوبصورت جوان ہو لیکن آپ نوکری کے لیے جہاں بھی درخواست دیتے ہوں، آپ کو صاف جواب مل جاتا ہوتو آپ پرکیا گزرتی، آپ کارد عمل کیا ہوتا لہٰذا نوجوان بری طرح داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔

میں نے اس سے کہا’’ میں تمہیں ایک کہانی سنانا چاہتاہوں ‘‘اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں تحیر اور بے بسی تھی، میں نے عرض کیا۔’’کیپ ٹاؤن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو ’’ماسٹر آف میڈیسن‘‘ کی اعزازی ڈگری دی جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا لیکن 2003ء4 کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا،ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں

جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاداور ایک حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا‘‘۔نوجوان چپ چاپ سنتا رہا۔ میں نے عرض کیا ’’ہیملٹن کیپ ٹاؤن کے ایک دور دراز گاؤں سنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاؤں پھرتاتھا،

بچپن میں اس کاوالد بیمار ہوگیا لہٰذاوہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹاؤن آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاؤن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا اور خود چنے چبا کر کھلے گراؤنڈ میں سو جاتاتھا۔وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔

اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، و ہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاںآج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔ یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی‘‘۔نوجوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میں نے عرض کیا ’’پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا،

انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بے ہوش کیا لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑکر رکھے۔ پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔

اس دوران ڈاکٹر چائے اور کافی کے وقفے کرتے رہے لیکن ہیملٹن زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔ دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا،

ہاضمے کی خرابی اورمعدے کی تیزابیت ختم کرنے کاانتہائی سستاترین نسخہ ،چارروزمیں بیماری ہمیشہ کےلئے ختم

اضمے کی خرابی اورمعدے میں تیزابیت،سینے کی جلن ایسے مسائل ہیں جو بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ ہمارے کھانے پینے کی عادات ہیں۔اگر ایسا مشروب مل جائے جو جو سینے کی جلن سے نجات دے اور معدے کی تیزابیت کم کردے تو یقیناًآپ ایسا مشروب ضرور پئیں گے۔آئیے آپ کو ایسا مشروب بنانے کے طریقہ بتاتے ہیں جوچندروز استعمال کرنے سے آپ کو سینے کی جلن سے نجات دےگا۔پوری عمر بھر پور یاداشت رکھنے کے لیے

اس ایک انتہائی آسان نسخے پر عمل کریں ایک کپ کھیرا،آدھ کپ اناناس،تھوڑی سی اجوائن،آدھا لیموںاور کچھ ناریل پانی لیں۔تمام سخت اشیاءکو ایک کپ میں ڈال دیں،پھر اس میں ناریل پانی شامل کر کے اچھی طرھ پیس لیں۔مزیدار مشروب تیار ہے۔ اس مشروب کو صرف چارروز استعمال کرنے بعد ہی آپ کے  تیزابیت ختم ہوجائے گی اورآپ کااس بیماری سے ہمیشہ کےلئے جان چھوٹ جائے گی ۔ہاضمے کی خرابی اورمعدے میں ابیت،سینے کی جلن ایسے مسائل ہیں جو بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں

جس کی وجہ ہمارے کھانے پینے کی عادات ہیں۔اگر ایسا مشروب مل جائے جو جو سینے کی جلن سے نجات دے اور معدے کی تیزابیت کم کردے تو یقیناًآپ ایسا مشروب ضرور پئیں گے۔آئیے آپ کو ایسا مشروب بنانے کے طریقہ بتاتے ہیں جوچندروز استعمال کرنے سے آپ کو سینے کی جلن سے نجات دے گا۔ہاضمے کی خرابی اورمعدے میں تیزابیت،سینے کی جلن ایسے مسائل ہیں جو بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں

جس کی وجہ ہمارے کھانے پینے کی عادات ہیں۔اگر ایسا مشروب مل جائے جو جو سینے کی جلن سے نجات دے اور معدے کی تیزابیت کم کردے تو یقیناًآپ ایسا مشروب ضرور پئیں گے۔آئیے آپ کو ایسا مشروب بنانے کے طریقہ بتاتے ہیں جوچندروز استعمال کرنے سے آپ کو سینے کی جلن سے نجات دےگا۔پوری عمر بھر پور یاداشت رکھنے کے لیے

اس لیئے میں بے پردہ رہتی ہوں

جاسم صاحب کہتے ہیں، میرے پاس ایک طالبعلم لڑکی آئی اور پوچھا:طالبہ : کیا قران پاک میں کوئی ایک بھی ایسی آیت ہے جو عورت پر حجاب کی فرضیت یا پابندی ثابت کرتی ہو؟ڈاکٹر جاسم : پہلے اپنا تعارف تو کراؤطالبہ : میں یونیورسٹی میں آخری سال کی ایک طالبہ ہوں، اور میرے بہترین علم کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورت کو حجاب کا ہرگز حکم نہیں دیا، اس لیئے میں بے پردہ رہتی ہوں، تاہم میں اپنے اصل سے بالکل جڑی ہوئی ہوں اور اس بات پر اللہ پاک کا بہت بہت شکر ادا کرتی ہوں۔

ڈاکٹر جاسم : اچھا تو مجھے چند ایک سوال پوچھنے دوطالبہ : جی بالکلڈاکٹر جاسم : اگر تمہارے سامنے ایک ہی مطلب والا لفظ تین مختلف طریقوں سے پیش کیا جائے تو تم کیا مطلب اخذ کرو گی؟ طالبہ: میں کچھ سمجھی نہیں۔ڈاکٹر جاسم : اگر میں تمہیں کہوں کہ مجھے اپنا یونیورسٹی گریجوایشن کی ڈگری دکھاؤ۔آپ نے پھر کہا: یا میں تمہیں یوں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجوایشن کا رزلٹ کارڈ دکھاؤ۔آپ نے پھر کہا: یا پھر میں تمہیں یوں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجوایشن کی فائنل رپورٹ دکھاؤ- تو تم کیا نتیجہ اخذ کرو گی؟طالبہ: میں ان تینوں باتوں سے یہی سمجونگی کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور ان تینوں باتوں میں کوئی بھی تو ایسی بات پوشیدہ نہیں ہے جو مجھے کسی شک میں ڈالے کیونکہ ڈگری،

رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ سب ایک ہی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر جاسم : بس، میرا یہی مطلب تھا جو تم نے سمجھ لیا ہے۔طالبہ: لیکن آپ کی اس منطق کا میرے حجاب کے سوال سے کیا تعلق ہے؟ڈاکٹر جاسم : اللہ تبارک و تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں تین ایسے استعارے استعمال کیئے ہیں جو عورت کے حجاب پر دلالت کرتے ہیں۔طالبہ: (حیرت سے) وہ کیا ہیں اور کس طرح؟ڈاکٹر جاسم : اللہ تبارک و تعالی نے پردہ دار عورت کی جو صفات بیان کی ہیں انہیں تین تشبیہات یا استعاروں (الحجاب – الجلباب – الخمار) سے بیان فرمایا ہے

جن کا مطلب بس ایک ہی بنتا ہے۔ تم ان تین تشبیہات سے کیا سمجھو گی پھر؟طالبہ : خاموشڈاکٹر جاسم : یہ ایسا موضوع ہے جس پر اختلاف رائے تو بنتا ہی نہیں بالکل ایسے ہی جیسے تم ڈگری، رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ سے ایک ہی بات سمجھی ہو۔طالبہ: مجھے آپ کا سمجھانے کا انداز بہت بھلا لگ رہا ہے مگر بات مزید وضاحت طلب ہے۔ڈاکٹر جاسم : پردہ دار عورتوں کی پہلی صفت (اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں – وليضربن بخمرهن على جيوبهن)

باری تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو دوسری صفت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ (اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں – یايها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن)اللہ تبارک و تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو تیسری صفت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ (گر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو – وإذا سألتموهن متاعا فأسالوهن من وراء حجاب}

ڈاکٹر جاسم : کیا ابھی بھی تمہارے خیال میں یہ تین تشبیہات عورت کے پردہ کی طرف اشارہ نہیں کر رہیں؟
طالبہ: مجھے آپ کی باتوں سے صدمہ پہنچ رہا ہے۔ڈاکٹر جاسم : ٹھہرو، مجھے ان تین تشبیہات کی عربی گرائمر سے وضاحت کرنے دو۔عربی گرایمر مین “الخمار” اس اوڑھنی کو کہتے ہیں جس سے عورت اپنا سر ڈھانپتی ہے، تاہم یہ اتنا بڑا ہو جو سینے کو ڈھانپتا ہوا گھٹنوں تک جاتا ہو۔ اور “الجلباب” ایسی کھلی قمیص کو کہتے ہیں جس پر سر ڈھاپنے والا حصہ مُڑھا ہوا اور اس کے بازو بھی بنے ہوئے ہوں۔

یہودیوں کی مقدس کتاب میں یہ بات لکھی ہے، القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسرائیلی مندوب نے ایسی بات کہہ دی کہ مسلم دنیا کی تشویش میں اضافہ ہو گیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکہ کی جانب سے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کر لی، قرار داد کے حق میں 128 اور مخالفت میں صرف 9 ووٹ آئے جبکہ اس موقع پر 35 ملک غیر حاضر رہے،اس سے قبل اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے دھمکی دی تھی کہ امریکہ یہ دیکھے گا کہ کون سے ملک اقوام متحدہ میں امریکہ کے فیصلے کا احترام نہیں کرتے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یروشلم

کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔ قرار داد کے حق میں 128 اور مخالفت میں صرف 9 ووٹ آئے جبکہ اس موقع پر 35 ملک غیر حاضر رہے۔قرار داد پر رائے شماری سے پہلے بحث ہوئی

جس میں کئی ملکوں کے سفیروں نے یروشلم کے بارے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے پر اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کیا ۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ باطل اور کالعدم ہے اس لیے منسوخ کیا جائے۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے لیے پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے جائز مطالبات کی حمایت کرتا ہے۔

بیت المقدس کے بارے میں امریکہ کا فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ ہم بیت المقدس کی حیثیت بدلنے والا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ فلسطینیوں کی آخری امید ہے۔ دو ریاستی حل کے علاوہ کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا۔ پاکستان مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق قرار دار کی مکمل حمایت کرتا ہے۔رائے شماری سے پہلے فلسطینی وزیرِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا

کہ وہ دھونس اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نے ممکنہ طور پر منظور ہونے والی اس قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو جھوٹ کا گڑھ قرار دیا تھا۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے دھمکی دی تھی کہ امریکہ یہ دیکھے گا کہ کون سے ملک اقوام متحدہ میں امریکہ کے فیصلے کا احترام نہیں کرتے۔اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نکی ہیلے کا کہنا تھا کہ ہم اقوام متحدہ کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک میں بھوکے افراد کو خوراک اورکپڑے دیتے ہیں،

امریکہ اقوام متحدہ کو فنڈز دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ1995ء کے قانون کے تحت کیا گیا ہے اور امریکی مفادات کے تحت کیا گیا ہے، اس فیصلے سے قیام امن کے پالیسیوں کو خطرہ پیدا نہیں ہوگا، دنیا کے کئی ممالک امریکی مداخلت ہی کی بدولت اپنے مسائل حل کرتے ہیں اور اس قرارداد کے ذریعے امریکہ کی توہین کی گئی ہے۔اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی منظوری بھی امریکہ کو اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فلسطین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا

کہ ہم امریکاکی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں، ٹرمپ کے فیصلے کے بعدامریکاثالث کی حیثیت کھوچکاہے۔ امریکی فیصلے سے قبل سلامتی کونسل میں امریکا نے قراردادویٹو کردی تھی جبکہ سلامتی کونسل کے15میں سے 14ارکان نے قراردادکی حمایت کی تھی۔جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مندوب کا کہناتھا کہ اسرائیل نہتے فلسطنیوں کو خون میں نہا رہا ہے جبکہ ان مظالم میں امریکہ اسرائیل کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے، امریکہ نے اس سے قبل40مرتبہ اسرائیل کے حوالے سے

اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کیا ہے۔ فلسطین تمام مسلمانوں اور امن پسند لوگوں کے دل و دماغ میں بستہ ہے۔ ایران اس مشکل وقت میں فلسطینی مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی مندوب کا کہنا تھا کہ یہودیوں کی مقدس کتاب بائبل میں القدس کا تذکرہ600سے زائد مرتبہ آیا ہے، یروشلم اسرائیلی تاریخ کا حصہ ہے۔جنیوا کی قرارداد اور اقوام متحدہ کی کوئی بھی قرارداد ہمیں یروشلم کے مطالبے سے پیچھے نہیں کر سکتی،آپ لوگ اندھے ہیں اور فلسطینیوں کی کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

آپ تمام لوگ فلسطینیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ اسرائیل پر حملے اور دیگر معاملات پر اقوام متحدہ کا دوہرا معیار ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔عرب ممالک نے کئی مرتبہ اسرائیل کی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی شہریوں پر میزائیل حملے ہوئے، ہماری گلیوں کو خون میں نہلایا گیا مگر اقوام متحدہ اس موقعے پر خاموش ہورہا۔جن لوگوں نے اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کی ہے وہ دہشت گردوں کے سپانسر ہیں۔ یمن القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہا ہے مگر اقوام متحدہ اس کے حوالے سے کوئی آواز بلند نہیں کرتا۔ اسرائیلی حکومت اپنے شہریوں پر ہونے والے حملوں کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔ آج کی قرارداد تاریخ میں ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جائے گی۔

امریکہ سے آئے میاں بیوی کو والدین کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے پاکستان آنا مہنگا پڑ گیا،قبرستان میں انتہائی افسوسناک واقعہ، مقدمہ درج

تھانہ بھکی کے گاؤں کاپی میں امریکہ پلٹ خاتون اور اس کے شوہر کو تین افراد نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے ۔ بتایاگیا ہے کہ تھانہ بھکی کے علاقہ کاپی گاؤں میں امریکہ پلٹ خاتون حلیمہ بی بی اپنے شوہرعبدالغفور کے ہمراہ والدین کی قبروں پرفاتحہ پڑھنے آبائی گاؤں گئی تھی جہاں تین افراد حماد رضا، شہبازاور محمد اشرف نے ان پر اچانک حملہ کر دیااور شدید تشدد نشانہ بنانے کے بعد ان 9ہزار امریکی ڈالر اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے ۔ تھانہ بھکی پولیس نے

روزانہ یہ چیز کھانے سے آپ کا دماغ ہمیشہ جوان رہتا ہے، سائنسدانوں نے دماغ جوان رکھنے کا بہترین قدرتی نسخہ بتادیا

نیا میں ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ صحت مند رہے، نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی بھی۔ یوں تو سلاد روزمرہ کے استعمال میں آتا ہے، کبھی کھا لیا جاتا ہے تو کبھی نہیں، لیکن اگر آپ اس کے فوائد جان لیں تو آپ سلاد کو اپنی خوراک کا حصہ ہی بنا لیں،

میل آن لائن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ رش یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روزانہ سلاد کھانے سےانسان کا دماغ اس کی اصل عمر سے 11سال چھوٹا یعنی نوجوان رہتا ہے، اس کی یادداشت مضبوط رہتی ہے اور ایسا شخص بڑھاپے میں رعشے کی بیماری سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تحقیق میں سائنس دانوں نے اوسطاً 81 سال کی عمر کے 960 افراد پر تجربات کیے، سائنس دانوں نے ان کی غذائی عادات اور ان کے دماغ اور جسمانی استعداد کار پر اثرات کا جائزہ لیا اور نتائج مرتب کیے۔ تحقیقات کے بعد بتایا گیا

کہ تحقیق میں شامل جو لوگ زندگی میں پتوں والی سبزیاں یا سلاد باقاعدگی سے کھاتے رہے تھے ان کا دماغ اس عمر میں بھی ان سے 11سال کم عمر لوگوں کے برابر کام کر رہا تھا اور ان افراد میں رعشہ بھی بالکل نہیں تھا۔ دوسری جو لوگ سلاد نہیں کھاتے تھے ان کا دماغ بوڑھا ہو چکا تھا، تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ جب ہم نے صحت پر مضر اثرات مرتب کرنے والے دیگر عوامل، سگریٹ نوشی، بلند فشار خون اور موٹاپے وغیرہ کو بھی ذہن میں رکھ کر تجزیہ کیا گیا تو اس موقع پر بھی سلاد کھانے والے افراد دوسرے افراد سے نمایاں رہے۔