زلزلے میں زندہ بچ جانے والی نوجوان لڑکیوں کو چند روپوں کے بدلے جسم فروشی پر مجبور کردیا، ایسا انکشاف منظر عام پر کہ دنیا کانپ اُٹھی

2010ءمیں جزائرغرب الہند کے ملک ہیٹی میں بدترین زلزلہ آیا جس نے پورے ملک میں تباہی پھیلا دی تھی۔ دنیا بھر کی فلاحی تنظیمیں وہاں زلزلہ زدگان کی مدد کو پہنچیں جن میں بین الاقوامی تنظیم آکسفیم(جو درحقیقت کئی عالمی فلاحی تنظیموں کی کنفیڈریشن ہے) بھی شامل تھی۔ اب آکسفیم کے 7کارکنوں کے وہاں ایسا انسانیت سوز اور شرمناک کام کرنے کا انکشاف سامنے آگیا ہے کہ سن کر ہی آدمی دہل جائے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ 7کارکن ہیٹی کی زلزلے میں زندہ بچ جانے والی تباہ حال، لٹی پٹی اور فاقہ زدہ نوجوان لڑکیوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے اور انہیں پیسوں کا لالچ دے کر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے تھے۔یہ بھیانک انکشاف سامنے آنے پر ان میں سے تین نے خود ہی استعفیٰ دے دیا جبکہ باقی چار کو تنظیم نے نوکری سے نکال دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان ہوس زادوں میں آکسفیم کا کنٹری ڈائریکٹر بھی شامل ہے جو لڑکیوں کو پیسے دے کر اپنے فلیٹ میں لیجاتا اور اپنی ہوس کا نشانہ بناتا تھا۔

یہ فلیٹ بھی اس شخص کو آکسفیم نے کرائے پر لے کر دے رکھا تھا۔ چیئرٹی کمیشن کا کہنا ہے کہ ”آکسفیم نے بھی ان جنسی الزامات کو چھپانے کی کوشش کی۔ 2011ءمیں ہونے والی ایک انویسٹی گیشن رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی لیکن تنظیم نے اس پر پردہ ڈال دیا۔ اس وقت صرف تنظیم کے 68سالہ ڈائریکٹر رونالڈ وین ہاﺅرمیئرین سے استعفیٰ لیا گیا تھا، لیکن اب جو تنظیم کی طرف سے خفیہ رکھی گئی رپورٹ لیک ہو کر منظرعام پر آئی ہے اس سے معلوم ہوا ہے کہ یہ الزامات اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیں اور ایک آدھ نہیں بلکہ متعدد کارکن اس کام میں ملوث رہ چکے ہیں۔اس رپورٹ سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ ان کارکنوں نے کئی کم عمر لڑکیوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کی۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *