خواتین اپنے پرس میں کیا رکھتی ہیں ،حیران کن انکشاف

خواتین کے پہناوے کا چرچاہر ملک میں تو ہوتا ہی ہے ۔کہ وہ کیا پہتی ہیں ، انہیں کیا پسند ہے ۔اسی پسند اور ناپسد کو جاننے کے لے سعودی عرب میں بھی ایک سروے کیا گیا ۔ تاہم اس بار سروے کچھ مختلف انداز کا تھا اور سروے میں پوچھا گیا کہ ” خواتین کے پرس میں کیا ہوتا ہے “۔ عموماََبیشتر خواتین پرس کے بغیرگھروں سے نہیں نکلتیں۔آئینہ، رنگ، مارکہ ہر خاتون کے ذوق اور معیار کے مطابق ہوتا ہے۔ بعض خواتین چھوٹے ، دیگر بڑے اور متعدد درمیانے سائز کے پرس استعمال کرتی ہیں۔ سعودی ٹی وی نے خواتین سے ”ان کے پرس میں کیا ہے؟“ کے عنوان سے سوال کرکے حیرت میں ڈالدیا۔ نجی ٹی وی کے سروے سے جو نتائج سامنے آئے ان کے مطابق “بیشتر خواتین اپنی چھوٹی موٹی ضرورت کی چیزیں، میک اپ

چیزیں، میک اپ کا سامان، خوشبو یات ، گھر کی چابیاں اور قلم وغیرہ پرس میں لیکر ضرور چلتی ہیں چلتی ہیں۔ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ خواتین اپنے پرسوں میں مرودوں سے زیادہ رقم رکھتی ہیں ۔ڈیبٹ کارڈ، کریڈیٹ کارڈز کا استعمال مردوں میں زیادہ ہے ۔

فیض احمد فیضؔ کا 107واںیوم پیدائش

فیض احمد فیضؔ سے کون واقف نہیں،ادب کی دنیا کا ایک عظیم نام۔ معروف شاعر تابشؔ دہلوی نے بہت سچ کہا کہ ’ عظیم شخصیتوں کو دیکھ لینا بھی عظمت ہے‘۔ الحمد اﷲ مجھے یہ عظمت حاصل ہے کہ میں نے اردو ادب کی اس عظیم شخصیت کو نہ صرف دیکھا بلکہ بہت قریب سے دیکھا۔ فیض ؔ صاحب بلاشبہ پاکستان کے اُن چند گنے چنے شاعروں اور ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے دنیائے ادب میں پاکستان کو بلند مقام دیا۔فیض احمد فیضؔ 13فروری1911کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ آج ان کا 107یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے۔ یہ مضمون میں نے 2011ء میں اپنے سعودی عرب میں قیام کے دوران تحریر کیا تھا۔ فیض ؔ کی شاعری پر تو بہت لکھا گیا ، لکھا جارہا ہے، میرا تعلق فیض ؔ سے ایک شاگرد اور فیض بطور کالج کے پرنسپل کے رہا۔ یہی تعلق میری اس تحریر کی بنیاد ہے۔ فیض سے محبت و عقیدت اس لیے بھی ہے کہ میں نے فیض ؔ کو بہت قریب سے دیکھا، شعر بھی سنے ، تقریریں بھی سنی۔ کچھ صورت فیض کے ساتھ ایسی ہے ؂
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں………جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
فیض جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی جدید ادبی تحریک ، ترقی پسند ادبی تحریک کے بانی ارکان میں سے تھے۔فیضؔ پاکستان کا بہت بڑا شاعر اور ہر دل عزیز شاعر بھی ہے، فیضؔ کی شاعر ی کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا، لکھا جارہا ہے اور آئندہ بھی لکھا جائے گا مگر میَں شاعری سے قطع نظر فیضؔ کے بحیثیت کالج کے پرنسپل کے تذکرہ کر وں گا ، عام طور پر لوگ فیضؔ کو ایک بڑا شاعر ہی سمجھتے ہیں اور وہ ہے بھی لیکن بہت کم لوگوں کے علم میں یہ بات ہوگی کہ فیض ایک ماہر تعلیم ، پروفیسر، منتظم اور کالج پرنسپل بھی رہے اور اس حیثیت سے انہوں نے آٹھ سال (1964-1972) خدمات انجام دیں۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ فیض صاحب جب حاجی عبد اﷲ ہارون کالج کراچی کے پرنسپل تھے تو میں اس کالج کا طالب علم تھا،دو سال(1968-1970) میں اس کالج کا طالب علم رہا اور گریجویشن اسی کالج سے کیا۔ ایم اے کرنے کے بعد ۱۹۷۴ء میں میرا تبادلہ اسی کالج میں ہوگیا ،اس کالج میں میری خدمات 27 سالوں(1974-1997) پر محیط ہیں۔1972ء میں حکومت نے تمام تعلیمی اداروں کوقومی تحویل میں لے لیا تو فیضؔ صاحب نے سرکاری ملازمت اختیار کرنا مناسب نہ سمجھا لیکن وہ جب بھی کراچی میں ہوتے کالج ضرور آیا کرتے، اس طرح مجھے فیضؔ صاحب کو ہر دو حیثیتوں سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں تھا کہ فیض صاحب نے ملازمت اختیارکی تھی ،آپ نے اپنے کیرئیر کا آغاز ہی استاد کی حیثیت سے ایم اے او کالج امرتسر سے1935ء میں کیا تھا،آپ برطانوی ہند میں فوج میں اعلیٰ عہد ہ پر بھی رہ چکے تھے، اس وقت جب آپ نے محسوس کیا کہ انگریز اندرونِ خانہ پاکستان کے قیام کی مخالفت کررہا ہے تو آپ نے فوج کی ملازمت کو خیر باد کیا اور روزنامہ ’پاکستان ٹائمز‘ کی ادارت سنبھال لی۔گویا فیض صاحب شاعر و ادیب ہی نہیں بلکہ فوجی بھی تھے، صحافی بھی، استاد بھی تھے ، اعلیٰ منتظم اور ما ہر تعلیم بھی اور سب سے بڑھ کر ایک اچھے انسان تھے۔
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی….. جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم……………..جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
فیض احمد فیضؔ آٹھ برس(1964-1972)کراچی کے ایک ڈگری کالج ’’حاجی عبداﷲ ہارون کالج‘‘ کے پرنسپل رہے، آپ اس کالج کے بانی پرنسپل تھے۔ کالج کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ سر حاجی عبد اﷲ ہارون بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے، قائد اعظم کو آپ پر مکمل اعتماد تھا یہی وجہ ہے کہ عبد اﷲ ہارون ہر مر حلے پر قائد اعظم کے ہمراہ دکھا ئی دیتے ہیں جس کا ثبوت پیر علی محمدراشدی کے اس بیان سے ملتا ہے کہ’’ قائد اعظم محمد علی جناح 1938ء میں اوراس کے بعد عبد اﷲ ہارون مرحوم کے انتقال تک جب بھی کراچی تشریف لاتے ان کا قیام ہمیشہ ’’سیفیلڈ‘‘ یعنی سر حاجی عبد اﷲ ہارون کی رہائش واقع کلفٹن میں ہوتا۔ بر صغیر کے معروف تاجر اور سب سے بڑھ کر انسان دوست۔ آپ کی سیاسی، سماجی ، طبی ، تعلیمی اور قیام پاکستان کی جدوجہد میں بے لوث خدمات سے کسی کو انکار نہیں۔ حاجی عبد اﷲ ہارون سندھ کے ان مسلمان سیاست دانوں اور تاجروں میں سے تھے جن کے دل میں مسلمانوں کے لیے ہمدردی، اخوت اور ایثار کا جذبہ کو ٹ کوٹ کر بھرا تھا۔آپ نے مسلمانوں کی سیاسی اور اقتصادی بہتری اور فلاح کے لیے اپنی زندگی وقف کردی،آپ نے مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنے اور انہیں متحد کرنے میں بے پناہ محنت کی،آپ نے خواتین کی تعلیم اور ان کے حقوق کے لیے بھی جدوجہد کی، آپ نے مسلمانوں کی آواز کو دنیا میں پہنچانے اور عام کرنے کے لیے 1920ء میں ایک اخبار ’’الوحید‘‘ جاری کیا جس نے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی ، انگریز اور ہندو بوکھلا اٹھے ، آخر کار مقصد میں کامیابی ہو ئی لیکن افسوس کہ قیام پاکستان تک عبد اﷲ ہارون کی عمر نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ ان کا گھر ’سیفیلڈ‘ ہندوستان کے مسلمانوں کی سیا ست کا مرکز تھا، اس گھر میں بر صغیر کا شا ید ہی کوئی مسلمان رہ نما ایساہو جس کا گزر نہ ہو ا ہوجن میں قائد اعظم محمد علی جناح ، سر آغا خان،مو نا محمدو علی جوہر،مو لانا شو کت علی جو ہر، مولانا حسرت موہانی ، آزاد سبحانی، فضل حسین،فضل الحق،سر سکندر حیات،مسعود اﷲ، اکرام خان، سلطان احمد، صاحبزادہ عبد القیوم، ڈاکٹر انصاری، عبد الرحمٰن صدیقی، بہادر یار جنگ و غیرہ شامل مل ہیں۔ مجھے بھی اس گھر میں جانے کا اتفاق ہواکیونکہ یہ گھر عبد اﷲ ہارون کے بعد ان کے بیٹوں یوسف ہارون، محمود ہارون، سعید ہارون اور پوتے حسین ہارون کے سیاسی و سماجی سرگرمیوں کامرکز بھی رہا، زمانہ طالب علمی اور ابتدائی دنوں میں میَں لیاری میں رہائش پذیر تھا اور ایک سماجی تنظیم’ تاج ویلفیرسینٹر‘ کا سرگرم کارکن بھی تھا، محمود ہارون اس ادارے کے سر پرستِ اعلیٰ ہوا کرتے تھے، اسی حوالے سے مجھے سیفیلڈ جانے اور اس گھر کو دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا۔
کراچی کی قدیم بستی’’مچھروں کی بستی‘‘ ہے جو ’کھڈا مارکیٹ‘ کہلاتی ہے،اب اسے ’نواآباد اور میمن سوسائیٹی ‘ کہا جاتا ہے،یہی مچھیروں کی بستی کراچی کا نقطہ آغاز تھا۔ حاجی عبد اﷲ ہارون نے اسی بستی میں1923ء میں غریب لوگوں کے لیے ایک یتیم خانہ قائم کیا تھا، جو آج بھی قائم ہے، خود حاجی عبد اﷲ ہارون اسی یتیم خانے کے احاطہ میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔ حاجی عبد اﷲ ہارون کالج اور دیگر تعلیمی ادارے اسی احاطے میں قائم ہیں۔ حاجی عبد اﷲ ہارون کے انتقال کے بعد ان کے مشن کو جاری و سا ری رکھنے کے لیے’’ حاجی عبد اﷲ ہارون ایسو سی ایشن ‘‘ کا قیام عمل میں آیا، جس کی پر ستی حاجی عبد اﷲ ہارون کے بیٹوں نے کی، حاجی عبد اﷲ ہارون مسلم لیگی تھے، ان کے تینوں بیٹے تادمِ مرگ مسلم لیگی رہے۔اس ایسو سی ایشن نے حاجی عبد اﷲ ہارون کے قائم کردہ یتیم خانے کو فعال بنا یا، اسکول، کالج، ٹیکنیکل کالج، اسپتال اسی احاطے میں قائم کیے۔ غریب بستی میں قائم یہ تمام ادارے آج بھی قائم ہیں اور خدمات فراہم کر رہے ہیں۔فیض احمد فیضؔ کا ایک خو بصو رت شعر ؂
پھر نظر میں پُھول مہکے ، دل میں پھِر شمعیں جلیں
پھِر تصّور نے لِیا اُس بزم میں جانے کا نام
فیض صاحب نے جب اس کالج کی پرنسپل شپ اختیار کی وہ اس وقت بھی ایک بڑے اور معروف شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے، ان کا بڑا نام تھا، کراچی کی غریب بستی میں نئے کالج کا سربراہ بننا، کیا مصلحت تھی، کیا راز تھا، اس بات کا جواب فیض صاحب کی اپنی زبان سے سنیے، فیضؔ صاحب نے ڈاکٹر غلام حسین اظہر کو ایک انٹر ویو میں دیا، یہ انٹر ویو ڈاکٹر طاہر تونسوی کی مرتب کردہ کتاب ’’فیض کی تخلیقی شخصیت: تنقیدی مطالعہ‘‘میں شامل ہے۔سوال کیا گیا کہ ’آپ نے اس ادارے کی سربراہی کیوں قبول کی تھی‘؟فیض صاحب کا کہنا تھا’’جس علاقے میں حاجی عبد اﷲ ہارون کالج قائم کیا تھا اس میں ہائی سکول کے علاوہ تعلیم کی اور سہولتیں نہ تھیں، اس علاقہ میں اکثریت غریب عوام کی ہے، ماہی گیر،گاڑی چلانے والے اور مزدور پیشہ لوگ جو بچوں کوکا لج نہیں بھجوا سکتے تھے، یہ علاقہ بُرے لوگوں کا مرکز تھا یہاں ہر قسم کا غیر مستحسن کاروبار کیا جاتا تھا، اکثر غلط راہ پر بچپن ہی سے پڑ جاتے تھے، یہاں عبد اﷲ ہارون نے یتیم خانہ بنوایا تھا جو ہائی اسکول کے درجے تک پہنچ گیا تھا،باقی کچھ نہیں تھا،ان کے (حاجی عبد اﷲ ہارون )جانشینوں کی مصروفیات کچھ اور تھیں، صرف لیڈی نصرت ہارون کو اس ادارے سے دلچسپی تھی۔لندن سے واپسی پر انھوں نے ہم سے فرمائش کی کہ ہم یہ کام سنبھال لیں۔ ہم نے جاکر علاقہ دیکھا، بہت ہی پسماندہ علاقہ تھا، یہاں انٹر میڈیٹ کالج بنایا، پھر ڈگری کالج پھر ٹیکنکل اسکول اور پھر آڈیٹوریم ، کچھ رقم ہارون انڈسٹری سے خرچ کی گئی، کچھ ہم نے فراہم کی،ماہی گیروں کی سب سے بڑی کوآپریٹو سوسائیٹی بنی، انہوں نے ہمیں ڈائیریکٹر بنا لیا، ہم نے طے کیا کہ سوسائیٹی کے اخراجات سے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے اور بچوں کے سب اخراجات یہی ادارہ برداشت کرے، اس کالج میں طلبہ کی اکثریت کو مفت تعلیم دی جاتی تھی‘‘۔
فیض ؔ تکمیل آرزُو معلوم !……..ہوسکے تو یونہی بسر کردے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *