راتوں رات بے پناہ شہرت حاصل کرنے والی ”پریا پراکاش“ میدان میں آ گئی اور منظرعام پر آتے ہی ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی داد دینے پر مجبور ہو گیا

چند سیکنڈ کی ویڈیو سے صرف تین دنوں میں سوشل میڈیا پر کروڑوں فالورز بنانے والی پریا پراکاش بالآخر میدان میں آ گئی ہے اور اس شہرت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہاہے اور جب دوستوں نے بتایا تو سمجھ نہ آئی کہ کیا کروں۔

پریا پراکاش کی پہلی فلم ”اورو اڈار لو“ کے گانے ”منیکیا ملارایا پووی“ سے ایک کلپ وائرل ہوا جس میں اس کی ’اٹکھیلیاں‘ دیکھ کر کروڑوں دل گھائل ہو گئے۔ اس کلپ کے بعد ایک اور ویڈیوز کلپ بھی سوشل میڈیا پر آ چکا ہے اور پہلے کلپ کی طرح ہی وائرل ہو رہا ہے۔

18 سالہ پریا نے بھارتی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس گانے، اپنی اٹکھیلیوں، اچانک ملنے والی شہرت اور فلمی دنیا میں اپنے مستقبل سمیت بہت سی باتیں کیں۔ پریا نے انکشاف کیا کہ ”اورو اڈار لو“ اس کی پہلی فلم ہے کیونکہ اس سے پہلے اس نے صرف 3 مختصر فلموں میں کام کیا ہے۔ راتوں رات ملنے والی شہرت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے پریا نے کہا کہ یہ سب کچھ اچانک ہوا اور اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی نہ تھی۔

اس کا کہنا تھا ”میں نے انسٹاگرام کا سٹیٹس چیک ہی نہیں کیا تھا، یہ تو میرے دوست تھے جو مجھے اس بارے میں بتاتے رہے۔ جیسا کہ پریا، ایک ملین، دو ملین۔۔۔“ پریا نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے چہرے کے تاثرات سے کیا پیغام دینا چاہ رہی تھی اور کہا کہ یہ ایک ”بہادرانہ“ عمل تھا۔ پریا نے کہا کہ ”ایسا ہرگز نہیں کہ لڑکیاں ’ونک‘ نہیں کر سکتیں، صرف لڑکے ہی ساری مستی کیوں کریں؟“

پریا کے خیال میں لڑکیوں کو مکمل آزادی ہونی چاہئے کہ وہ اپنی زندگی جیسے مرضی گزاریں۔ میزبان نے جب یہ سوال کیا کہ کیا انہوں نے اپنے تاثرات سے کوئی ’سیاسی‘ پیغام دینے کی کوشش تو نہیں کی؟ جس پر پریا کا کہنا تھا کہ اس نے صرف وہیں کیا جو ڈائریکٹر نے کرنے کو کہا۔ پریا نے مستقبل کے ارادوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ”میں صرف اداکاری کرنا چاہوں گی اور اس کیساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کروں گی جبکہ مختلف فلمی انڈسٹریز میں جا کر کچھ اچھی فلموں میں کام کرنا پسند کروں گی۔ پریا کے مطابق اسے بالی ووڈ کے ایک ڈائریکٹر کی فون کال بھی موصول ہوئی ہے لیکن وہ ”اورو اڈار لو“ ریلیز ہونے تک کسی فلم میں کام نہیں کریں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *