اللہ کے گھر میں امام مسجد کے لبادے میں ایک شیطان کی دس سالہ بچے کے ساتھ جنسی زيادتی کی داستان

بے شک نماز بے حیائی سے روکتی ہے ۔پورا بچپن یہی سنتے گزرا کہ جب بھی کوئي وسوسہ ستاۓ یا برا خیال آۓ تو اس موقعے پر نماز سے مدد لی جاۓ جب بھی کوئی برا کام سر زد ہوتا گھر کے بڑے یہی سبق دیتے تم نے نماز نہیں پڑھی تھی تبھی ایسا ہوا ۔ بڑے ہونے کے بعد بھی یہ احساس لاشعور میں کہیں بیٹھ سا گیا کہ جب بھی امتحان ہوتا با وضو ہو کر جانا ہے ۔

مگر اب لگ رہا ہے کہ یا تو وہ سب تعلیمات غلط تھیں یا پھر جو ہو رہا ہے اس کی کوئی اور توجیح ہے جو ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔ہر روز جب بھی ٹی وی پر یا پھر سوشل میڈیا پر ایسے واقعات نظر سے گزرتے ہیں جب مدارس میں یا مساجد میں عالم دین ،معلم یا امام مسجد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کو مار ڈالتے ہیں تو کیا سبب ہوتا ہے اس سب کا ؟

یہ لوگ تو وہ ہوتے ہیں جو باقاعدگی سے نماز قرآن سب پڑھتے ہیں پھر وہ کیا چیز ہے جو ان کو اس عمل پر نہ صرف مجبور کرتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قتل جیسے بدترین گناہ میں بھی ملوث کر ڈالتی ہے ۔

اسی حوالے سے ایک امام مسجد کے ایک رونگٹھے کھڑے کر دینے والے ویڈیو بیان نے نہ صرف انگشت بد نداں کر ڈالا بلکہ اس موذی انسان کے سکون اور بے حسی نے ایسی کیفیت میں مبتلا کر ڈالا کہ بے ساختہ اس گھٹیا انسان کے لیۓ دل سے یہ بد دعا نکلی کہ اللہ اس بدکار انسان کو ہماری آنکھوں کے سامنے مثال عبرت بنا دیں ۔

اس درندہ صفت انسان ے چہرے کا سکون کسی بھی صاحب اولاد انسان کا خون کھولا دینے کے لیۓ کافی ہے ۔اپنے اعترافی بیان میں اس نے  بتایا کہ اس نے اس معصوم بچے کو رات ساڑھے آٹھ بجے اپنے پاس بلایا اور بچہ امام مسجد کے رتبے کا خیال کرتے ہوۓ ان سے محبت اور انسیت میں ان کے ساتھ مسجد کی اوپری منزل میں چلا گیا ۔

اس کے بعد انہوں نے اپنے موبائل کی روشنی میں اس بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی اس دوران اس درندے نے بچے کے منہ کو اس ہی کے عمامے سے باندھ دیا تاکہ وہ بچہ چلا نہ سکے ۔اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کے بعد اس درندے نے بچے کے گلے کو آری سے کاٹ کر اس کو ذبح کر دیا ۔

اس عمل کے دوران بچہ کتنا رویا ہو گا کتنا تڑپا ہو گا اس کا تاثر کہیں سے بھی اس درندے کی باتوں سے نہیں ملتا کہ اس کو اس تکلیف پر کوئی شرمندگی ہوئی یا اس کو اس تکلیف کا احساس ہے ۔

بچے کو ذبح کرنے کے بعد اس نے اطمینان سے اس کی لاش کو مسجد ہی میں ایک جانب رکھ دیا اور اطمینان سے اپنے کپڑے اور آلہ قتل کو دھویا ۔اس سارے واقعے کا سب سے زیادہ اذیت ناک پہلو یہ ہے کہ وہ اس امر کو انتہائی سکون سے بیان کر رہا تھا کہ اس سارے معاملے میں پولیس نے تفتیش کے دوران اس کا نہ صرف بہت خیال رکھا ۔

بلکہ اس کو وقت پر کھانا اور ٹھنڈا پانی بھی فراہم کیا ایسے انسانوں کی اس ڈھٹائی کو دیکھتے ہوۓ ہر ذی روح انسان کی روح اس ڈر سے کانپ جاتی ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کے دین کے اتنے قریب ہیں اگر وہ اس قسم کی درندگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں تو عام انسان تو پھر کسی قطار ہی میں نہیں آتے ۔

وحشت اور بربریت کے اس سلسلے کو روکنے کا بس ایک ہی طریقہ سمجھ آتا ہے کہ ان درندوں کو ایسی سزا دی جاۓ جو کہ ان کو سب کے لیۓ عبرت کا نشان بنا دے

مساج سینٹر یا فحاشی کے اڈے: درپردہ حقائق کیا ہیں؟ جانیئے

جب جنت میں حضرت آدم نے شیطان کے بہکاوے میں آکر گندم کی چند بالیاں کھائی تھیں تو اس پل رب العزت کی ناراضگی کے ساتھ ساتھ ان کو اپنی عریانیت کوچھپانے کی فکر بھی لاحق تھی اور یہی ان کے نیک روح ہونے کی دلیل تھی ۔ سزا کے طور پر حضرت آدم اور بی بی حوا ہی صرف دنیا میں نہ آۓ تھے بلکہ ان کا دشمن شیطان بھی اس دعوی کے ساتھ آیا کہ دنیا کے بندوں کو تا قیامت تک بہکاتا رہے گا۔

وقت کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے شیطان اپنی کوششوں میں مصروف ہے اور رحمن اپنی رحمتوں کی تقسیم میں ، شیطان کا سب سے مضبوط ہتھیار آج بھی وہی ہے جس سے اس نے سب سے پہلے انسان کو بہکایا تھا ۔ آج بھی عورت اور مرد کا باہمی تعلق شیطان کا سب سے آسان ہتھیار ہے۔یہ تعلق اگر نکاح کے راستے سیج تک پہنچے تو اس کے آنچل پر فرشتے عبادت کرتے ہیں ۔ اور اگر یہی تعلق ہوس کے دامن میں کسی کوٹھے یا ہیرا منڈی یا نیپئیر روڈ جیسی بدنام زمانہ جگہ پر قائم ہو یا نام نہاد مساج سینٹر کے نام پر ہو تو اس تعلق کا جشن شیطان مناتا ہے ۔

1

ہوس کا یہ کھیل ہمیشہ سے جاری ہے مگر آج کل اس کا نام طوائفوں کا کوٹھا نہیں ہوتا بلکہ اس کو مساج سینٹر کہتے ہیں ۔ یہ کراچی ، اسلام آباد ، لاہور کے پوش علاقوں میں مساج سینٹرز کے نام سے موجود ہیں۔ بظاہر مساج سینٹر کے پردے میں نظر آنے والا یہ دھندہ حقیقت میں سیکس سینٹر یا جسم فروشی کے اڈے ہیں۔

ان کا کام کرنے کا طریقہ کار انتہائی محفوظ ہے ۔ یہ پہلے مختلف موبائل نمبرز پر ایسے فرضی ایس ایم ایس بھیجتے ہیں جس میں ہردرد، تکلیف اور بیماری سے نجات ان کے مساج سینٹر پر دستیاب ہے کا نعرہ لگا یا جاتا ہے ۔ رابطہ کے لۓ ایک فون نمبر موجود ہوتا ہے ۔ جب آپ اس نمبر سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ آپ کے مختصر سے انٹرویو سے یہ اندازہ لگا لیتا ہے کہ آپ میں کتنا دم  ہے ۔اگر آپ کو واقعی علاج کروانا ہے تو آپ کو اسی سینٹر میں بھیجا جاتا ہے جہاں گرم شعاعوں کے ذریعے آپ کے دکھتے ہوۓ جسم کو آرام پہنچایا جاتا ہے.

09

اور اگر آپ کا تعلق کسی اور طبقے سے ہے تو پھر آپ کو بتایا جانے والا ایڈریس دوسرا ہو گا وہاں جاتے ہی سب سے پہلے آپ سے حوالہ پوچھا جاۓ گا کہ کس ذریعے سے آپ وہاں تک پہنچے اور مطمئن ہونے کے بعد آپ کو اندر لے جایا جاۓ گا جہاں آپ کے سامنے مختلف لڑکیاں پیش کی جائیں گی کہ آپ اپنی پسند کی لڑکی سے مساج کروائیں۔

10

اس خدمت کا معاوضہ 2500 سے 4000 تک طلب کیا جاتا ہے جو ایڈوانس میں لے لیا جاتا ہے ۔اس کے بعد وہ لڑکی آپ کر ایک کمرے میں لے جاتی ہے جہاں پر آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ اپنا لباس اتار دیں اور ان کا دیا ہوا لباس یا گاون نما لباس پہن لیں تاکہ وہ آرام سے آپ کا مساج کر سکے ۔ مساج کے دوران وہ آپ سے سوال پوچھ کر آپ کی حد کا تعین کرتی ہے اور آپ کو مکمل سکون حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔ جس کا معاوضہ علیحدہ سے طے کیا جاتا ہے جو 3500 سے 5000 ہزار تک ہو سکتا ہے ۔

یہ سارے کاروبار علاقہ پولیس کے زیر نگرانی ہی چل رہے ہوتے ہیں اور کہیں ماہانہ اور کہیں ہفتہ واری بنیاد پر تھانے کو اس کا حصہ باقاعدگی سے پہنچا دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ان سنٹرز کے باقاعدہ گاہک چونکہ بڑے بڑے لوگ ہوتے ہیں تو وہی ان کو قانون کی پہنچ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ نام کوئی بھی دے دیا جاۓ مگر یہ ایک گندا دھندہ ہے اور اس کی جڑ سے بیخ کنی کے لۓ اقدامات وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔

وہ ’بیماری‘ جس کا علاج کرنے کے لئے مردوں کا ریپ کیا جاتا ہے

شمالی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں ایک بیماری کا علاج کرنے کے لیے مردوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ بیماری ایسی ہے کہ سن کر آپ اس کے اس طریقہ علاج پر ششدر رہ جائیں گے.

کی رپورٹ کے مطابق یہ بیماری ”ہم جنس پرستی“ ہے.ایکواڈور میں اگرچہ ہم جنس پرستی قانونی طور پر جائز ہے لیکن وہاں سماجی طور پر اسے غلط کاری ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے علاج کے لیے ملک بھر میں ’بحالی سنٹرز‘ موجود ہیں. ان بحالی سنٹرز میں اکثر غیرقانونی اور بغیر لائسنس کے چل رہے ہیں. ان سنٹرز میں لائے گئے ہم جنس پرست مردوں کو نہ صرف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ ان پر شدید جسمانی تشدد بھی کیا جاتا ہے تاکہ وہ سدھر جائیں اور یہ کام چھوڑ دیں.

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ”ایکواڈور میں ایک دہائی سے ہم جنس پرستوں پر یہ ظلم ہو رہا ہے، حالانکہ وہاں ہم جنس پرستی جائز ہے. ملک کی عدالتیں ہم جنس پرستوں کو انصاف دیں اور انہیں اس جنسی و جسمانی تشدد سے نجات دلائیں.“رپورٹ کے مطابق ان بحالی سنٹرز میں شراب اور دیگر منشیات کے عادی افراد کا بھی علاج کیا جاتا ہے اور انہیں بھی ایسے ہی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

سیب کو مختلف غذاؤں کے ساتھ ملا کر کھانے کے حیرت انگیز فوائد سامنے آگۓ

ماہرین صحت سیب کو نہ صرف ایک بہترین پھل مانتے آۓ ہیں اس کے ساتھ اس کا روزانہ استعمال انسان کو کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے جس کے سبب انسان ڈاکٹر کے پاس جانے سے بچ جاتا ہے ۔ اس میں فولاد کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ کمزوری کا خاتمہ کرتا ہے۔ اور جسم میں خون کی کمی کو بھی پورا کرتا ہے ۔

مگر اب جدید تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیب کو مختلف غذاؤں کے ساتھ ملا کر کھانے کی صورت میں نہ صرف اس کے اثرات میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ بلکہ وہ زیادہ مفید بھی ثابت ہوتا ہے ۔

سبز چاۓ اور سیب

ان دونوں کو ملا کر استعمال کرنے کا سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ اس سے خون میں نائٹرک ایسڈ کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جو کہ شریانوں کے پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سیب اور سبز چاۓ میں موجود اینٹی آکسئڈنٹس ایسے خلیات کو بننے سے روکتے ہیں جو کہ چکنائی کو شریانوں میں جما دیتے ہیں۔

ٹماٹر اور سیب

سائنسی تحقیقات کے مطابق عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ پٹھوں کی کمزوری کا عارضہ عموما لاحق ہونے لگتا ہے۔ اس کمزوری کو دور کرنے کے لۓ سیب کے چھلکے اور سبز ٹماٹر انتہائی مفید ہوتے ہیں۔ ان دونوں اجزا کے ملا کر استعمال کرنے سے ایک ایسا کیمیکل پیدا ہوتا ہے جو نہ صرف پٹھوں کی اس کمزوری کا خاتمہ کرتا ہے بلکہ آئندہ بھی اس کو پیدا ہونے سے روکتا ہے۔ اس کو لگاتار دو مہینے تک دن میں ایک بار استعمال کر کے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے

مالٹے اور سیب

مالٹے اور سیب کا مشترکہ استعمال ذہنی صحت پر حیران کن اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایک جانب تو اس سے دماغی خلیات کی نشونما میں مدد ملتی ہے۔ اور دوسری جانب اس سے یاداشت بھی بہتر ہوتی ہے۔ کمزور یاداشت کے مریضوں کے لۓ یہ غذا ایک ٹانک کا کام کرتی ہے۔

کیلا اور سیب

روزانہ ایک کیلا اور ایک سیب ملا کر کھانے سے دل کے دورے اور فالج سے مرنے کے خطرات میں پچاس فی صد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ان دونوں پھلوں میں ایسے اجزا پاۓ جاتے ہیں جو کہ نہ صرف دوران خون کو بہتر بناتے ہیں۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شریانوں میں موجود رکاوٹوں کو بھی دور کرتے ہیں۔

چاکلیٹ اور سیب

چاکلیٹ اور سیب دونوں میں ایسے کیمیکل پاۓ جاتے ہیں جو کہ شریانوں میں خون کے جمنے کے عمل کا خاتمہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ان دونوں کو ملا کر کھانے کی صورت میں خون کی شریانوں میں خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے۔

پاکستانیوں کی خوش نصیبی ہے کہ ہمارے ملک میں دنیا کی بہترین اقسام کے سیب اگاۓ جاتے ہیں۔ اور اس کی افراط کے سبب امیر و غریب اس پھل سے فیض حاصل کر سکتے ہیں۔ لہذا بڑی بڑی بیماریوں میں مبتلا ہونے سے قبل ہی اس پھل کے استعمال کو اپنی عادت میں شامل کر کے بڑی بڑی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

’ہم اس ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے، میرے دونوں بچے ٹوائلٹ استعمال کرنے گئے تو واپسی پر جمادار نے انہیں روک لیا اور۔۔۔‘ پاکستانی شہری نے معروف ریسٹورنٹ کے باتھ روم میں پیش آنے والا ایسا شرمناک ترین واقعہ سنا دیا کہ ہر پاکستانی ماں باپ کو شدید پریشان کردیا

ہمارے ہاں بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات کتنی کثرت سے پیش آتے ہیں یہ بات ہم سب جانتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس کی ایک بڑی وجہ ہمارا یہ عمومی رویہ بھی ہے کہ اس مسئلے کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا جیسے لیا جانا چاہئیے۔ اچھی بات یہ ہے کہ کچھ پڑھے لکھے اور ذمہ دار والدین ایسے ضرور موجود ہیں جو نا صرف اپنے بچوں کے ان مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ بدبخت مجرموں کا بھی پوری طرح تعاقب کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک ایسے ہی صاحب کی پوسٹ سامنے آئی ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح ایک مشہور ریسٹورنٹ میں ان کے کمسن بیٹو ں کو ہراساں کرنے کا واقعہ پیش آیا۔ بجائے اس کے کہ انتظامیہ ان کا ساتھ دیتی، الٹا مجرم کو بچانے کی تگ و دو کی جاتی رہی۔ اپنی پوسٹ میں یہ صاحب لکھتے ہیں ’’میرے بیٹے مونال ریسٹورنٹ(صدر، راولپنڈی) کے واش روم میں گئے تھے ۔ جب وہ واش روم سے نکلنے والے تھے تو خاکروب جو کہ پہلے ہی وہاں تھا، نے ناصرف انہیں روکا بلکہ ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھے اور انہیں تصویر بنوانے کو بھی کہا۔ میرے بیٹوں نے اس بات سے انکار کیا تو اس نے دھمکی دی کہ وہ انہیں جانے نہیں دے گا جب تک کہ وہ تصویر نہ بنوائیں۔ میرے بچوں کے انکار کے باوجود اس نے ان کی تصویر بنائی۔

جب میرے بیٹوں نے مجھے یہ بات بتائی تو میں فوری طور پر منیجر کے پاس گیا۔ اس نے خاکروب کو بلوایا، جو تقریباً 15 منٹ بعد آیا۔ میرے بیٹوں نے اسے پہچانا اور اس کے موبائل فون کا ماڈل اور رنگت بھی بتائی لیکن اس شخص نے الزامات کو ماننے سے صاف انکار کردیا۔ میرے اصرار پر منیجر پانچ، چھ موبائل فون لے آیا اور انہیں چیک کرنے کو کہا لیکن ان میں خاکروب کا موبائل فون نہیں تھا اور نہ ہی وہ یہ ماننے پر تیار تھا کہ اس نے کوئی تصویر لی ہے۔ اگر مجھے وہ تصویر دکھائی جاتی اور میرے سامنے ڈیلیٹ کردی جاتی تو میں اس معاملے کو چھوڑ دیتا۔ مسئلہ یہ تھا کہ منیجر اور خاکروب دونوں سے یہ بات تسلیم کرنے سے ہی انکاری تھے۔

اس پر ہم نے پولیس کو بلوالیا اور بالآخر کینٹ سٹیشن کے اہلکار وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے ہمیں کہا کہ ہم درخواست لکھ دیں اور ملزم کو لے کر واش روم میں بھی گئے۔ آدھے گھنٹے بعد ہمیں پولیس کی جانب سے کال آئی کہ انہوں نے تفتیش کرلی ہے اور ملزم کا موبائل فون بھی چیک کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الزاما ت کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ ہم نے انہیں بتایا ہے جو موبائل فون چیک کیا گیا ہے وہ خاکروب کا نہیں ہے، لیکن بے سود۔

کس قدر شرمناک بات ہے کہ مونال جیسے ریستوران میں ایسے لوگ کام کررہے ہیں جو بچوں کو ہراساں کررہے ہیں اور انتظامیہ ان کا تحفظ کررہی ہے۔ ہم نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے رابطہ کیا ہے اور اس کیس کو مضبوطی کے ساتھ فالو کریں گے۔‘‘بعد ازاں ان صاحب نے تازہ ترین پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ خاکروب کا موبائل فون برآمد کرلیا گیا اور ناصرف یہ ثبوت مل گیا کہ اس نے بچوں کی تصویر لی تھی بلکہ اس پر دیگر بے شمار فحش ویڈیوز بھی موجود تھیں۔ برآمد کیا گیا موبائل فون پولیس کے پاس ہے جبکہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو مونال ریسٹورنٹ کی انتظامیہ اور مالکان کے ساتھ اب اس معاملے کو اُٹھائے گی۔

گاﺅں والوں نے 20 فٹ لمبا سانپ پکڑلیا، لیکن پھر اس کے ساتھ کیا کیا؟ سانپ کے ساتھ ایسی حرکت کرتے آپ نے کبھی کسی کو نہ دیکھا ہوگا

سانپ کو دیکھ کر خوف سے کانپتے اور سرپٹ دوڑتے لوگ تو آپ نے دیکھے ہوں گے لیکن اسے پکڑ کر کھا جانے والے یقیناً کبھی نہیں دیکھے ہوں گے۔ یہ عجیب و غریب قوم مشہور جزیرے بورنیو پر آباد ہے جن کے لئے سانپ کا گوشت بہت ہی خاص ڈش کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں اس جزیرے سے بہت بڑے اژدھے کے پکڑے جانے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے،

لیکن پکڑے جانے کے بعد اس اژدھے کے ساتھ جو سلوک ہوا اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق 20 فٹ لمبی مادہ اژدھا اور ایک چھوٹا سانپ درخت کے سوکھے تنے میں گھس کر ملاپ کررہے تھے کہ شکار کی تلاش میں نکلنے والے جنگلیوں کی ان پر نظر پڑگئی۔ جنگلیوں کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز وہ شکار کی تلاش میں قریبی جنگل میں نکلے ہوئے تھے کہ انہیں ایک کھوکھلے تنے کے اندر یہ دونوں سانپ ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا نظر آگئے۔

انہوں نے بڑے اژدھے کو دم سے پکڑ کر باہر کھینچنا شروع کیا اور خاصی مشقت کے بعد دونوں سانپوں کو باہر نکال لیا۔ اس کے بعد یہ جنگلی جشن مناتے ہوئے اس اژدھے کو اپنے قبیلے میں لے گئے جہاں دعوت کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ مقامی روایات کے مطابق سانپ کو یا تو ثابت حالت میں کوئلوں پر بھونا جاتا ہے یا دوسری صورت میں اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے سبزی کے ساتھ پکایا جاتا ہے اور پھر چاولوں کے ساتھ کھایا جاتاہے۔ اس بدقسمت اژدھے کے ٹکڑے کر کے اسے پکایا گیا اور پھر سارے قبیلے نے مل کر یہ دعوت اڑائی۔

اس موقع پر 60 سال شخص تینسونگ اوجانگ نے فخریہ طور پر بتایا کہ سب سے پہلے اژدھے پر اسی کی نظر پڑی اور اس نے اپنے ساتھیوں کو اس کے متعلق بتایا تھا۔ تینسونگ کا کہناتھا کہ انہوں نے بڑی مشکل سے اس اژدھے کو درخت کے تنے سے کھینچ کر باہر نکالا اور اسے اپنے گاﺅں تک لے کر آئے۔ قبیلے کے لوگوں نے اتنے بڑے اژدھے کی آمد پر بے حد خوشی کا اظہار کیا اور ان کے ہاں جشن کا سماں تھا۔

’میں بس میں تھی کہ ساتھ بیٹھے اس شخص نے میری کلائی پکڑی اور اپنے ہاتھ سے۔۔۔‘ نوجوان لڑکی کے ساتھ بس میں انتہائی شرمناک ترین حرکت، آدمی کیا کررہا تھا؟ ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کی تو انٹرنیٹ پر آگ لگ گئی کیونکہ۔۔۔

بھارت میں آئے روز جنسی درندگی کا کوئی ہولناک واقعہ پیش آجاتا ہے، جس پر اگرچہ بہت ہنگامہ برپاہوتا ہے، لیکن زمینی حالات پر نظر ڈالیں تو یوں لگتا ہے کہ اگلے ہزار سال تک بھی اس ملک میں خواتین کو جنسی درندوں سے تحفظ نہیں مل سکتا۔ دارالحکومت دلی میں ایک چلتی بس میں پیش آنے والے بے حیائی کے واقعے کو دیکھتے ہوئے آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ جنسی مجرموں کی بے باکی کس انتہا کو پہنچ گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ المناک واقعہ دلی یونیورسٹی کی ایک طالبہ کے ساتھ پیش آیا اور اس باہمت لڑکی نے ناقابل یقین بے حیائی کے اس واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی ہے۔ شاید آپ کو اس بات پر یقین نا آئے لیکن اس ویڈیو میں ایک شیطان صفت شخص کو بھری بس میں سرعام خود لذتی میں مصروف دیکھا جاسکتاہے۔ وہ باربار طالبہ کی کمر کو چھونے کی کوشش کررہا تھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے جسم سے چھونے کی کوشش بھی کرتا رہا ۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ طالبہ اس شیطان صفت شخص پر چیخی چلائی لیکن اس کے باوجود نہ وہ خود باز آیا اور نہ آس پاس موجود مسافروں نے طالبہ کی مدد کی کوشش کی۔

یہ ویڈیو بالغوں کیلئے ہے:

”آﺅ اور کھل کر یہ کام کرو کیونکہ۔۔۔“ دنیا کی معروف ترین فحش ویب سائٹ نے ویلنٹائن ڈے پر شرمناک ترین اعلان کر دیا، ایسا کام کر دیا کہ تمام کنوارے لوگ دھڑا دھڑ ان کی ویب سائٹ پہنچنے لگے

آج دنیا بھر کے کئی ممالک میں ویلنٹائن ڈے منایا جا رہا ہے اور محبت کرنے والے افراد تحفے تحائف کے ذریعے ایک دوسرے سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرنے میں مصروف ہیں لیکن ایسے نوجوانوں کی بھی کمی نہیں جو ’اکیلے‘ ہونے کے باعث اس دن خاصے مایوس اور افسردہ رہتے ہیں۔دنیا کی معروف ترین فحش ویب سائٹ نے ایسے ہی کنوارے نوجوانوں کیلئے انٹرٹینمنٹ کے نام پر انتہائی فحش ترین اعلان کر دیا ہے

”آﺅ اور کھل کر یہ کام کرو کیونکہ۔۔۔“ دنیا کی معروف ترین فحش ویب سائٹ نے ویلنٹائن ڈے پر شرمناک ترین اعلان کر دیا، ایسا کام کر دیا کہ تمام کنوارے لوگ دھڑا دھڑ ان کی ویب سائٹ پہنچنے لگے

جس کے باعث سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہے۔ ویب سائٹ کے اعلان کے مطابق 14 فروری کو دنیا بھر سے ان کی ویب سائٹ پر آنے والے افراد وہ فحش مواد بھی بالکل مفت دیکھ سکتے ہیں جس کیلئے عام دنوں میں پیسے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ویب سائٹ کے اعلان کے مطابق دنیا بھر کے تمام ممالک کے افراد 24 گھنٹوں کے دوران بغیر کسی پیسے کے ویب سائٹ کے تمام کونے کھدرے چھان سکتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد غلیظ ویڈیوز دیکھنے والے افراد تو خوش دکھائی دے رہے ہیں مگر دیگر صارفین نے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

”یہ بھارتی چینل کو ان کپڑوں میں بھی انٹرویو دے سکتی تھی کیونکہ۔۔۔“ ڈاکٹر عامر لیاقت نے ریحام خان کی ایسے کپڑے پہنے تصویر شیئر کر دی کہ سوشل میڈیا پر بھونچال آ گیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان چند روز قبل ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینب بنیں جب انہوں نے اپنی کتاب کی اشاعت کا اعلان کیا اور پھر پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک روانہ ہو گئیں۔ان کی کتاب سے پہلے ہی بھارتی چینل کو دیا گیا ایک انٹرویو ضرور سامنے آ گیا جس میں انہوں نے دل کھو کر عمران خان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ اس کے علاوہ بھی کئی معاملات پر گفتگو کی۔

اس انٹرویو کے بعد ریحام خان کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا جبکہ کچھ لوگوں نے ان کے لباس کو لے کر بھی تنقید کرنے کی کوشش کی اور یہ جان کر آپ حیران ہوں گے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت بھی ان لوگوں میں شامل ہو گئے جب انہوں نے ریحام خان کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے نامناسب بات کہہ دی۔انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ریحام خان کی ایک تصویر جاری کرتے ہوئے لکھا ”بھارتی چینل کو انٹرویو تو ان کپڑوں میں بھی دیا جا سکتا تھا کیونکہ بقول ان ہی کے ’ لوگ مجھے انڈین ایجنٹ سمجھتے ہیں کیونکہ میں سچ بولتی ہوں‘۔“

یہ ٹویٹ سامنے آنے کے لوگوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا اور کسی نے ڈاکٹر عامر لیاقت کی ہاں میں ہاں ملائی تو کوئی ان کی بات کی مخالفت کرتا نظر آیا۔رامیش فاطمہ نامی صارف نے لکھا ”کپڑوں میں کیا برائی ہے؟ دوپٹہ لو تب بھی مسئلہ نہ لو تب اعتراض، کبھی رنگ پہ اعتراض، کبھی ڈھنگ پہ، یہ بھی چینل کی پالیسی ہو گی، آپ تو ایسے ہیں نہیں“

دنیا کی تاریخ کی پہلی خواجہ سرا جو بچے کو اپنا دودھ پلانے لگی، ایسی خبر آگئی کہ ڈاکٹرز بھی دنگ رہ گئے

 کسی خواجہ سرا سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بچے کو دودھ پلا سکے ناممکنات میں سے لگتا ہے، لیکن امریکا میں ایک خواجہ سرا نے یہ بھی کر دکھایا ہے۔ اس نوجوان خواجہ سرا نے ماہر ڈاکٹروں کو بھی حیران کر ڈالا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تحقیقات کے لئے اسے امریکا کے مشہور طبی مرکز ماﺅنٹ سنائی سنٹر فار ٹرانس جینڈر میڈیسن اینڈ سرجری بلا لیا گیا۔

میل آن لائن کے مطابق اس خواجہ سرا نے بتایا ہے کہ اس کی ایک سہیلی حاملہ تھی لیکن وہ بچے کو اپنا دودھ نہیں پلانا چاہتی تھی جس پر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اس بچے کو دودھ پلائے گی۔ بچے کی پیدائش سے ساڑھے تین ماہ قبل اس نے اپنی ہارمون تھیراپی شروع کر دی اور ساتھ ہی چھاتی میں دودھ لانے کے لئے ایک آلے کا استعمال بھی شروع کردیا۔ جب بچے کی پیدائش ہوئی تو خواجہ سرا اس قابل ہو چکی تھی کہ اسے اپنا دودھ پلاسکتی تھی۔ ڈیڑھ ماہ تک بچہ صرف اس کے دودھ پر گزارا کرتا رہا جبکہ بعد میں اسے دیگر نرم غذائیں بھی دینا شروع کردی گئیں۔

خواجہ سرا نے مزید بتایا کہ اس نے تبدیلی جنس کا آپریشن نہیں کروایا تھا اور نہ ہی مرد سے خاتون بننے کے لئے کوئی اور ضروری اقدامات کئے تھے۔ اس کیس کی تفصیلات سائنسی جریدے ’ٹرانس جینڈر ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بیان کی گئی ہیں، جس میں مزید یہ بتایاگیا ہے کہ یہ کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ محض ہارمون تھیراپی کے ذریعے خواجہ سرا خواتین حاملہ ہونے اور بچے کو جنم دینے سے لے کر اسے دودھ پلانے تک جیسی صلاحیتوں کے حصول میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔