دو کانوں والا

ایک بادشاہ کی شادی کو عرصہ ہوگیا مگر گھر میں ولی عہد کی کمی ہی رہی۔ مقدر میں لکھا تھا اور اللہ نے ملکہ کی گود ہری کر دی ۔بیٹا پیدا ہوا تو بادشاہ کو یہ دیکھ کر چپ ہی لگ گئی کہ اسے پیدائشی معذوری تھی اور وہ ایک کان کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔بادشاہ نے اپنے سارے وزیر بلوا بھیجے اور ان سے مشورہ کیا کہ اتنی بڑی سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالنے کیلئے پیدا ہونے والا یہ ولی عہد جب اپنے آپ کو یوں معذور پائے گا تو احساس محرومی کا شکار ہو جائیگا۔ کس طرح اس کی

اس خامی پر قابو پایا جائے؟وزیروں نے مشورہ دیا بادشاہ سلامت، یہ تو کوئی بات ہی نہیں، اعلان کرا دیجیئے کہ آج سے جو بھی بچہ پیدا ہو اس کا ایک کان کاٹ لیا جائے۔ شہزادے کے سارے ہمجولی اور اس کے سامنے پلنے والی ساری نسل جب ایک کان والی ہوگی تو شہزادے کے دل میں کسی قسم کی محرومی کا احساس ہی نہیں پیدا ہوگا۔حکم نافذ کر کے عملدرآمد شروع کرا دیا گیا، اگلے دسیوں سالوں میں مملکت میں ایک کان والی نسل دیکھنے کو ملی اور لوگ اس عادت اور تقلید میں رچ بس گئے۔ایک بار کہیں سے گھومتا پھرتا بھولا بھٹکا ایک نوجوان اس مملکت میں آن ٹپکا۔ لوگ دو کانوں والے لڑکے کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے، بچے اس عجیب الخلقت نوجوان کے پیچھے پڑ گئے اور دو کانوں دو کانوں والا کہہ کر چھیڑتے۔ اس نوجوان کو بھی اپنا آپ ایک عجوبہ لگنا شروع ہو گیا، تاکہ وہ ان لوگوں میں تماشہ بن کر نا رہے اُس نے اپنا ایک کان ہی کٹوا لیا۔کیا ایسا ممکن ہے کہ پوری کی پوری خلقت ہی ایسی عقلی معذور بن جائے؟جی، انسانی تاریخ میں ایسا ہزاروں بار ہو چکا ہے۔ لوگوں کی اسی کج فہمی اور ٹیڑھی عقلی معذوری کی اصلاح کیلیئے ہی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ بار بار اپنے نبی بھیجتے تھے جیسے:سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قوم شرک کی معذوری کا شکار تھی، ایک اکیلے ابراہیم (علیہ السلام) ان میں اور ان کو بہت ہی عجیب دکھائی دیتا تھا۔سیدنا لوط علیہ السلام کی پوری کی ہوری قوم فطرت کی مخالف سمت میں چلنے والی تھی،

ایک اکیلے لوط (علیہ السلام) ان میں عجیب دکھائی دیتے تھے کیونکہ وہ ان جیسا کام نہیں کرتے تھے.سیدنا شعیب علیہ السلام کی پوری کی پوری قوم سود اور چور بازاری میں ایسی مبتلاء تھی کہ ان میں اکیلے شعیب (علیہ السلام) بہت ہی انوکھے نظر آتے تھے. دیکھیئے: فقہ میں ایک بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ:لوگوں کا کسی ایک بات پر متفق ہوجانا اسے حلال نہیں بنا دیا کرتا۔غلط ہمیشہ غلط رہے گا بھلے ساری مخلوق اسے کرنا شروع کردے

اور صحیح ہمیشہ صحیح رہے گا بھلے مخلوق میں سے کوئی ایک بھی اسے کرنے پر آمادہ نا ہو۔
بات کان کٹوا لینے کی نہیں ہے۔ اگر تجھے یقین ہے کہ تو ٹھیک ہے تو پھر ان کو راضی کرنے کیلیئے اپنے سچ سے نا پھر۔اگر وہ اپنے غلط پر شرمندہ نہیں ہیں تو تو کاہے کو اپنے ٹھیک ہونے پر شرماتا ہے؟ایک آخری بات کان کھول کر سُن لے، وہ جو کہتے ہیں ناں کہ سارے کے سارے لوگ ایسے کہتے ہیںجب بھی قران میں سارے کے سارے لوگوں کا کبھی ذکر آیا ہے ناں، تو ان “صفتوں” کو بتاتے ہوئے آیا ہے کہ:
وہ تو عقل ہی نہیں رکھتے۔
وہ تو علم ہی نہیں رکھتے۔
وہ تو شکر ہی نہیں ادا کرتے۔

انتخاب بھی غلط نکل گیا

پکوڑے سردیوں میں بھلے لگتے ہیں ۔ مودی جی نے انہیں تلنے کے لیے موسم تو درست چنا لیکن مقام غلط تھا ۔ یوروپ میں شدید سردی کے باوجود لوگ پکوڑے نہیں کھاتے ۔ پکوڑے تلنے کے لیے ان کا انتخاب بھی غلط نکل گیا ۔ تعلیم یافتہ نوجوان پکوڑے تلنا تو دور کھانا بھی چھوڑ چکے ہیں۔ آج کل وہ پکوڑوں کے بجائے برگر کھانے لگے ہیں ۔ ویسے اگر گوبھی کے بجائے مرغی کا پکوڑاہو اور اس کو روٹی کے بجائے ڈبل روٹی کے درمیان چھپا کر کھایا جائے تو وہ برگر کہلاتا ہے۔ خیر مودی جی کا یہ حسن انتخاب ملک کے ان نوجوانوں پر گراں گزرا جنہوں نے بڑے ارمان سے ہرسال دوکروڈ نئی ملازمت کے فریب میں آکرانہیں ووٹ دیا تھا ۔ مودی جی نے یہ تو کہا تھا کہ وہ دوکروڈ نوکریاں دیں گے لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ کیسے دیں گے؟
اقتدار میں تقریباً چار سال گزارنے کے بعد جب دوبارہ انتخاب کے بادل چھانے لگے تو پردھان سیوک کو یہ ترکیب سوجھی کہ کیوں نہ یہ نوکریاں عوام سے لے کر انہیں لوٹا دی جائیں۔ اسی لیے وہ کہہ رہے ہیں کہ نوکری مانگنے والے نہیں دینے والے بنو۔ مودی جی اس زبردست تجویز پر ایک لطیفہ یاد آیا ۔ بھیڑوں کے درمیان اس خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اس بجٹ میں سرکار نے انہیں کمبل دینے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ سن کر ایک بھولے بھالے میمنے نے معصومیت سے پوچھا لیکن کمبل کے لیے اون کہاں سے آئے گا ؟ اس سوال نے ساری خوشی غارت کردی۔ یہ عجیب مصیبت ہے کہ عوام ووٹ بھی دیں اور نوکری بھی دیں ۔ رہنماوں کا کام مسائل کوپیدا کرنا ہو اور عوام پر انہیں حل کرنے ذمہ داری ڈال دی جائے۔ اگر ایسا ہی ہے تو انتخاب پر ہزاروں کروڈ رپئے خرچ کرکے کسی کو اقتدار سونپنے کی اور اس کو پانے پوسنے پر کروڈہا کروڈ خرچ کرنے کی زحمت ہی کیوں کی جائے؟

پردھان سیوک کویہ زبردست ترکیب ضرور کسی عظیم سنگھ مفکر نے سجھائی ہوگی اس لیے کہ ایسی بڑی حماقت کی جرأت ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کے لیے سنگھ کی شاکھا میں برسوں تک نیکر پہن کر بھگوا پرچم کے آگے ہوا میںلاٹھی بھانجنا پڑتا ہے۔ مودی جی نے سوچا ہوگاان کے کہنے پر اگر ایک کروڈ بھکتوں نے دو لوگوں کو بھی نوکری دے دی تو دو کروڈ ملازمت کے مواقع نکل آئیں گے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ بھکت کیسےیہ نوکریاں دے سکتے ہیں؟ تو اس کا آسان سا جواب تھا وہ کچھ اور تو نہیں کرسکتے ہاں پکوڑے کی دوکان بہ آسانی کھول سکتے ہیں ۔ اس دوکان پر ایک بے روزگار پکوڑے تلے ، بھکت انہیں پروس کر رقم وصول کرے اوردوسرا بے روزگارجو ٹے برتن مانجھے ۔ اس طرح ہر پکوڑے کی دوکان پر تین لوگ برسرِ روزگار ہوجائیں گے اور بیروزگاری کا سنگین مسئلہ اپنے آپ حل ہوجائیگا لیکن افسوس کہ مودی جی کے پکوڑوں کا چولہا شدیدژالہ باری کے سبب درمیان ہی میں ٹھنڈا ہو گیا اور پکوڑے ادھ کچے ّ رہ گئے۔ اسے دوبارہ گرم کرنے کی کوشش پردھان سیوک کے پرم سیوک شاہ جی نے راجیہ سبھا کی اپنی پہلے تقریر میں کی لیکن وہاں تو کڑھائی ہی الٹ گئی اور اس حادثے میں بھکتوں کے ساتھ ان کے بھی چھالے پڑ گئے۔

اس سانحہ نے پردھان سیوک کو فکر مند کردیا اور اس کے تدارک کے لیے چنتن بیٹھک بلائی گئی تو یہ مشورہ سامنے آیا کہ بجٹ اجلا س چل رہا ہے اس لیے وزیراعظم صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان زخموں پر مرہم رکھیں ۔ وزیراعظم کے لیے یہ کام نہایت آسان تھا اس لیے کہ حالت خواب میں بھی وہ بھاشن دیتے رہتے ہیں لیکن اس بار تقریر کی تیاری کے بجائے سارا وقت نتن یاہو کے ساتھ سیر سپاٹے میں سرف ہوگیا ۔ نتن یاہو کے پاس تو کوئی کام نہیں تھا اس لیے وہ شہر گھوم گھوم کر مودی جی کے گن گاتا رہا اور پردھان سیوک اپنی تعریف سن سن کر خوش ہوتے رہے۔ ان کا مسئلہ فی الحال یہ ہے کہ دہلی میں کیجریوال اور راہل چین سے بیٹھنے نہیں دیتے ۔ ممبئی آتے ہیں تو ادھو اور راج ٹھاکرے برس پڑتےہیں ۔ حیدرآباد میں چندر شیکھر راو کے ساتھ چندرا بابو نائیڈو مل کر بھنبھوڑتے ہیں اور گجرات کےاندر میوانی اور پٹیل ایک ساتھ کاٹنے کو دوڑتے ہیں ۔ اس لیے اپنے پیچھے دم ہلانے کی خاطر اسرائیل کی خدمات لینی پڑیں ۔

یاہو کے ساتھ وقت تو بہت اچھا گزرا لیکن مسئلہ ایوان پارلیمان میں تقریر کا تھا ۔ کانگریس کے خلاف مودی جی بغیر تیاری کسی تیاری کے تقریر کرسکتے ہیں اس لیے کہ بچپن سے مشق ہے۔ ایوان کے اندرانہوں نے یہ بتانے کے بجائے کہ چار سال میں ان کی حکومت نے کیا کیا اور جاتے جاتے کیا کرنا چاہتی ہے کانگریس کا دفتر کھول دیا اور ملک کےسارے مسائل کے لیے پنڈت نہرو کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ اس خطاب کے بعد راہل گاندھی کا جواب سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راہل کو اسی کی توقع تھی اور انہوں نے تیار شدہ تبصرہ کر دیا ۔ راہل نے سب پہلے تو وزیراعظم کا کانگریس کی یاد فرمائی کے لیے شکریہ ادا کیا اور گزارش کی کہ جس قدر توجہ انہوں نےماضی پر کی ہے ویسی ہی ملک کی حالیہ صورتھال اور مستقبل پر کرتے تو بہتر تھا ۔ راہل نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ راہل نے یاد دلایا کہ اب آپ اقتدار میں ہیں اس لیے سوالات کرنے بجائے جواب دیں اور اپنے تین سوال دوہرا دیئے۔ رفیل سودے میں بدعنوانی ہوئی یا نہیں ، کسانوں کے مسائل کیسے ہوں گے اور نوجوانوں کو روزگار کیوں کر ملے گا؟

پکوڑے سردیوں میں بھلے لگتے ہیں ۔ مودی جی نے انہیں تلنے کے لیے موسم تو درست چنا لیکن مقام غلط تھا ۔ یوروپ میں شدید سردی کے باوجود لوگ پکوڑے نہیں کھاتے ۔ پکوڑے تلنے کے لیے ان کا انتخاب بھی غلط نکل گیا ۔ تعلیم یافتہ نوجوان پکوڑے تلنا تو دور کھانا بھی چھوڑ چکے ہیں۔ آج کل وہ پکوڑوں کے بجائے برگر کھانے لگے ہیں ۔ ویسے اگر گوبھی کے بجائے مرغی کا پکوڑاہو اور اس کو روٹی کے بجائے ڈبل روٹی کے درمیان چھپا کر کھایا جائے تو وہ برگر کہلاتا ہے۔ خیر مودی جی کا یہ حسن انتخاب ملک کے ان نوجوانوں پر گراں گزرا جنہوں نے بڑے ارمان سے ہرسال دوکروڈ نئی ملازمت کے فریب میں آکرانہیں ووٹ دیا تھا ۔ مودی جی نے یہ تو کہا تھا کہ وہ دوکروڈ نوکریاں دیں گے لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ کیسے دیں گے؟
اقتدار میں تقریباً چار سال گزارنے کے بعد جب دوبارہ انتخاب کے بادل چھانے لگے تو پردھان سیوک کو یہ ترکیب سوجھی کہ کیوں نہ یہ نوکریاں عوام سے لے کر انہیں لوٹا دی جائیں۔ اسی لیے وہ کہہ رہے ہیں کہ نوکری مانگنے والے نہیں دینے والے بنو۔ مودی جی اس زبردست تجویز پر ایک لطیفہ یاد آیا ۔ بھیڑوں کے درمیان اس خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اس بجٹ میں سرکار نے انہیں کمبل دینے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ سن کر ایک بھولے بھالے میمنے نے معصومیت سے پوچھا لیکن کمبل کے لیے اون کہاں سے آئے گا ؟ اس سوال نے ساری خوشی غارت کردی۔ یہ عجیب مصیبت ہے کہ عوام ووٹ بھی دیں اور نوکری بھی دیں ۔ رہنماوں کا کام مسائل کوپیدا کرنا ہو اور عوام پر انہیں حل کرنے ذمہ داری ڈال دی جائے۔ اگر ایسا ہی ہے تو انتخاب پر ہزاروں کروڈ رپئے خرچ کرکے کسی کو اقتدار سونپنے کی اور اس کو پانے پوسنے پر کروڈہا کروڈ خرچ کرنے کی زحمت ہی کیوں کی جائے؟

پردھان سیوک کویہ زبردست ترکیب ضرور کسی عظیم سنگھ مفکر نے سجھائی ہوگی اس لیے کہ ایسی بڑی حماقت کی جرأت ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کے لیے سنگھ کی شاکھا میں برسوں تک نیکر پہن کر بھگوا پرچم کے آگے ہوا میںلاٹھی بھانجنا پڑتا ہے۔ مودی جی نے سوچا ہوگاان کے کہنے پر اگر ایک کروڈ بھکتوں نے دو لوگوں کو بھی نوکری دے دی تو دو کروڈ ملازمت کے مواقع نکل آئیں گے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ بھکت کیسےیہ نوکریاں دے سکتے ہیں؟ تو اس کا آسان سا جواب تھا وہ کچھ اور تو نہیں کرسکتے ہاں پکوڑے کی دوکان بہ آسانی کھول سکتے ہیں ۔ اس دوکان پر ایک بے روزگار پکوڑے تلے ، بھکت انہیں پروس کر رقم وصول کرے اوردوسرا بے روزگارجو ٹے برتن مانجھے ۔ اس طرح ہر پکوڑے کی دوکان پر تین لوگ برسرِ روزگار ہوجائیں گے اور بیروزگاری کا سنگین مسئلہ اپنے آپ حل ہوجائیگا لیکن افسوس کہ مودی جی کے پکوڑوں کا چولہا شدیدژالہ باری کے سبب درمیان ہی میں ٹھنڈا ہو گیا اور پکوڑے ادھ کچے ّ رہ گئے۔ اسے دوبارہ گرم کرنے کی کوشش پردھان سیوک کے پرم سیوک شاہ جی نے راجیہ سبھا کی اپنی پہلے تقریر میں کی لیکن وہاں تو کڑھائی ہی الٹ گئی اور اس حادثے میں بھکتوں کے ساتھ ان کے بھی چھالے پڑ گئے۔

اس سانحہ نے پردھان سیوک کو فکر مند کردیا اور اس کے تدارک کے لیے چنتن بیٹھک بلائی گئی تو یہ مشورہ سامنے آیا کہ بجٹ اجلا س چل رہا ہے اس لیے وزیراعظم صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان زخموں پر مرہم رکھیں ۔ وزیراعظم کے لیے یہ کام نہایت آسان تھا اس لیے کہ حالت خواب میں بھی وہ بھاشن دیتے رہتے ہیں لیکن اس بار تقریر کی تیاری کے بجائے سارا وقت نتن یاہو کے ساتھ سیر سپاٹے میں سرف ہوگیا ۔ نتن یاہو کے پاس تو کوئی کام نہیں تھا اس لیے وہ شہر گھوم گھوم کر مودی جی کے گن گاتا رہا اور پردھان سیوک اپنی تعریف سن سن کر خوش ہوتے رہے۔ ان کا مسئلہ فی الحال یہ ہے کہ دہلی میں کیجریوال اور راہل چین سے بیٹھنے نہیں دیتے ۔ ممبئی آتے ہیں تو ادھو اور راج ٹھاکرے برس پڑتےہیں ۔ حیدرآباد میں چندر شیکھر راو کے ساتھ چندرا بابو نائیڈو مل کر بھنبھوڑتے ہیں اور گجرات کےاندر میوانی اور پٹیل ایک ساتھ کاٹنے کو دوڑتے ہیں ۔ اس لیے اپنے پیچھے دم ہلانے کی خاطر اسرائیل کی خدمات لینی پڑیں ۔

یاہو کے ساتھ وقت تو بہت اچھا گزرا لیکن مسئلہ ایوان پارلیمان میں تقریر کا تھا ۔ کانگریس کے خلاف مودی جی بغیر تیاری کسی تیاری کے تقریر کرسکتے ہیں اس لیے کہ بچپن سے مشق ہے۔ ایوان کے اندرانہوں نے یہ بتانے کے بجائے کہ چار سال میں ان کی حکومت نے کیا کیا اور جاتے جاتے کیا کرنا چاہتی ہے کانگریس کا دفتر کھول دیا اور ملک کےسارے مسائل کے لیے پنڈت نہرو کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ اس خطاب کے بعد راہل گاندھی کا جواب سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راہل کو اسی کی توقع تھی اور انہوں نے تیار شدہ تبصرہ کر دیا ۔ راہل نے سب پہلے تو وزیراعظم کا کانگریس کی یاد فرمائی کے لیے شکریہ ادا کیا اور گزارش کی کہ جس قدر توجہ انہوں نےماضی پر کی ہے ویسی ہی ملک کی حالیہ صورتھال اور مستقبل پر کرتے تو بہتر تھا ۔ راہل نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ راہل نے یاد دلایا کہ اب آپ اقتدار میں ہیں اس لیے سوالات کرنے بجائے جواب دیں اور اپنے تین سوال دوہرا دیئے۔ رفیل سودے میں بدعنوانی ہوئی یا نہیں ، کسانوں کے مسائل کیسے ہوں گے اور نوجوانوں کو روزگار کیوں کر ملے گا؟

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں پنڈت نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے درمیان میں جھگڑا لگانے کی کوشش کی ۔ انہیں توقع تھی کہ ایسا کرنے سے ہاردک پٹیل اور راہل گاندھی میں لڑائی ہوجائیگی یا پٹیل رائے دہندگان ہاردک کو چھوڑ کر ان کے ساتھ آجائیں گے لیکن کانگریسیوں نے اس داوں کا بھی توڑ نکال لیااور ۱۴ نومبر ؁۲۰۱۵ کو وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کی ایک تقریر ٹوئیٹر پر نشر کر دی۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے یوم ولادت پر راجناتھ سنگھ نے وزیرداخلہ کی حیثیت سے اولین وزیر اعظم کو بہترین خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ اس تقریر کی خوبی یہ ہے کہ اس میں مودی جی کے ہر الزام کا بھرپور جواب موجود ہے ۔ اس طرح کانگریس نے کانٹے سے کانٹا نکالنے کی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم کوچاروں خانے چت کردیا۔ راجناتھ سنگھ نے تعریف کے ڈونگرے برساتے ہوے کہا تھا کہ پنڈت جی کی حکمت عملی سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ان کی نیت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔دراصل مودی جی کی مخالفت ان کی نیت کا کھوٹ ہے ۔ وزیر اعظم کی تقریر کے اندر سے ہوا نکالنے کیلئے ان میں سے ایک تیر بھی کافی تھا لیکن چہار جانب سے ہونے والی حملے کی تاب نہ لاکر پردھان سیوک اپنا علاج کرانے کے لیےپھر سے غیر ملکی دورے پر نکل کھڑے ہوئے۔ امید ہے وہ اسرائیل اور عرب ممالک کے دورے سے صحتیاب ہو کر لوٹیں گے۔

کانگریس کو اس بات کا احساس کرنے میں کہ وہ حزب اختلاف ہے ساڑھے تین سال لگ گئے لیکن بی جے پی اب بھی اپنے آپ کو اپوزیشن ہی سمجھتی ہے۔ ایوان پارلیمان میں حزب اختلاف کی ایک ذمہ داری ہنگامہ آرائی ہے لیکن اس بار ابتداء بی جے پی کی حلیف اور اقتدار میں حصہ دار تیلگو دیسم کی جانب سے ہوئی ۔ چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی کے دھوکہ دھڑی کا اندازہ کرکے ایوان میں بغاوت کا پہلا بگل بجایا لیکن بی جے پی کے ارکان کا شورو غل دیکھ کر یہ پتہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ وہ اقتدار میں ہیں یا حزب اختلاف ہیں۔ اس رویہ کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ اول تو اس کو اپنے پرانے اپوزیشن کےدن یاد آگئے ہوں اوربے ساختہ ان سے یہ حرکت سرزد ہوئی ہو یا انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ ایک سال بعد پھر سے جو کرنا ہے اس کی پیشگی مشق کرنے لگے ہوں ۔ خیر وجہ جو بھی ہو لیکن ایوان پارلیمان کا منظر گواہ ہے کہ فی الحال وہاں کوئی برسرِ اقتدار نہیں بلکہ سارے کے سارے حزب اختلاف ہیں ۔ایوان پارلیمان کی اس شکست حالی پر غالب کے ا شعار ترمیم کی معذرت کے ساتھ صادق آتے ہیں ؎
ابن مریم ہوا کرے کوئی اور پکوڑے تلا کرے کوئی
کون ہے جو نہیں ہے حاجتمند ، کس کی حاجت روا کرے کوئی

جمہوری سیاست کی تاریخ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اختلاط کا یہ انوکھا تجربہ چونکہ مودی جی کی قیادت ہورہا ہے اس لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں اوربعید نہیں کہ اس عظیم کارنامے کے لیے انہیں نوبل انعام سے نوازہ جائے۔ اگر یہ انہونی خدا نہ خواستہ ہوجائے تواس عالمی تقریب میں مہمانوں کا استقبال برگر کے بجائے پکوڑوں سے کیا جائے گا ۔ اونچے لوگ اونچی پسند ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *