اگر دماغ کو صحتمند رکھنا ہیں تو فون پر ایک کام کرنا چھوڑدیں‎

ہیں آپ بھی ان لوگوں میں تو شامل نہیں جو ریسٹورنٹ میں ہوں یا بس میں سفر کررہے ہوں، ہمیشہ اپنے موبائل فون سے چمٹے رہتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو آپ کیلئے بری خبر ہے کہ کثرت سے موبائل فون کو چیک کرتے رہنے والے افراد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کی دماغی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وہ اکثر غائب د ماغی کے شکار ہوجاتے ہیں۔ ڈی مونٹ فورٹ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بار بار موبائل فون کو دیکھنے والے اور ہمہ وقت اس پر فیس بک اور دیگر سوشلمیڈیا سائٹس وزٹ کرنے

والوں میں عدم توجہی اور بھولنے کیبیماریعام پائی جاتی ہے۔ یہ لوگ بات کرنے کے دوران اکثر بھول جاتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے تھے، گھر کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جاتے ہیں تو بھولہیں تو بھول جاتے ہیں کہ وہاں کیا کرنے گئے تھےاور اسی طرح اہم کاموں اور میٹنگز وغیرہ کے بارے میں بھی بھول کر بڑا نقصان کروابیٹھتے ہیں۔ جریدے Computers in Human Behavior میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق یہ لوگ جاگتے میں خواب دیکھنے کی عادت میں بھی مبتلائ ہوتے ہیں۔

کچے انار کو صرف اس طریقے سے استعمال کریں بال ساری زندگی سفید نہیں ہونگے‎‎

انار جسے جنت کا پھل کہا جاتا ہے کسے پسند نہیں۔ جہاں اسے شوق سے کھایا جاتا ہے وہیں اس کے بے شمار فوائد بھی ہیں ۔ اگر کم عمر میں

آپ کے بال سفید ہونا شروع ہو گئے ہیںتو اب آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ بتائے ہوئےاس طریقے پر عمل کر کے اپنے بالوں کو نہ صرف کالا کر سکتے ہیں بلکہ بال ساری زندگی سفید نہیں ہونگے ۔ طریقہ کار:درمیانے سائز کا کچا انار لے کر چھری کے ساتھ اس کا سر کاٹ لیں اور اس سوراخ میں آدھا تولہ پارہ ڈال دیں ۔اس کے بعد انار کا سر جوکاٹا تھا دوبارہ دھاگے کے ساتھ اچھی طرح باندھ دیں اور اس انار کو کسی سایہ دار جگہ کے نیچے لٹکا دیں ۔ایک ہفتے بعد یعنی سات دن بعد جب انار کو کھولیں گے تو اس کا کشتہ تیار ہو چکا ہو گا ۔

اسے کسی شیشی میں نکال کر رکھ لیں۔ ہفتے میں ایک بار سونے سے پہلے ذرا سا کشتہ اور تلوں کا تیل ہتھیلی پر ڈال کر بالوں میں ہلکا سا مساج کر کےلگالیں اور صبح اٹھ کر بال کسی اچھے صابن سے دھولیں ۔ ہفتے میں ایک بار ایسا کرنے سے ہمیشہ آپ کے بال کالے ہی رہیں گے کبھی سفید ی نہیں آئے گی ۔ اگر سفید بالوں پر بھی لگائیں گے تو ان کے نیچے سے آنے والے نئے بال بالکل سیاہ ہونگے ۔یہ طریقہ آزمایا ہوا ہے ہر عمر کے مرد و خواتین اس طریقے پر عمل کر سکتے ہیں۔‎‎

دانتوں کی پیلاہٹ بھول جائیں ، چند منٹوں میں دانتوں کو سفید چمکتے موتی بنائیں

کیا آپ دانتوں کی پیلاہٹ سے پریشان ہیں ؟ کیا آپ اپنے دانتوں کے پیلے پن کی وجہ سے کھل کر مسکرانہیں پاتے ؟ کیا آپ اس مسئلے کی بنا پر اپنے دوستوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں ؟ جیسے کہ ہم جانتے ہیں آج کل دانتوں کی پیلاہٹ جیسے مسائل عام ہیں ۔ ماہرین صحت کی رائے کے مطابق ہمارے دانتوں کی پیلاہٹ کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوتی ہیں ۔

تاہم دانتوں کی پیلاہٹ کی اہم وجوہات میں ضرورت سے ذیادہ مشروبات کا استعمال، شراب نوشی، چائے ، کافی ، سیگریٹ نوشی اور منہ کی صفائیکا خیال نہ رکھنا شامل ہیں ۔یاد رکھیں دانت ایسی چیز ہیں جن کو لوگ آپ سے ملاقات کے وقت سب سے پہلے نوٹس کرتے ہیں ۔ اگرچہ اچھی صحت اور اعتماد بھی ضروری چیزیں ہیں تاہم دانت بھی آپ کی شخصیت میں چار چاند لگاتے ہیں۔دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو سفید دانت اور خوبصورت مسکراہٹ پسند نہ کرتا ہو۔لوگ اکثر اوقات اپنے دانتوں کی سفیدی کیلئے کلینکل طریقے استعمال کرتے ہیں

.جو کافی مہنگے ہوتے ہیں ۔ پس اگر آپ اپنے گھر میں اپنے دانتوں کے پیلے پن سے چھٹکارہ پانا چاہتے ہیں جو مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کر کے دیکھیں ۔دانتوں کی پیلاہٹ ختم کرنے کیلئے پہلی تجویز کھانے کا سوڈا اور لیموں کا رس ہیں ۔ اس عمل کیلئے تھوڑا سا کھانے کا سوڈا لیں اور اس میں اتنا لیموں کا رس ملائیں جس سے پیسٹ بن جائے بعداز اس پیسٹ کو ٹوتھ برش پر لگا کر آرم سے دانت برش کریں ۔ اس پیسٹ کودانتوں پر 1منٹ تک لگا رہنے دیں پھر دھو ڈالیں ۔ لیکن ایک بات خیال رکھیں کھانے کے سوڈے کا استعمال بہت ذیادہ نہ کریں کیونکہ یہ دانتوں کے داغ صاف کرنے کے بعد دانتوں کی اوپری تہہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔دوسری اہم تجویز میں سٹرابیری اور نمک کا استعمال ہے ۔

سٹرابیریز میں وٹامن سی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو دانتوں کیلئے بے حد مفید ہوتا ہے ۔ تاہم دانتوں کی صفائی کیلئے تین عدد بڑی سٹرابیریز لیں ان میں چٹکی بھر نمک ملا کر اچھی طرح مکس کر لیں ۔ اب اس پیسٹ کی خاصی مقدار دانتوں پر لگا کر برش کریں اورپانچ منٹ تک دانتوں پر لگا رہنے ۔ اس پیسٹ میں چٹکی بھر کھانے کا سوڈا بھی شامل کیا جاسکتا ہے

۔تیسری اور سب سے اہم تجویز ناریل تیل کا استعمال ہے ۔جیسے کہ ہم جانتے ہیں ناریل تیل انسانی صحت کیلئے انتہائی مفید ہے ۔ پس اس طریقے پر عمل کرنے کیلئے اتنا ناریل تیل لیں کہ آپکا منہ بھر جائے اور اسے ماؤتھ واش کی طرح منہ کے اندر حرکت دیتے رہیں اور دس سے پندرہ منٹ تک اسے منہ کے اندر رہنے بعد از پھینک دیں اور دانت برش کر لیں ۔ اس عمل کو ایک دن میں ایک مرتبہ دہرائیں ۔ ان تینوں تجاویز میں سے کسی ایک پر باقاعدہ عمل کرنے سے آپ چند دن میں واضح فرق محسوس کریں گے ۔

100 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 99 ﺁﺩﻣﯽ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ

ﺑﯿﺮﺑﻞﺍﮐﺒﺮ ﮐﺎ ﻭﺯﯾﺮ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ 100 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 99 ﺁﺩﻣﯽ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺣﯿﺮﺕ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﺼﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭ ﻭﺭﻧﮧ ﺳﺰﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺅ ۔ﺑﯿﺮﺑﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺣﻀﻮﺭ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮨﻮﮔﯽ ۔

ﺍﮔﻠﮯ ﺭﻭﺯ ﺑﯿﺮﺑﻞ ﺷﺎﮨﺮﺍﮦ ﻋﺎﻡ ﭘﺮ بیٹھ ﮐﺮ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﺑﻨﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﺎتھ ﺑﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ۔ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺎﻭﻥ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ لکھ ﺩﻭ ۔ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ۔ﯾﻮﮞ ﻟﻮﮒ ﺁﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮔﺌﮯ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﻮﺍﺗﮯ ﮔﺌﮯ ۔۔ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﮨﯽ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﮔزﺭﺍ ﺗﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﯿﺮﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻭﻥ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟکھ ﺩﯾﺎ ۔

ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮ ﭼﮭﺎ ﺧﯿﺮﯾﺖ ﮨﮯ ﺑﯿﺮﺑﻞ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﻦ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔ﺑﯿﺮﺑﻞ ﻧﮯ ﻣﻌﺎ ﻭﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺎﺩ ﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﮩﺎ ۔ﻋﺎﻟﯽ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺩیکھ ﻟﯿﺠﯿﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺩیکھ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺼﺎﺭﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ مجھ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺁﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺼﺎﺭﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ مجھ ﺳﮯ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ –

دریا کل جاری ہو جائے گا

دا ایسوں کی بھی سنتا ہے:صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ فرعون کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہا کہ بارش نہیں ہو رہی ہے اور دریائے نیل بند ہے، آپ جاری کرا دیجئے، اس لیے کہ آپ کو ہم نے معبود بنایا ہے۔ اس نے کہا اچھی بات ہے، دریا کل جاری ہو جائے گا رات کے وقت اٹھاتاج شاہی پہنااور پہنچا ’’نیل‘‘ میں یا ’’قلزم‘‘ میں۔ دریا خشک تھا، تاج زمین پر رکھا اور مٹی لی، سر پر ڈالی ،

اس نے کہا اے احکم الحاکمین! اے رب العالمین! میں جانتا ہوں کہ آپہی مالک ہیں، آپ ہی سب کچھ ہیں، میں نے ایک دعویٰ کیا اور وہ بھیغلط، آج تک آپ نے اس دعوے کو نبھایا اور ظاہر کے اعتبار سے مجھے ویسا ہی رکھا، میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آج بھی میری بات رہ جائے، خوب گڑگڑا کر دعا کی، وہ خدا ایسوں کی بھی سنتا ہے۔ بہرحال فرعون نے رو کر گڑگڑا کر عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا مانگی۔ دعا کا مانگنا تھا کہ پانی آنا شروع ہوا، سرسراہٹ محسوس ہوئی، فوراً تاج لیا اور چلا آیا اور دریائے نیل جاری ہو گیا۔

ایک مرتبہ حضرت علیؓ کی خدمت میں ایک سائل حاضر ہوا۔آپؓ نے اپنے صاحبزادہ حضرت حسنؓ سے فرمایا کہ اپنی والدہ (حضرت فاطمہؓ) سے کہو کہ میں نے جو چھ درہم تمہارے پاس رکھے ہیں، ان میں ایک درہم دے دو۔ صاحبزادے گئے اور جواب لائے کہ وہ آپ نے آٹے کے واسطے رکھوائے تھے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آدمی اپنے ایمان میں اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک کہ اپنے پاس کی موجودہ چیز سے اس چیز پر زیادہ اعتماد نہ ہو جو اللہ کے پاس ہے، اپنی والدہ سے کہو کہ وہ چھ درہم سب کے سب دے دو۔ حضرت فاطمہؓ نے تو یاد دہانی کے طور پر فرمایا تھا، ان کو اس میں کیا تامل ہو سکتاتھا،اس لیے حضرت فاطمہؓ نے دے دیے۔

حضرت علیؓ نے وہ سب سائل کو دے دئیے۔ حضرت علیؓ اپنی اپنی اس جگہ سے اٹھے بھی نہیں تھے کہ ایک شخص اونٹ فروخت کرتا ہوا آیا۔ آپؓ نے اس کی قیمت پوچھی، اس نے ایک سو چالیس درہم بتائے۔ آپ نے وہ اونٹ خرید لیا اور قیمت کی ادائیگی کا بعد وعدہ کر لیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور شخص آیا، اور اونٹ کو دیکھ کرپوچھنے لگا یہ کس کا ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میرا ہے۔ اس نے دریافت کیا کہ فروخت کرتے ہو۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ہاں،

اس نے قیمت دریافت کی۔ حضرت علیؓ نے دو سو درہم بتائے وہ خرید کر لے گیا۔حضرت علیؓ نے ایک سو چالیس درہم اپنے قرض خواہ یعنی پہلے مالک کو دے کر ساٹھ درہم حضرت فاطمۃ الزہراؓ کو لا کر دیے۔ حضرت فاطمہؓ نے پوچھا کہ یہ کہاں سے آئے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمؐ کے واسطے سے وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص نیکی کرتا ہے اس کو دس گنا بدلہ ملتا ہے۔

بالوں کو کالا اور چمکدار بنانے کیلئے تیل کے اندر صرف 3روپے کی یہ چیز خرید کرملائیں پھر کمال دیکھیں ،ہر کوئی آپ کے پیچھے پیچھے پھرے گا‎

کالے بال ہر کسی کی خواہش ہے کوئی نہیں چاہتا کہ اس کے سفید بال ہوں ،اگر آپ اپنے بالوں کو سفید کرنا چاہتے ہیں تو بس تیل میں یہ چیز ملائیں، بال ایسے کالے ہو جائینگے جیسے کبھی سفید ہوئے ہی نہ ہوں، خرچہ صرف 3 روپے، اگر آپ اپنے بالوں کا رنگ کالا سیاہ کرنا چاہتی ہیں تو آج ہی یہ تیل گھر پر بنائیں اور کالے، گھنے، مضبوط بال حاصل کریں.اجزاء:

بانگڑا سیاہ (جڑی بوٹی پنسار کی دکان سے مل جائیگی)،کڑی پتا،تل یا پھر سرسوں کا تیل،طریقہ استعمال:بانگڑا سیاہ کی جڑی بوٹی اور کڑی پتا تل یا سرسوں کے تیل میں اچھی طرح پکائیں، تیل جب کمرے کے درجہ حرارت تک ٹھنڈا ہو جاۓ تو اسے اپنے بالوں پر لگائیں، کچھ گھنٹوں بعد دھو لیں اور پھر اس کا اثر دیکھیں آپ خود ہی واضح فرق محسوس کرینگے۔

موبائل کی بیٹری پر موجود یہ خفیہ نشان جو آپکے ہزاروں روپے بچا سکتا ہے، جلدی جلدی پڑھ لیں

موبائل ایک ایسی چیز ہے جو ہر وقت کسی نہ کسی کے ہاتھ میں موجود ہوتا ہےاس کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ موبائل اپنوں سمیت دوسرے افراد کے ساتھ رابطے کا سب سے تیز اور آسان ترین ذریعہ ہے ۔تاہم موبائل کی کئی خامیاں بھی ہیں ،

جس کی وجہ سے ہمیں کئی ذہنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہزاروں روپے کا نقصان اس کے علاوہ  ہے ۔ لیکن موبائل کمپنیوں نے بہت سی فنی خرابیوں کو ڈھونڈنے کا حل بتایا ہو تا ہے تا کہ وہ موبائل فون خراب ہونے سے پہلے اس خرابی کو دور کرلیں ۔لیکن ہمیں اس سے متعلق معلوم نہیں ہوتا۔آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ موبائل فون اندر سے نمی کی وجہ سے سرکٹ شارٹ ہونے کی وجہ سے خراب ہو جاتاہے ۔ جس کی وجہ سے کوئی آئی سی یا مدر بورڈ ہی کام کرنا چھوڑ دیتاہے ۔اس کا حل کمپنی نے بیٹری میں ہی دیا ہوتا ہے ۔اکثر موبائلوں کی بیٹریوں کے کونے پر باہر کی طرف ایک نشان ہوتا ہے

جو صرف موبائل میں موجود نمی کی مقدار بتانے کے لیے ہوتا ہے ۔اگر یہ نشان بغری رنگ کے ہو تو سمجھیں آپ کے موبائل میں کسی بھی طرح کی نمی نہیں ،تاہم اگر اس کا رنگ مکمل سرخ ہویا کم سرخ دکھائی دے تو آپ سمجھ لیں آپ کے موبائل میں نمی ضرو ر ہے ،جو کسی بھی وقت موبائل کو خراب کرنے کا موجب بن سکتی ہے ۔اگر ایسا ہو توآپ اپنے  موبائل کو فوری طور پر چیک کروائیں ۔یقیناً یہ معلومات آپ کو کئی طرح کی پریشانیوں سے بچا سکتی ہیں ۔

یورپ میں نوکری ٗ عورت اور موسم کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا

وزف رافیل سے میری ملاقات ایک لائف ٹائم تجربہ تھا۔ جوزف ایمسٹرڈیم میں فاسٹ فوڈ کی سب سے بڑی کمپنی کا مالک تھا۔ شہر میں اس کے پچاس سے زیادہ ریستوران تھے ٗ وہ دن میں آدھ گھنٹہ کیلئے اپنے کسی ریستوران پر جاتا ٗ اپنے کارکنوں سے ملتا ٗ ان کے ساتھ گپ شپ لگاتا اور اگلے ریستوران کی طرف نکل جاتا ٗ شام کو وہ ’’ڈیم سکوائر‘‘ کے ایک ریستوران میں بیٹھتا ٗ کافی پیتا ٗ اپنے دوستوں کے ساتھ گپ لگاتا اور گھر چلا جاتا ٗ یہ اس کا معمول تھا ٗ میرا ایک دوست اس کے ریستوران میں کام کرتا تھا ٗ

میرا یہ دوست 1990ء میں ہالینڈ گیا تھا ٗ اس نے جوزف کے پاس نوکری شروع کی تھی اور اس کے بعداس نے 16 سال جوزف کے ساتھ گزار دئیے ٗ میں اس کی مستقل مزاجی پر حیران تھا یورپ میں ایک ہی ادارے اور ایک ہی نوکری سے چپکے رہنے کو نفسیاتی مرض سمجھا جاتا ہے ٗ یورپ کے بارے میں کہا جاتا ہے وہاں نوکری ٗ عورت اور موسم کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا لیکن میرے اس دوست نے یورپ کے اس فلسفے کو بدل دیا ٗ اس نے 16 سال ایک ہی ریستوران کے کاؤنٹر پر گزار دئیے ٗ میں نے ایک دن اس سے اس کی وجہ پوچھی ٗ وہ مسکراکر بولا’’صرف جوزف کی وجہ سے‘‘

مجھے بڑی حیرت ہوئی ٗ میرے دوست نے اپنی بات جاری رکھی’’صرف میں نہیں بلکہ آج تک جس شخص نے بھی جوزف کو جوائن کیا وہ اسے چھوڑ کر نہیں گیا‘‘ میرے لئے یہ بات بھی حیران کن تھی ٗ میں نے اپنے دوست سے وجہ پوچھی ٗ وہ مسکرا کر بولا ’’جوزف ہر شام ہمارے ریستوران میں آتا ہے‘کافی پیتا ہے اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتا ہے ٗ میں آج اس کے ساتھ تمہاری ملاقات طے کر دیتا ہوں ٗ تم اس سے خود پوچھ لینا۔‘‘ میں نے فوراً حامی بھر لی۔ جوزف کے ساتھ میری ملاقات طے ہو گئی ٗ شام چھ بجے جوزف وہاں آ گیا ٗ وہ ایک کٹڑ یہودی تھا ٗ اس کی ناف تک لمبی داڑھی تھی ٗ

سر پر سیاہ ہیٹ اور گھٹنوں تک لمبا کوٹ تھا ٗ اس کے ہاتھ میں قیمتی پتھروں کی چھوٹی سی تسبیح تھی اور وہ وقفے وقفے سے عبرانی زبان میں کچھ بڑبڑاتا تھا ٗ میرے دوست نے مجھے اس کے سامنے بٹھا دیا ٗ میں نے جوزف کا غور سے جائزہ لیا ٗ مجھے اس کی شخصیت میں ایک ان دیکھی کشش محسوس ہوئی ٗ وہ دھلادھلایا سا نرم مزاج شخص تھا ٗ اس نے میرے ساتھ گپ شپ شروع کر دی ٗ وہ مختلف موضوعات پر سوال کرتا اورمیرے جوابوں میں سے نئے سوال نکالتا ٗ

سوال و جواب کے اس سلسلے کے دوران میں نے اس کے ملازمین کا حوالہ دیا اور اس سے پوچھا ’’آپ کے ملازم آپ کو چھوڑتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ مسکرایا ’’میں ملازمین کا انتخاب بڑی احتیاط سے کرتا ہوں ٗ میرا اپنا کرائیٹریا ہے اور جو شخص اس کرائیٹریا پر پورا نہیں اترتا میں اسے ملازم نہیں رکھتا‘‘ میں خاموشی سے سنتا رہا ٗ وہ بولا ’’جب کوئی شخص میرے پاس نوکری کے لئے آتا ہے تو میں اس سے پوچھتا ہوں ٗ کیا تم عبادت کرتے ہو ٗ اگر وہ ہاں میں جواب دے

وضو کے پانی سے جوڑوں کا درد ہمیشہ کیلئے ختم یہ مذاق نہیں ،آج ہی اس ٹوٹکے کو آزمائیں‎

وضو کا پانی جوڑوں کے درد سے نجات کا ذریعہ بن گیا ۔عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ہم نماز یا کسی اور کام کیلئے وضو کرتے ہیں تو وضو کے تقریباً چار پانچ منٹ بعد تک وضو کا پانی داڑھی اور چہرے وغیرہ پر ٹکا رہتا ہے اس کو اگر جوڑوں کے درد والی جگہ پر مالش کے انداز میں مل لیں تو شفاء ملے گی۔ ایک اور

بات جن حضرات کی داڑھی نہیں ہے وہ داڑھی رکھیں اور پھر اس ٹوٹکے کو آزما کر دیکھیں ۔دوسری جانب ۔خواتین کی خدمت میں بھی عرض ہے کہ ان کے چہرے پر جو وضو کا پانی بچ جاتا ہے وہ اپنی مطلوبہ درد والی جگہ پر ملیں ان شاء اللہ ان کو ہر قسم کی تکلیف سے نجات ملے گی۔آپ بھی یہ طریقہ استعمال کر کے دیکھیں آپ کو شفا ملے گی۔

مس شادی اور پیار میں کیا فرق ہے؟‎

ایک بار ایک لڑکا اپنی ایک ٹیچر کے پاس گیا اور ان سے پوچھا کہ مس شادی اور پیار میں کیا فرق ہوتا ہے؟ وہ بولی کہ اس کا جواب میں تمہیں ایک تجربے کی روشنی میں سکھاؤں گی۔ ایک گندم کے کھیت میں جاؤ اور وہاں سے گندم کا ایک ایسا خوشہ توڑ کر لاؤ جو تمہیں سب سے بڑا اور شاندار لگے پر ایک شرط ہے کہ ایک بار آگے چلے گئے تو کھیت میں واپس جا کر کوئی پرانا گندم کا خوشہ نہیں توڑ سکتے،مثال کے طور پر تم نے ایک بہت بڑا خوشہ دیکھا لیکن تمہیں

لگے کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے اور تم اس کو چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہو اور آگے کوئی خوشہ اس جتنا بڑا نہیں ملتا تو اب تم واپس لوٹ کر اس والے کو نہیں لے سکتے۔وہ گیا اور بغل والے کھیت میں چھانٹی کرنے لگا، ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ چوتھائی کھیت میں چھانٹی کر کے اس کو بہت سے بڑ ے بڑے گندم کے خوشے نظر آئے لیکن اس نے ان میں سے کسی کو چننے کے بچائی سوچا کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے

اس میں اس سے بھی بڑے مل جائیں گے، جب اس نے سارا کھیت دیکھ لیا تو آخر میں اس کو سمجھ آئی کہ بالکل شروع میں جو خوشے اس نے دیکھے تھےوہی سب سے بڑے بڑے تھے اور اب وہ واپس تو جا نہیں سکتا تھا، سو وہ اپنی میڈم کے پاس خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا۔ اُس کی میڈم نے پوچھا کہ کدھر ہے سب سے بڑا گندم کا خوشہ، وہ بولا کہ میں آگے نکل گیا تھا اس امید میں کہ شاید کوئی اور بہتر والا مل جائے گا

مگر جب تک سمجھ آیا ، میں آگے آگیا تھا اور واپس تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔ اس کی میڈم نے بولا کہ بیٹے سمجھ جاؤ کہ یہ معاملہ ہی محبت میں ہوتا ہے، آپ جوان ہوتے ہو، کم سن اور پر جوش بہتر سے بہتر کی تلاش میں ایک عمر گزار دیتے ہو تو پتہ چلتا ہے کہ جو بیچ میں چھوڑ دیے تھے وہی لوگ اصل میں بہت انمول تھے

لیکن اب آپ ان کو واپس حاصل نہیں کر سکتے تو پچھتاتے ہو۔ اب ایک کام کرو ساتھ والے چھلی کے کھیت میں جاؤ اور ادھر سے سب سے بڑی چھلی لے کر آؤ جو تمہیں مطمئن کر سکتی ہو۔وہ گیا اور لگا مکئی کے کھیت کی چھانٹی کرنے۔ ابھی تھوڑا ہی کھیت دیکھا تھا کہ ایک درمیانی چھلی اس کو ٹھیک لگی اور اس نے سوچا کہ پھر پہلے والی غلطی نہ کر بیٹھوں، تو وہ اسی کو لے آیا۔میڈم نے بولا اب کی بار آپ خالی ہاتھ نہیں لوٹے؟ اس نے بولا، مجھے لگا

کہ اس سے بڑی بھی ہوں گی مگر میرے لیے یہی بہتر تھی اور اگر آگے اس سے بھی چھوٹی ہوتیں تو میں واپس بھی تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔میڈم بولی: یہ ہے شادی کا معاملہ، جو آپ کو ایسی لگے کہ یہ مجھے مطمئن کر رہی ہے، اس کا سب سے شاندار ہونا ضروری نہیں، اور یہ بات ہمیشہ آپ کو آپ کی ماضی کی محبتوں کے تجربے سکھاتے ہیں۔ اب آپ سمجھے کہ محبت اور شادی میں کیا فرق ہوتا ہے۔