وہ 80 افراد جن کے پاس ہے دنیا کی آدھی دولت!

\اسلام آباد (نیو زڈیسک )دنیا بھر میں صرف 80 افراد ایسے ہیں جن کی کل دولت اتنی ہے جتنی ساڑھے 3 ارب سے زيادہ غریب ترین آبادی کی کل دولت۔غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے ایک عالمی ادارے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2009ء سے اب تک ان امیر ترین 80 افراد کی دولت میں دوگنا اضافہ ہوا ہے

جبکہ اسی عرصے میں دنیا کی غریب ترین 50 فیصد آبادی کی دولت میں کمی واقع ہوئی ہے۔امیر ترین ایک فیصد اور غریب ترین 50 فیصد افراد کے پاس کتنی دولت ہے،اس کے لیے ‘آکس فیم’ نامی ادارے نے مالیاتی خدمات پیش کرنے والے سوئٹزرلینڈ کے ایک ادارے کریڈٹ سوئس اور معروف جریدے فوربس کی سالانہ ارب پتیوں کی فہرست استعمال کی اور مختلف جائزوں کے ذریعے پایا کہ ایسے افراد کی تعداد 80 ہے جو دنیا کی غریب ترین 50 فیصد آبادی کے برابر دولت رکھتے ہیں۔ چار سال قبل 388 ارب پتیوں کی کل دولت دنیا کے ان غریب ترین 50 فیصد کے برابر تھی، جو اب صرف 80 ہاتھوں تک آ گئی ہے۔ان 80 افراد میں سے 35 امریکی شہری ہے، جن کی کل دولت 2014ء تک 941 ارب ڈالرز تھی۔ دوسرے نمبر پر جرمنی اور روس کے سات، سات افراد اس فہرست میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر فہرست میں مردوں کا غلبہ ہے جن کی تعداد 80 میں سے 70 ہے جبکہ 50 یا ا سے زیادہ سال کے افراد کی تعداد بھی 68 ہے۔

یہ فہرست دیکھیں:

شمار نام دولت (ارب ڈالرز) بمطابق 2014ء ملک
1 بل گیٹس 76 امریکا
2 کارلوس سلم ہیلو 72 میکسیکو
3 امانسیو اورتیگا 64 اسپین
4 ویرن بوفیٹ 58 امریکا
5 لیری ایلیسن 48 امریکا
6 چارلس کوچ 40 امریکا
7 ڈیوڈ کوچ 40 امریکا
8 شیلڈن ایڈلسن 38 امریکا
9 کرسٹی والٹن 37 امریکا
10 جم والٹن 35 امریکا
11 لیلین بیٹن کورٹ 35 فرانس
12 اسٹیفن پیرسن 34 سوئیڈن
13 ایلس والٹن 34 امریکا
14 روبسن والٹن 34 امریکا
15 برنارڈ آرنالٹ 34 فرانس
16 مائیکل بلومبرگ 33 امریکا
17 لیری پیج 32 امریکا
18 جیف بیزوس 32 امریکا
19 سرگئی برن 32 امریکا
20 لی کا-شنگ 31 ہانگ کانگ
21 مارگ زکربرگ 29 امریکا
22 مائیکل فیریرو 27 اٹلی
23 الیکو دانگوتے 25 نائیجیریا
24 کارل البریخت 25 جرمنی
25 کارل ایکان 25 امریکا
26 جارج سوروس 23 امریکا
27 ڈیوڈ تھامسن 23 کینیڈا
28 لوئی چی وو 22 ہانگ کانگ
29 دیتر شوارز 21 جرمنی
30 الولید بن طلال السعود 20 سعودی عرب
31 فورسٹ مارس جونیئر 20 امریکا
32 جیکولین مارس 20 امریکا
33 جان مارس 20 امریکا
34 جارج پاؤلو لیمن 20 برازیل
35 لی شاؤ کی 20 ہانگ کانگ
36 اسٹیو بالمر 19 امریکا
37 تھیو البریخت جونیئر 19 جرمنی
38 لیوناردو دیل ویچیو 19 اٹلی
39 لیو بلاوٹینک 19 امریکا
40 علی شیر عثمانوف 19 روس
41 مکیش امبانی 19 بھارت
42 ماسایوشی سون 18 جاپان
43 مائیکل اوٹو 18 جرمنی
44 فل نائٹ 18 امریکا
45 تاداشی ینائی 18 جاپان
46 گینا رائن ہارٹ 18 آسٹریلیا
47 مائیکل فریڈمین 18 روس
48 مائیکل ڈیل 18 امریکا
49 سوسن کلاٹن 17 جرمنی
50 ابیگیل جانسن 17 امریکا
51 وکلٹر ویکسلبرگ 17 روس
52 لکشمی متل 17 بھارت
53 ولادیمر لیسن 17 روس
54 چینگ یو-تنگ 16 ہانگ کانگ
55 جوزف سفرا 16 برازیل
56 پال ایلن 16 امریکا
57 لیونڈ مائیکل سن 16 روس
58 این کوکس چیمبرز 16 امریکا
59 فرانکو پینال 16 فرانس
60 ایرس فونٹبونا 16 چلی
61 عظیم پریم جی 15 بھارت
62 محمد العمودی 15 سعودی عرب
63 گینادی تم چینکو 15 روس
64 وانگ جیالن 15 چین
65 چارلس ارگن 15 امریکا
66 اسٹیون کوانڈٹ 15 جرمنی
67 جرمن لاریا موتا ویلاسکو 15 میکسیکو
68 ہیرلڈ ہیم 15 امریکا
69 رے ڈیلیو 14 امریکا
70 ڈونلڈ برین 14 امریکا
71 جارج شیفلر 14 جرمنی
72 لوئس کارلوس سارمنتو 14 کولمبیا
73 رونلڈ پیرلمین 14 امریکا
74 لورین پاول جابس 14 امریکا
75 سرجی دیسال 14 فرانس
76 جان فریڈرکسن 14 قبرص
77 وجیت الیکپروف 14 روس
78 جان پالسن 14 امریکا
79 روپرٹ مرڈوک 14 امریکا
80 ما ہواتینگ 13 چین

کس کی حاجت روا کرے کوئی (فکاہیہ)

پکوڑے سردیوں میں بھلے لگتے ہیں ۔ مودی جی نے انہیں تلنے کے لیے موسم تو درست چنا لیکن مقام غلط تھا ۔ یوروپ میں شدید سردی کے باوجود لوگ پکوڑے نہیں کھاتے ۔ پکوڑے تلنے کے لیے ان کا انتخاب بھی غلط نکل گیا ۔ تعلیم یافتہ نوجوان پکوڑے تلنا تو دور کھانا بھی چھوڑ چکے ہیں۔ آج کل وہ پکوڑوں کے بجائے برگر کھانے لگے ہیں ۔ ویسے اگر گوبھی کے بجائے مرغی کا پکوڑاہو اور اس کو روٹی کے بجائے ڈبل روٹی کے درمیان چھپا کر کھایا جائے تو وہ برگر کہلاتا ہے۔ خیر مودی جی کا یہ حسن انتخاب ملک کے ان نوجوانوں پر گراں گزرا جنہوں نے بڑے ارمان سے ہرسال دوکروڈ نئی ملازمت کے فریب میں آکرانہیں ووٹ دیا تھا ۔ مودی جی نے یہ تو کہا تھا کہ وہ دوکروڈ نوکریاں دیں گے لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ کیسے دیں گے؟
اقتدار میں تقریباً چار سال گزارنے کے بعد جب دوبارہ انتخاب کے بادل چھانے لگے تو پردھان سیوک کو یہ ترکیب سوجھی کہ کیوں نہ یہ نوکریاں عوام سے لے کر انہیں لوٹا دی جائیں۔ اسی لیے وہ کہہ رہے ہیں کہ نوکری مانگنے والے نہیں دینے والے بنو۔ مودی جی اس زبردست تجویز پر ایک لطیفہ یاد آیا ۔ بھیڑوں کے درمیان اس خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اس بجٹ میں سرکار نے انہیں کمبل دینے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ سن کر ایک بھولے بھالے میمنے نے معصومیت سے پوچھا لیکن کمبل کے لیے اون کہاں سے آئے گا ؟ اس سوال نے ساری خوشی غارت کردی۔ یہ عجیب مصیبت ہے کہ عوام ووٹ بھی دیں اور نوکری بھی دیں ۔ رہنماوں کا کام مسائل کوپیدا کرنا ہو اور عوام پر انہیں حل کرنے ذمہ داری ڈال دی جائے۔ اگر ایسا ہی ہے تو انتخاب پر ہزاروں کروڈ رپئے خرچ کرکے کسی کو اقتدار سونپنے کی اور اس کو پانے پوسنے پر کروڈہا کروڈ خرچ کرنے کی زحمت ہی کیوں کی جائے؟

پردھان سیوک کویہ زبردست ترکیب ضرور کسی عظیم سنگھ مفکر نے سجھائی ہوگی اس لیے کہ ایسی بڑی حماقت کی جرأت ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کے لیے سنگھ کی شاکھا میں برسوں تک نیکر پہن کر بھگوا پرچم کے آگے ہوا میںلاٹھی بھانجنا پڑتا ہے۔ مودی جی نے سوچا ہوگاان کے کہنے پر اگر ایک کروڈ بھکتوں نے دو لوگوں کو بھی نوکری دے دی تو دو کروڈ ملازمت کے مواقع نکل آئیں گے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ بھکت کیسےیہ نوکریاں دے سکتے ہیں؟ تو اس کا آسان سا جواب تھا وہ کچھ اور تو نہیں کرسکتے ہاں پکوڑے کی دوکان بہ آسانی کھول سکتے ہیں ۔ اس دوکان پر ایک بے روزگار پکوڑے تلے ، بھکت انہیں پروس کر رقم وصول کرے اوردوسرا بے روزگارجو ٹے برتن مانجھے ۔ اس طرح ہر پکوڑے کی دوکان پر تین لوگ برسرِ روزگار ہوجائیں گے اور بیروزگاری کا سنگین مسئلہ اپنے آپ حل ہوجائیگا لیکن افسوس کہ مودی جی کے پکوڑوں کا چولہا شدیدژالہ باری کے سبب درمیان ہی میں ٹھنڈا ہو گیا اور پکوڑے ادھ کچے ّ رہ گئے۔ اسے دوبارہ گرم کرنے کی کوشش پردھان سیوک کے پرم سیوک شاہ جی نے راجیہ سبھا کی اپنی پہلے تقریر میں کی لیکن وہاں تو کڑھائی ہی الٹ گئی اور اس حادثے میں بھکتوں کے ساتھ ان کے بھی چھالے پڑ گئے۔

اس سانحہ نے پردھان سیوک کو فکر مند کردیا اور اس کے تدارک کے لیے چنتن بیٹھک بلائی گئی تو یہ مشورہ سامنے آیا کہ بجٹ اجلا س چل رہا ہے اس لیے وزیراعظم صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان زخموں پر مرہم رکھیں ۔ وزیراعظم کے لیے یہ کام نہایت آسان تھا اس لیے کہ حالت خواب میں بھی وہ بھاشن دیتے رہتے ہیں لیکن اس بار تقریر کی تیاری کے بجائے سارا وقت نتن یاہو کے ساتھ سیر سپاٹے میں سرف ہوگیا ۔ نتن یاہو کے پاس تو کوئی کام نہیں تھا اس لیے وہ شہر گھوم گھوم کر مودی جی کے گن گاتا رہا اور پردھان سیوک اپنی تعریف سن سن کر خوش ہوتے رہے۔ ان کا مسئلہ فی الحال یہ ہے کہ دہلی میں کیجریوال اور راہل چین سے بیٹھنے نہیں دیتے ۔ ممبئی آتے ہیں تو ادھو اور راج ٹھاکرے برس پڑتےہیں ۔ حیدرآباد میں چندر شیکھر راو کے ساتھ چندرا بابو نائیڈو مل کر بھنبھوڑتے ہیں اور گجرات کےاندر میوانی اور پٹیل ایک ساتھ کاٹنے کو دوڑتے ہیں ۔ اس لیے اپنے پیچھے دم ہلانے کی خاطر اسرائیل کی خدمات لینی پڑیں ۔

یاہو کے ساتھ وقت تو بہت اچھا گزرا لیکن مسئلہ ایوان پارلیمان میں تقریر کا تھا ۔ کانگریس کے خلاف مودی جی بغیر تیاری کسی تیاری کے تقریر کرسکتے ہیں اس لیے کہ بچپن سے مشق ہے۔ ایوان کے اندرانہوں نے یہ بتانے کے بجائے کہ چار سال میں ان کی حکومت نے کیا کیا اور جاتے جاتے کیا کرنا چاہتی ہے کانگریس کا دفتر کھول دیا اور ملک کےسارے مسائل کے لیے پنڈت نہرو کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ اس خطاب کے بعد راہل گاندھی کا جواب سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راہل کو اسی کی توقع تھی اور انہوں نے تیار شدہ تبصرہ کر دیا ۔ راہل نے سب پہلے تو وزیراعظم کا کانگریس کی یاد فرمائی کے لیے شکریہ ادا کیا اور گزارش کی کہ جس قدر توجہ انہوں نےماضی پر کی ہے ویسی ہی ملک کی حالیہ صورتھال اور مستقبل پر کرتے تو بہتر تھا ۔ راہل نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ راہل نے یاد دلایا کہ اب آپ اقتدار میں ہیں اس لیے سوالات کرنے بجائے جواب دیں اور اپنے تین سوال دوہرا دیئے۔ رفیل سودے میں بدعنوانی ہوئی یا نہیں ، کسانوں کے مسائل کیسے ہوں گے اور نوجوانوں کو روزگار کیوں کر ملے گا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *