’’بخاری شریف‘‘

حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نوعمری میں ہی اپنے علم کی وجہ سے مشہور ہو چکے تھے۔ایک دفعہ کچھ محدثین نے ان کا امتحان لینے کا ارادہ کیا. چنانچہ ان محدثیں نے دس دس احادیث اس طرح یاد کیں کہ ہر حدیث کی سند اور متن کو کسی دوسری حدیث کے متن کے ساتھ خلط ملط کر دیا. سند ایک کی متن، دوسری کا، اسی طرح ایک ٹکڑا ایک حدیث کا اور دوسرا دوسری کا.وہ تعداد میں دس تھے اور ہر ایک نے دس احادیث یاد کیں. جب وہ احادیث کو اپنے منصوبے کے تحت یاد کر چکے تو

وہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس پہنچے، ان میں سے ایک نے تحریر پڑھی تو آپ نے فرمایا:’’لا ادری (میں نہیں جانتا).‘‘وہاں موجود لوگ یہ سن کر حیران رہ گئے. وہ محدث باری باری ان کے سامنے احادیث پڑھنے لگے۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ ان کی ہر حدیث کے جواب میں ایک ہی جواب دیتے کہ میں نہیں جانتا.امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ گو اس وقت نو عمر تھے، لیکن قوت حافظہ اور علم حدیث کی دھاک لوگوں پر بیٹھ چکی تھی. یہی وجہ تھی کہ وہاں بہت سے لوگ جمع ہو گئے تھے. ادھر امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ ہر حدیث کے جواب میں لاادری یعنی میں نہیں جانتا، کہہ رہے تھے.

وہ حیران و پریشان تھے. ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ محدثین کو کوئی جواب کیوں نہیں دے رہے۔جب وہ دس محدث اپنی سو احادیث پڑھ چکے تو امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ گویا ہوئے۔’’سنئے! اب آپ کی احادیث میں پڑھتا ہوں.‘‘امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے محدثین کی سنائی گئی سو کی سو احادیث صحیح سند اور متن کے ساتھ سنا دیں۔ یہ سب دیکھ اور سن کر ان محدثین سمیت وہاں موجود سب حیران رہ گئے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ کے حافظہ اور علم حدیث پر آپ کے عبور کا یہ صرف ایک واقعہ ہے۔امام بخاری فرماتے ہیں

کہ میں نے کوئی حدیث اس کتاب میں اس وقت تک داخل نہیں کی جب تک غسل کر کے دو رکعت نماز ادا نہ کر لی ہو۔ بیت اللہ شریف میں اسے میں نے تالیف کیا اور دو رکعت نماز پڑھ کر ہر حدیث کے لئے استخارہ کیا۔ مجھے جب ہر طرح اس حدیث کی صحت کا یقین ہوا، تب میں نے اس کے اندارج کے لئے قلم اٹھایا۔ اس کو میں نے اپنی نجات کے لئے جحت بنایا ہے۔اور چھ لاکھ حدیثوں سے چھانٹ چھانٹ کر میں نے اسے جمع کیا ہے۔

احادیث کی وجہ سے آپ نے ہمیشہ اپنے کردار کے بے داغ ہونے اور لوگوں کی باتوں اور بغض کیخلاف بھی عظیم جدوجہد کی علامہ عجلونی نے آپ کی ثقاہت کے بارے میں یہ عجیب واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ آپ دریا کا سفر کر رہے تھے اور آپ کے پاس ایک ہزار اشرفیاں تھیں۔ایک رفیق سفر نے عقیدت مندانہ راہ و رسم بڑھا کر اپنا اعتماد قائم کر لیا۔ حضرت امام بخاری نے اپنی اشرفیوں کی اسے اطلاع دے دی۔ ایک روز آپ کا یہ رفیق سو کر اٹھا تو اس نے با آواز بلند رونا شروع کر دیا اور کہنے لگا

کہ میری ایک ہزار اشرفیاں گم ہو گئی ہیں۔ چنانچہ تمام مسافروں کی تلاشی شروع ہوئی۔حضرت امام نے یہ دیکھہ کر کہ اشرفیاں میرے پاس ہیں اور وہ ایک ہزار ہیں۔تلاشی میں ضرور مجھ پر چوری کا الزام لگایا جائے گا۔ اور یہی اس کا مقصد تھا۔ امام نے یہ دیکھ کر وہ تھیلی سمندر کے حوالہ کر دی۔ امام کی بھی تلاشی لی گئی۔ مگر وہ اشرفیاں ہاتھ نہ آئیں اور جہاز والوں نے خود اسی مکار رفیق کو ملامت کی۔ سفر ختم ہونے پر اس نے حضرت امام سے اشرفیوں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے ان کو سمندر میں ڈال دیا۔b

’’سمارٹ فون میں موجود قرآن ایپ‘‘ کیا اس طرح قرآن کریم پڑھنے کیلئے باوضو ہونا ضروری ہے؟فتویٰ آگیا

 موبائل میں قرآن کریم پڑھنا اور سننا آج کل عام ہوتا جا رہا ہے جبکہ دینی مسائل کا علم نہ ہونے کے باعث ایک طبقہ موبائل میں قرآن رکھنا اور اس پر تلاوت سننے اور کرنے کو ممنوع جبکہ دوسرا طبقہ اس حوالے سے نہایت بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے مکتبہ فکر دیوبند سے تعلق رکھنے والے ادارہجامعہ فاروقیہ کراچی کے درالافتا کے مفتیان کا موبائل قرآن ایپ اور اس سے متعلق ضروری احکامات سے متعلق ایک فتویٰ سامنے آیا ہے

جو کہ ادارہ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے جس میں تفصیل سے موبائل فون پر قرآن پڑھنے، سننے اور رکھنے سے متعلق مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے جدید ایجادات کو اس حوالے سے بروئے کار لانے کے طریقہ کار کی تشریح کی گئی ہے۔جامعہ فاروقیہ کراچی کی ویب سائٹ پر جاری فتویٰ میں کہا گیا ہےکہ جب قرآن کریم موبائل یا میمو ری کارڈ کے اندر ہو یعنی اس کو اسکرین پر کھولا نہ گیا ہو تو اس وقت چونکہ قرآن کریم حروف ونقوش کی صورت میں موجود نہیں اس لیے اس کو ہاتھ لگانے کے لیے باوضو ہونا ضروری نہیں۔اورجب موبائل یا میموری کارڈ میں موجود قرآن کریم کو اسکرین پر کھولا جائے تو اس وقت چونکہ اسکرین پر موجود نقوش قرآن کریم کے الفاظ پر دلالت کرتے ہیںتو اس وقت اسکرین پر ہاتھ لگانے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے

او راس صورت میں چونکہ قرآن کریم کا صرف وہی حصہ حروف کی شکل میں ہے جو اسکرین پر نظر آرہا ہے ، لہٰذا اسکرین کو ہاتھ لگانا طہارت کے بغیر جائز نہ ہو گا اور اسکرین کے علاوہ موبائل کے بقیہ حصوں کو ہاتھ لگانا جائز ہو گا، البتہ عظمت قرآن کاتقاضا اورمناسب یہی ہے کہ جب تلاوت کے لیےموبائل کی اسکرین پر قرآن کریم کو کھولا جائے تو باوضو ہو کر کھولا جائے ۔او رٹچ سکرین موبائل میں قرآن کریم کھولنے سے پہلے لازمی وضو کا اہتمام کیا جائے۔جس موبائل میںمحفوظ قرآن کریم کھلا ہے اور اسے شلواریا پتلون کی جیب میں رکھ لیا جائے

تو یہ بے ادبی کے زمرے میں آئے گا البتہاگر قرآن کریم موبائل کی میموری میں محفوظ ہے اور اسے موبائل سکرین پر کھولا نہیں گیا تو پھر شلوار، پتلون کی جیب میں رکھنے میں حرج نہیں۔جس موبائل میں قرآن کریم محفوظ ہے اگر وہ بند ہے یا وہ پروگرام بند ہے جس میں قرآن کریم محفوظ ہے تو بند ہونے کی صورت میں بیت الخلاء لے جانے میں حرج نہیں۔ جس موبائل میں قرآن کریم محفوظ ہے اور اس میں گانے، فلمیں یا دوسری خرافات موجود ہیں تو یہ چیزیں ایسے موبائل میں رکھنا قرآن کریم کی سخت توہین اور بے ادبی کے زمرے میں آئے گا جس سے اجتناب برتناضروری ہے۔

انسان جب اس طرح مرنے لگیں تو سمجھ لینا کہ قیامت قریب ہے ۔۔ ہادی برحق ﷺ نے قرب قیامت کی وہ کون سی نشانی بتائی جو آج پوری ہو رہی ہے ؟

قیامت مسلمانوں کے بنیادی عقائد میں سے ایک انتہائی اہم عقیدہ ہے اور اس پر ایمان لائے بغیر کوئی بھی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔قیامت کا وقت اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے مخفی رکھا ہے اور کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ قیامت کب آئے گی تاہم اللہ کے نبی ﷺ نے مسلمانوں کو بخشش کا موقع دیتے ہوئے  کچھ نشانیاں بتائیں ہیں۔ان کے بارے میں حدیث شریف میں ارشاد کیا ہے کہ جب یہ واقعات رونما ہوجائیں

تو سمجھ لینا کہ قیامت بہت نزدیک آچکی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کی سب سے پہلی نشانیمیرا انتقال ہے۔ قیامت کی دوسری نشانی آپ ﷺ نے فلسطین ( موجودہ اسرائیل کے قبضے میں) میں واقع بیت المقدس کی فتح ہے۔۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی مسلمان اس علاقے کو فتح کرچکے ہیں۔تیسری نشانی یہ ہے کہ انسان جانوروں جیسی موت مرنے لگیں گے اور گردن توڑ بخار جیسی بیماریاں عام ہوجائیں گی۔آثارِ قیامت میں سے چوتھا یہ ہے کہ مال کا پھیلاؤ بے پناہ بڑھ جائے گا‘ یہاں تک کہ کسی شخص کو سو دینار بھی د یے جائیں گے تب بھی وہ ناراض ہی رہے گا۔پانچویں نشانی یہ ہے

کہ قیامت سے پہلے ایک فتنہ کھڑا ہوگا جو عربوں گھر گھرمیں داخل ہوجائے گا اور کوئی بھی گھر اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔چھٹی اور آخری نشانی یہ ہے کہ’تمہارے(مسلمانوں) اور بنو اصفر (اہل روم) کے درمیان صلح ہوگی پھر وہ بے وفائی کریں گے اور 80 جھنڈے لے کر مسلمانوں پر چڑھ دوڑیں گے ۔قیامت کی ان نشانیوں کے ذہن میں رکھیےاوریہ بھی یادرکھیے کہ آثارِ قیامت میں سے ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا بھی ثابت ہے اور جس دن یہ نشانی پوری ہوگی اس دن اللہ تعالیٰ توبہ کا دروازہ بند کردے گا‘ پھر کسی کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ اس لیے ہر وقت اللہ سے استغفار طلب کرتے رہیے اور لازمی دعا کا حصہ بنائیے کہ وہ ہمارا اور آپ کا خاتمہ بالخیر کرے۔

آتش نمرود میں حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ دوسری شخصیت کون تھیں؟۔۔ حق و یقین کا حیرت انگیز واقعہ

یوں تو حق کی خاطر حضرت ابراہیم ؑ کا آتش نمرود میں کود جانے کا واقع زبان زدعام ہے اور خود حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت ابراہیم ؑ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا واقع بتاتے ہوئےانہیں خلیل اللہ کے لقب سے نوازا ہے مگر بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ آتش نمرود کے گلزار کی خوشبوصرف حضرت ابراہیمؑ نے ہی نہیں سونگھی تھی بلکہ ایک اور شخصیت بھی اس آگ میں آپ کے ہمراہ تھا

جس کو رب تعالیٰ نے آنیوالی نسلوں کیلئے محترم بنا دیا۔ یوں تو حضرت سارہؑ نے بھی عشق الٰہی اورنبی کی محبت میں نمرود کے خلاف احتجاجاََآتش نمرود میں حضرت ابراہیمؑ کی ہمراہی کی استدعا کرتے ہوئے کودنے کی کوشش کی تھی مگر آپ ؑ کے والد اور دیگر لوگوں نے آپ کو ایسا نہ کرنے دیا، حضرت سارہؑ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ کے نکاح میں نہ آئی تھیں۔یہ سعادت کا مقام بھی عجیب ہے رب کائنات جسے چاہتا ہے عنایت فرما دیتا ہے۔ آتش نمرود میں حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ کوئی اور نہیں بلکہ نمرود کی ہی نو عمر بیٹی بھی تھی۔ واقعہ کچھ ایسے ہے کہ نمرود کی کم سن بیٹی نے اپنے باپ سے کہا۔

ابا جان ! مجھے اجازت دیں کہ میں ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جلتاہوا دیکھوں۔نمرود نے اجازت دے دی اور اس نے آگ کے قریب پہنچ کر ابراہیم علیہ السلام کود یکھا کہ آپ کے اردگرد آگ بھڑک رہی ہے ۔ اس نے کسی اونچی جگہ پر چڑھ کردیکھا تو آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے تھے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام بالکل صحیح سالم تشریف فرماتھے ۔اس نے حیران ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سوال کیا کہ اتنی بڑی آگ تمہیں جلاتی کیوں نہیں ۔ آپ ؑ نے فرمایا جس کی زبان پر بسم اللہ الرحمن الرحیم جاری ہواور دل میں خدا کی معرفت کا نور ہو۔ اس پر آگ کاا ثر نہیں ہوتا۔ نمرود کی بیٹی نے جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ کے بھڑکتے شعلوں میں بھی مطمئن اور خوش و خرم پایا تو بولی ۔اے ابراہیم ؑ! میں بھی تمہارے پاس آناچاہتی ہوں۔

مگرچاروں طرف تو آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں آؤں کیسے ؟آپؑ نے فرمایا۔ لاالہ الااللہ ابراہیم خلیل اللہ ۔ کہہ کربے خوف چلی آؤ۔ نمرود کی بیٹی نے اس پاک کلمے کو پڑھا۔ اور فوراََ آگ میں کود پڑی ۔ خدا کی قدرت آگ اس پر سردہوگئی ۔ اور وہ اس میں صحیح سالم زندہ رہی۔ جب ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے اپنے گھر واپس آئی اور باپ کوساری سرگذشت سنائی تو نمرود سیخ پا ہو گیا

پہلے تو اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ میں تیرے بھلے کی بات کہتا ہوں دین ابراہیم علیہ السلام سے باز آ۔ اور بتوں کی پوجا سے منہ نہ پھیریوورنہ اچھا نہ ہوگا۔ نمرود نے اگرچہ اپنی بیٹی کو بہت ڈرایا دھمکایا مگر اس نے ایک نہ مانی۔ آخر ملعون نمرود نے اس خدا کی پیاری پرظلموں کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ جب سختیاں حد سے بڑھ گئیں تو خدا کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام آئے اور خدا کی پیاری کو وہاں سے اٹھا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچا دیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لڑکے کے نکاح میں دے دیا۔ جس سے اولوالعزم پیغمبر پیدا ہوئے ۔

امریکیوں کو پتہ بھی نہ تھا کہ وہ کھربوں ڈالر لگا کے جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کے ایک معجزے کو آج کی دنیا پر سچ ثابت کرنے جا رہے ہیں۔

امریکیوں کو پتہ بھی نہ تھا کہ وہ کھربوں ڈالر لگا کے جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کے ایک معجزے کو آج کی دنیا پر سچ ثابت کرنے جا رہے ہیں۔۔ نبی کریم ﷺ کا وہ معجزہ کون سا تھا جس پر انجانے میں غیر مسلموں نے اتنا خرچہ کیا ؟ ایمان افروز واقعہڈاکٹرزغلول النجارکنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ میں ماہر ارضیات کے پروفیسرہیں۔ قرآن مجید میں سائنسی حقائق کمیٹی کے سربراہ ہیں ۔

اورمصرکی سپریم کونسل آف اسلامی امور کی کمیٹی کے بھی سربراہ ہیں۔انہوں نے میزبان سے کہاکہ اس آیت کریمہ کی وضاحت کے لیے میرے پاس ایک واقعہ موجود ہے ۔انہوں نے اس واقعہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ میں برطانیہ کے مغرب میں واقع کارڈ ف یونیورسٹی میں ایک لیکچر دے رہا تھا ۔جس کوسننے کے لیے مسلم اور غیر مسلم طلبا ءکی کثیر تعداد موجود تھی ۔قرآن میں بیان کردہ سائنسی حقائق پر جامع انداز میں گفتگو ہورہی تھی کہ ایک نو مسلم نوجوان کھڑ ا ہوا اور مجھے اسی آیت کریمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سر کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور فرمایا ہے

، کیا یہ قرآن میں بیان کردہ ایک سائنسی حقیقت نہیں ہے ۔ڈاکٹر زغلول النجار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں! کیونکہ سائنس کی دریافت کردہ حیران کن اشیاءیا واقعات کی تشریح سائنس کے ذریعے کی جاسکتی ہے مگر معجزہ ایک مافوق الفطرت شے ہے ،جس کو ہم سائنسی اصولوں سے ثابت نہیں کرسکتے ۔چاند کا دوٹکڑے ہوناایک معجزہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت محمد ی ﷺ کی سچائی کے لیے بطوردلیل دکھایا ۔حقیقی معجزات ان لوگوں کے لیے قطعی طورپر سچائی کی دلیل ہوتے ہیں جو ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہم اس کو اس لیے معجزہ تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر قرآن وحدیث میں موجود ہے ۔اگر یہ ذکر قرآن وحدیث میں موجودنہ ہوتاتو ہم اس زمانے کے لو گ اس کو معجزہ تسلیم نہ کرتے ۔

علاوہ ازیں ہمار ااس پر بھی ایمان ہے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتاہے ۔پھر انہوں نے چاند کے دوٹکڑے ہونے کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ احادیث کے مطابق ہجرت سے 5سال قبل قریش کے کچھ لوگ حضور ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اللہ کے سچے نبی ہیں تو ہمیں کوئی معجزہ دکھائیں ۔حضور ﷺ نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟انہوں نے ناممکن کام کا خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس چاند کے دو ٹکڑے کر دو۔چناچہ حضور ﷺ نے چاند کی طرف اشارہ کیا

اور چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے حتٰی کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا یعنی اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اورایک ٹکڑا اس طرف ہو گیا۔ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اورآپ ﷺ نے فرمایا دیکھو ،یادرکھنا اور گواہ رہنا۔کفار مکہ نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ ابن ابی کبشہ یعنی رسول اللہ ﷺ کا جادو ہے ۔کچھ اہل دانش لوگوں کا خیال تھا کہ جادو کا اثر صرف حاضر لوگوں پر ہوتاہے ۔اس کا اثر ساری دنیا پر تو نہیں ہو سکتا ۔چناچہ انہوں نے طے کیا

کہ اب جولوگ سفر سے واپس آئیں ان سے پوچھو کہ کیا انہوں نے بھی اس رات چاند کو دو ٹکڑے دیکھاتھا۔چناچہ جب وہ آئے ان سے پوچھا ،انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کے دوٹکڑے ہوتے دیکھاہے ۔کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو حضور ﷺ کی سچائی میں کوئی شک نہیں ۔اب جو باہر سے آیا ،جب کبھی آیا ،جس طرف سے آیا ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے ۔ا س شہاد ت کے باوجود کچھ لوگوں نے اس معجزے کا یقین کرلیا

مگر کفار کی اکثریت پھر بھی انکار پر اَڑی رہی۔اسی دوران ایک برطانوی مسلم نوجوان کھڑا ہوا اور اپنا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ میر انام داود موسیٰ پیٹ کاک ہے۔میں اسلامی پارٹی برطانیہ کا صدر ہوں۔وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا کہ سر !اگر آ پ اجازت دیں تو اس موضوع کے متعلق میں بھی کچھ عرض کرنا چاہتاہوں ۔مَیں نے کہا کہ ٹھیک ہے تم بات کرسکتے ہو!اس نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے جب میں مختلف مذاہب کی تحقیق کر رہا تھا،

ایک مسلمان دوست نے مجھے قرآن شریف کی انگلش تفسیر پیش کی ۔مَیں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اُسے گھر لے آیا ۔گھر آکر جب میں نے قرآن کو کھولا تو سب سے پہلے میری نظر جس صفحے پر پڑی وہ یہی سورة القمر کی ابتدائی آیات تھیں ۔ان آیات کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کے بعدمیں نے اپنے آپ سے کہا کہ کیا اس بات میں کوئی منطق ہے ؟کیا یہ ممکن ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوں اور پھر آپس میں دوبارہ جڑ جائیں ۔وہ کونسی طاقت تھی کہ جس نے ایسا کیا ؟ان آیات کریمہ نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا

کہ میں قرآن کامطالعہ برابرجاری رکھوں ۔کچھ عرصے کے بعد مَیں اپنے گھریلو کاموں میں مصروف ہوگیا مگر میرے اندر سچائی کو جاننے کی تڑپ کا اللہ تعالیٰ کو خوب علم تھا ۔یہی وجہ ہے کہ خدا کا کرنا ایک دن ایساہوا کہ میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا ۔ ٹی وی پر ایک باہمی مذاکرے کا پروگرام چل رہاتھا ۔جس میں ایک میزبان کے ساتھ تین امریکی ماہرین فلکیات بیٹھے ہوئے تھے ۔ٹی وی شو کا میزبان سائنسدانوں پر الزامات لگا رہا تھا کہ اس وقت جب کہ زمین پر بھوک ،افلاس ،بیماری اورجہالت نے ڈھیرے ڈھالے ہوئے ہیں ،

آپ لوگ بے مقصد خلا میں دورے کر تے پھررہے ہیں۔جتنا روپیہ آپ ان کاموں پر خرچ کر رہے ہیں وہ اگر زمین پر خرچ کیا جائے تو کچھ اچھے منصوبے بنا کر لوگوں کی حالت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے اور اپنے کام کا دفاع کرتے ہوئے اُن تینوں سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ یہ خلائی ٹیکنالوجی زندگی کے مختلف شعبوں ادویات ، صنعت اور زراعت کو وسیع پیمانے پر ترقی دینے میں استعما ل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم سرمائے کو ضائع نہیں کررہے

بلکہ اس سے انتہائی جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے میں مدد مل رہی ہے ۔جب انہوں نے بتایا کہ چاند کے سفر پر آنے جانے کے انتظامات پر ایک کھرب ڈالر خرچ آتاہے تو ٹی وی میزبان نے چیختے ہوئے کہا کہ یہ کیسافضول پن ہے ؟ایک امریکی جھنڈے کو چاند پر لگانے کے لیے ایک کھرب ڈالر خرچ کرنا کہا ں کی عقلمندی ہے ؟سائنسدانوں نے جوابا ً کہا کہ نہیں ! ہم چاند پر اس لیے نہیں گئے کہ ہم وہاں جھنڈا گاڑ سکیں بلکہ ہمارا مقصد چاند کی بناوٹ کا جائزہ لیناتھا ۔دراصل ہم نے چا ند پر ایک ایسی دریافت کی ہے کہ جس کا لوگوں کویقین دلانے کے لیے ہمیں اس سے دوگنی رقم بھی خرچ کرنا پڑسکتی ہے۔مگر تاحال لوگ اس بات کو نہ مانتے ہیں اور نہ کبھی مانیں گے۔میزبان نے پوچھا کہ وہ دریافت کیا ہے؟

انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک دن چاند کے دوٹکڑے ہوئے تھے اورپھر یہ دوبارہ آپس میں مل گئے۔میزبان نے پوچھاکہ آپ نے یہ چیز کس طرح محسوس کی ؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے تبدیل شدہ چٹانوں کی ایک ایسی پٹی وہا ں دیکھی ہے کہ جس نے چاند کو اس کی سطح سے مرکز تک اور پھر مرکز سے اس کی دوسری سطح تک، کو کاٹا ہوا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس بات کا تذکرہ ارضیاتی ماہرین سے بھی کیا ہے۔ ان کی رائے کے مطابق ایسا ہرگز اس وقت تک نہیں ہوسکتا کہ کسی دن چاند کے دو ٹکڑے ہوئے ہوں اور پھر دوبارہ آپس میں جڑبھی گئے ہوں۔

’’میں مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھتا تھااورانہیں مارنے کیلئے امریکی فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا تھا‘‘

 ابراہیم کلنگٹن نامی نو مسلم امریکی نوجوان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ 9/11کے واقعے کے بعد میں نے سنا کہ مسلمان امریکہ پر مزید حملے کرنا چاہتے ہیں اور مسلمان دہشتگرد ہیں ، اس سے قبل میں لفظ دہشتگرد سے واقف نہیں تھا۔ میں نے اس وقت یہ تہیہ کیا کہ میں مسلمان دہشتگردوں سے اپنے ملک ، اپنے خاندان اور دیگر لوگوں کو بچانے کیلئے امریکی آرمی میں شمولیت اختیار کروں گا اور

امریکہ فوج میں رہ کر بہت سے مسلمانوں کا ماروں گا۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ میں امریکہ کا سرکاری ریڈیو سٹیشن سن رہا تھا جس میں آپ ﷺ کی زندگی کی بارے میں بات چیت کی جا رہی تھی کہ کس طرح آپ ﷺ نے زندگی گزاری اور محبت و امن کا درس دیا۔ آپ ﷺ کی حیات طیبہ انسانوں کیلئے عملی نمونے کا شاہکار ہے۔ ابراہیم کا کہنا تھا کہ میں نے آپ ﷺ کے بارے میں یہ سب کچھ سنا تو میں حیران رہ گیا۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں مسلمانوں کی مسجد میں جاکر دیکھوں گا، پھر میرا دل مزید تحقیق پر ایسا پلٹا کہ میں جو پہلے مسلمانوں کو قتل کرنا چاہتا تھا،

اب خود مسلمان ہو گیا، میں آپ ﷺ کی تعلیمات اور حیات طیبہ سے بہت متاثر ہوں، میں نے یہ سیکھا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور اسی کا درس دیتا ہے۔ اکثر لوگ اسلام کا صحیح تشخص اجاگر نہیں کرتے اور بہت سے لوگوں نے بے بنیاد اسلام کو دہشتگرد مذہب قرار دیا ہوا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے اس وقت یہ تہیہ کیا کہ میں مسلمان دہشتگردوں سے اپنے ملک ، اپنے خاندان اور دیگر لوگوں کو بچانے کیلئے امریکی آرمی میں شمولیت اختیار کروں گا اور امریکہ فوج میں رہ کر بہت سے مسلمانوں کا ماروں گا۔ابراہیم کلنگٹن نامی امریکی نوجوان کے اس انٹرویو کو سوشل میڈیا پر بہت سراہا جا رہا ہے۔ لوگوں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ کی ذات جسے ہدایت جیسی دولت سے سرفراز کرنا چاہے اس کے دل میں روشنی ڈال دیتی ہے۔

چالیس مردوں کے برابر قوت حاصل کرنے کے لئے طب نبویﷺ کا یہ نسخہ حاضر ہے

دل کے لئے تقویت کا باعث بننے والی بہت سی جڑی بوٹیوں اور پھلوں کا طب نبوی ﷺ میں ذکر ملتا ہے .بہی (Quince)بھی ایسا پھل ہے جو آڑواور سیب سے مشابہہ ہے اور اسکا احادیث کافی ذکر موجود ہے.اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بہی کھانے والی خواتین خوبصورت بچے پیدا کرتی ہیں.مردوں میں چالیس افراد کے برابر قوت عود آتی ہے.اس میں بیک وقت کئی طرح کے وٹامن اور معدنیا ت شامل ہیں .

بہی کا مربہ اس حوالے سے بہترین غذا ہے جو نہار منہ کھایا جائے تو دل کے عوارض سے بچاتا ہے. ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓسے روایت کیا ہے کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا .آپﷺ کے ہاتھ میں ایک بہی تھی‘ مجھے دیکھ کر آپﷺ نے فرمایا‘ آجا طلحہ اسے لے لو اسلے لو اس لئے کہ یہ دل کو تقویت پہنچاتی ہے“اسی حدیث کو نسائی نے دوسرے طریقہ سے بیان کیا ہے”طلحہ نے بیان کیا کہ میں خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوا نبیﷺ صحابہؓ کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف فرما تھے‘ آپﷺ کے ہاتھ میں ایک بہی تھی جس کو الٹ پلٹ کررہے تھے

‘ جب میں آپﷺ کے پاس بیٹھ گیا تو آپﷺ نے بہی میری طرف بڑھائی پھر فرمایا کہابو ذر اس کو لے لو، اس لئے کہ یہ مقوی قلب ہے سانس کو خوشگوار کرتی ہے اور سینے کی گرانی دور کرتی ہے“ بہی کے حوالے سے بہت سی احادیث موجود ہیں.ایک حدیث کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اپنی حاملہ عورتوں کو بہی کھلایا کرو کیونکہ یہ دل کی بیماریوں کو ٹھیک کرتا ہے اور لڑکے کو حسین بناتا ہے

“ حضرت عوف رضی اللہ عنہ بن مالک روایت کرتے ہیںکہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” بہی کھاو ¿ کہ یہ دل کے دورے کو ٹھیک کرتا اور دل کو مضبوط کرتا ہے“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”بہی کھاو ¿ کہ دل کے دورے کو دور کرتاہے. اللہ نے ایسا کوئی نبی نہیں مامور فرمایا جسے جنت کا بہی نہ کھلایا ہو کیونکہ یہ فرد کی قوت کو چالیس افراد کے برابر کر دیتا ہے“

بہی کو عربی میں سفر جل کہتے ہیں.اسکی سب سے زیادہ کاشت ترکی میں ہوتی ہے. پاکستان میں بھی پہاڑی علاقوں میں دستیاب ہے.تاہم پاکستان کے سوا دیگر ممالک میں اسکی کاشت تجارتی پیمانے پر ہوتی ہے. اطبا کا کہنا ہے کہ بہی کا مزاج بارد یابس ہے اور ذائقہ کے اعتبار سے اس کا مزاج بھی بدلتا رہتا ہے مگر تمام بہی سرد اور قابض ہوتی ہیں‘ معدہ کے لئے موزوں ہے‘ شیریں بہی میں

برودت و یبوست کم ہوتی اور زیادہ معتدل ہوتی ہے .ترش بہی کھانے سے قبض اور خشکی پید اہوتی ہے. بہی کی ساری قسمیں تشنگی کو بجھادیتی ہیں اور قے کو روکتی ہیں. پیشاب آوراور پاخانہ بستہ کرتی ہے‘آنتوں کے زخم کے لئے نافع ہے. اس کا مربہ معدہ اور جگر کو تقویت پہنچاتا ‘دل کو مضبوط کرتا اور سانسوں کو خوشگوار بناتا ہے.

قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک طوائف کا خط

ردو کے معروف ادیب و دانشور کرشن چندر نے اپنی ایک تحریر میں قائد اعظم اور پنڈت نہرو کو ایک طوائف کی جانب سے لکھا جانے والا خط تحریر کیا تھا۔ خط کا متن ذیل میں ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس سے پہلے آپ کو کسی طوائف کا خط نہ ملا ہو گا۔ یہ بھی امید کرتی ہوں کہ آج تک آپ نے میری اور اس قماش کی دوسری عورتوں کی صورت بھی نہ دیکھی ہو گی۔ یہ بھی جانتی ہوں کہ آپ کو میرا یہ خط لکھنا کس قدر معیوب ہے اور وہ بھی ایسا کھلا خط مگر کیا کروں حالات کچھ ایسے ہیں اور ان دونوں لڑکیوں کا تقاضا اتنا شدید ہے کہ میں یہ خط لکھے بغیر نہیں رہ سکتی۔ یہ خط میں نہیں لکھ رہی ہوں،

یہ خط مجھ سے بیلا اور بتول لکھوا رہی ہیں،میں صدق دل سے معافی چاہتی ہوں، اگر میرے خط میں کوئی فقرہ ناگوار گزرے اسے میری مجبوری پر محمول کیجئے گا۔ بیلا اور بتول مجھ سے یہ خط کیوں لکھوا رہی ہیں؟ یہ دونوں لڑکیاں کون ہیں اور ان کا تقاضا اتنا شدید کیوں ہے؟یہ سب کچھ بتانے سے پہلے میں آپ کو اپنے بارے میں کچھ بتانا چاہتی ہوں، گھبرایئے نہیں۔ میں آپ کو اپنی گھناؤنی زندگی کی تاریخ سے آگاہ نہیں کرنا چاہتی۔ میں یہ بھی نہیں بتاؤں گی کہ میں کب اور کن حالات میں طوائف بنی۔ میں کسی شریفانہ جذبے کا سہارا لے کر آپ سے کسی جھوٹے رحم کی درخواست کرنے نہیں آئی ہوں

۔ میں آپ کے درد ند دل کو پہچان کر اپنی صفائی میں جھوٹا افسانہ محبت نہیں گھڑناچاہتی۔ اس خط کے لکھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو طوائفیت کے اسرار و رموز سے آگاہ کروں مجھے اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہناہے۔میں صرف اپنے متعلق چند ایسی باتیں بتانا چاہتی ہوں جن کا آگے چل کر بیلا اور بتول کی زندگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ آپ لوگ کئی بار بمبئی آئے ہوں گے جناح صاحب نے بمبئی کو تو بہت دیکھا ہوگا مگر آپ نے ہمارا بازار کاہے کو دیکھا ہو گا۔ جس بازار میں میں رہتی ہوں وہ فارس روڈ کہلاتا ہے۔ فارس روڈ، گرانٹ روڈ اور مدن پورہ کے بیچ میں واقع ہے۔

گرانٹ روڈ کے اس پار لمنگٹم روڈ اور اوپر ہاؤس اور چوپاٹی میرین ڈرائیور اور ٖفورٹ کے علاقے ہیں جہاں بمبئی کے شرفارہتے ہیں۔ مدن پورہ میں اس طرف غریبوں کی بستی ہے۔فارس روڈ ان دونوں کے بیچ میں ہے تاکہ امیر اور غریب اس سے یکساں مستفید ہو سکیں۔ گو فارس روڈ پھر بھی مدن پورہ کے زیادہ قریب ہے کیونکہ ناداری میں اور طوائفیت میں ہمیشہ بہت کم فاصلہ رہتاہے۔ یہ بازار بہت خوبصورت نہیں ہے، اس کے مکین بھی خوبصورت نہیں ہیں

اس کے بیچوں بیچ ٹرام کی گڑگڑاہٹ شب وروز جاری رہتی ہے۔ جہاں بھر کے آوارہ کتے اور لونڈے اور شہدے اور بے کار اور جرائم پیشہ مخلوق اس کی گلیوں کا طواف کرتی نظر آتی ہے۔لنگڑے، لولے، اوباش، مدقوق تماش بین، آتشک و سوزاک کے مارے ہوئے کانے، گنجے، کوکین باز اور جیب کترے اس بازار میں سینہ تان کر چلتے ہیں۔ غلیظ ہوٹل، سیلے ہوئے فٹ پاتھ، کچر ے کہ ڈھیروں پر بھنبھناتی ہوئی لاکھوں مکھیاں، لکڑیوں اور کوئلوں کے افسردہ گودام، پیشہ ور دلال

اور باسی ہار بیچنے والے کوک شاتر اور ننگی تصویروں کے دوکان دار چینی حجام اور اسلامی حجام اور لنگوٹے کس کر گالیاں بکنے والے پہلوان، ہماری سماجی زندگی کا سارا کوڑاکرکٹ آپ کو فارس روڈ پر ملتا ہے۔ ظاہر ہے آپ یہاں کیوں آئیں گے۔ کوئی شریف آدمی ادھر کا رخ نہیں کرتا، شریف آدمی جتنے ہیں وہ گرانٹ روڈ کے اس پار رہتے ہیں اور جو بہت ہی شریف ہیں۔ وہ ملبار ہل پر قیام کرتے ہیں۔میں ایک بار جناح صاحب کی کوٹھی کے سامنے سے گزری تھی

اور وہاں میں نے جک کر سلام بھی کیا تھا بتول بھی میرے ساتھ تھی۔ بتول کو آپ سے (جناح صاحب) جس قدر عقیدت ہے اس کو میں کبھی ٹھیک طرح سے بیان نہ کر سکوں گی۔ خدا اور رسول کے بعد دنیا میں اگر وہ کسی کو چاہتی ہے تو وہ صرف آپ ہیں۔ اس نے آپ کو تصویر لاکٹ میں لگا کر اپنے سینے سے لگا رکھا ہے۔ کسی بری نیت سے نہیں۔ بتول کی عمر ابھی 11 سال ہے، چھوٹی سی لڑکی ہی تو ہے وہ۔ گو فارس روڈ والے ابھی سے اس کے متعلق برے برے ارادے کر رہے ہیں

مگر خیر وہ پھر کبھی آپ کو بتاؤں گی۔ تو یہ ہے فارس روڈ جہاں میں رہتی ہوں، فارس روڈ کے مغربی سرے پر جہاں چینی حجام کی دوکان ہے اس کے قریب ایک اندھیری گلی کے موڑ پر میری دوکان ہے۔ لوگ تو اسے دوکان نہیں کہتے مگر خیر آپ دانا آدمی ہیں آپ سے کیا چھپاؤں گی۔یہی کہوں گی وہاں پر میری دوکان ہے اور وہاں پر میں اس طرح بیوپار کرتی ہو ں جس طرح بنیا، سبزی والا، پھل والا، ہوٹل والا، موٹر والا، سینیماوالا، کپڑے والا یا کوئی او ر دوکاندار بیوپار کرتا ہے

یہ5سالہ بچہ ایک مہینے میں 10کرورڑ کماتا ہے ۔ ۔ طریقہ آمدن اتنا آسان کہ جان کر ہر پاکستانی اسے اپنا سکے گا

اس دنیا میں 2طرح کے انسان ہیں ۔ ایک وہ جو کاروبار کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو نوکری کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک بالکل نئی قسم لوگوں کا اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے ۔ اور اس کام سے آج کل لوگ بہت پیسے بھی کما رہے ہیں ۔ ہم اپنے قارئین کو جس بچے کی خبر دینے جا رہے ہیں وہ بھی عام سے بچوں کی طرح ایک عام سا بچہ ہے مگر اس نے اپنی زندگی کے

خوبصورت لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا اور آج وہ ہزاروں میں نہیں ،لاکھوں میں بھی نہیں بلکہ کرورڑوں میں کھیل رہا ہے۔ریان کو عام بچوں کی طرح کھلونا کاروں سے کھیلنا، ٹرائی سائیکل کی سواری کرنا اور واٹر سلائیڈ پر پھسلنا پسند ہے جسے ریان کی ماں فلم بند کرتی ہے اور یوٹیوب پر ڈالتی ہے۔ ریان کا پسندیدہ کام کھلونوں پر تبصرے کرنا ہے۔ اس کے یہ تبصرے دنیا بھر کے بچوں میں مقبول ہے۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریان کے چینل کے سبسکرائبر زکی تعداد 58 لاکھ سے زیادہ ہے

جبکہ اس کی ویڈیوز 9 ارب سے زیادہ بار دیکھی جا چکی ہیں۔ریان کی فیملی نے اس کا چینل 2015 میں بنایا۔ شروع میں ریان کی ویڈیو دیکھنے والے کچھ زیادہ لوگ نہیں تھے مگر 4 ماہ بعد اس کے سبسکرائبر اور ویوز کی تعداد تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئی۔ریان کا یہ چینل اتنا مشہور ہوا کہ ریان کی ماں، جس نے اب تک اپنا نام ظاہر نہیں کیا، نے اپنی ہائی سکول میں کیمسٹری ٹیچر کی ملازمت چھوڑ دی

اور فل ٹائم یوٹیوب ویڈیوز بنانے لگی، جس سے ریان کو لاکھوں ڈالر ملنے لگے۔ریان کی ویڈیو امریکا اور دنیا بھر میں اتنی مقبول ہوئیں کہ پچھلے 18 ہفتوں سے Ryan ToysReview چینل امریکا میں سب سے مقبول اور دنیا بھر میں دوسرا سب سے زیادہ مقبول چینل ہے۔ریان کے چینل کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی ایک مہینے کی آمدن ایک ملین ڈالر ہے۔جو پاکستانی تقریباً دس کروڑ بنتے ہیں ۔

خاوند کی فرمانبرداری

نبی کریمؐ کے مبارک زمانے میں ایک میاں بیوی اوپر کی منزل پر رہتے تھے اور نیچے کی منزل پر بیوی کے ماں باپ رہتے تھے، خاوند کہیں سفرپر گیا اور اس نے بیوی کو کہہ دیا کہ تمہارے پاس ضرورت کی ہر چیز ہے، تم نے نیچے نہیں اترنا، چنانچہ یہ کہہ کر خاوند چلا گیا، اللہ کی شان دیکھیں کہ والد صاحب بیمار ہو گئے، وہ صحابیہ عورت سمجھتی تھی کہ خاوند کی اجازت کی شریعت میں کتنی اہمیت ہے،

اب یہ نہیں کہ اس نے سنا کہ والد بیمار ہیں تو وہ نیچے آگئی، نہیں، اس نے اپنے خاوند کی بات کی قدر کی، اور نبی کریمؐ کی خدمت میں پیغام بھجوایا کہ میرے خاوند نے مجھے گھر سے نکلتے ہوئے منع کر دیا تھا  تو اے اللہ کے نبیؐ! کیا اب مجھے نیچے جانا چاہیے؟ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ نہیں، آپ کے خاوند نے چونکہ آپ کو منع کر دیا تو آپ نیچے نہ آئیں، اب ذرا غور کیجئے، نبی کریمؐ خود یہ بات فرما رہے ہیں کہ آپ خاوند کی اجازت کے بغیر نیچے مت آئیں، چنانچہ وہ نیچے نہ آئیں، جب والد کی وفات ہو گئی

تو اس صحابیہ نے پھر پیغام بھجوایا، اے اللہ کے نبیؐ! کیا میں اپنے باپ کا چہرہ آخری مرتبہ دیکھ سکتی ہوں، میرے والد دنیا سے چلے گئے، میرے لیے کتنا بڑا صدمہ ہے، نبی کریمؐ نے پھر فرمایا: چونکہ تمہارے خاوند نے تمہیں روک دیا تھا، اس لیے تم اوپر ہی رہو اور اپنے والد کا چہرہ دیکھنے کے لیے نیچے آنا ضروری نہیں، وہ صحابیہ اوپر ہی رہی، سوچئے اس کے دل پر کیا گزری ہو گی، کتنا صدمہ اس کے دل پر ہوا ہو گا! اس کے والدکا جنازہ پڑھایا گیا، اس کو دفن کر دیا گیا، نبی کریمؐ نے اس بیٹی کی طرف پیغام پہنچایا کہ ’’اللہ رب العزت نے تمہارا اپنے خاوند کا لحاظ کرنے کی وجہ سے تمہارے باپ کے سب گناہوں کو معاف فرما دیا۔‘‘تو معلوم ہوا کہ آپ اپنے گھر میں جو کام بھی کریں خاوند سے اجازت لے لیں۔