ویلنٹائن ڈے (Valentine Day)

14فروری آرہا ہے سرخ گلاب کی قسمت جاگ جائے گی جس پھول کو سال بھر کوئی پوچھتا نہیں عاشق ہاتھوں میں لئے لئےپھریں گے کہیں کوئی محبوبہ کے ساتھ درخت کے نیچے ہوگا، تو کوئی دیوار کے پیچھے ہوگا …. کسی کی کشتی جھیل جیسی آنکھوں میں ڈوب رہی ہوگی، ۔کوئی زلفوں کی چھاؤں میںلیٹا ہوگا زندگی بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں ہوں گی تم میرے ہوبس تم میرے ہو کے وعدے ہوں گے نشے میں ڈوبے لوگوں کو کوئی ہوش ہوگی نہ کسی کی پروا ہوگی فقط محبت کے نام پرمحبت رسوا ہوگی, ملاقاتِ محبوب کا اشتیاق بھی کیا خوب ہوتا ہے بھول کر اپنے رب کو انسان انسان کو پھول دیتا ہے ہوش نہیں کسی کو حشر میں ملاقات رب کا یہاں رب کو بھول کر انسان انسان کو اہمیت دیتا ہے اے کاش ! سمجھ میں آ

! سمجھ میں آ جائے امت کو یہ بات یہ ویلنٹائن ڈے کافروں کا دستور ہوتا ہے !

فرمان اللہ سبحانہ و تعالی : خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بےحیائی ھے, اور بہت ھی بری راہ ھے (سورةالاسراء آیت32)

فرمان رَسُولُ اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ :

کوئی شخص کسی اجنبی (غیرمحرم) عورت سےتنہائی میں ملاقات نہ کرے. آنکھوں کا زنا (غیرمحرم بنظر شہوت) دیکھنا ھے زبان کا زنا (غیرمحرم سےشہوت کی) بات کرنی ھے، (انسان کا) نفس آرزو اور خواہش کرتا ھے , اور شرمگاہ اسکی تصدیق یا تکذیب کرتی ھے (بخاری: 5233، 6243، ابوداؤد/2151)

شاید کہ آپ کے دل میں یہ بات اتر جائے اور سمجھ ﺁ جائے خوش قسمت ہے وہ انسان جس کو وقت سے پہلے ہوش آ جائے، اور سمجھ جائے کہ دنیا کی زندگی صرف آزمائش کے لئے ہے ! لوٹ آؤ اللہ کی طرف، اس سے پہلے کہ لوٹ جاؤ اللہ کی طرف مَن يَہۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِى‌ ۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ هُمُ ٱلۡخَـٰسِرُونَ

جس کواللہ ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں, یہ گمان کرتے ہوئے اللہ تبارك وتعالى سے ایسے نہ ڈرو کہ، میں نے جو نیکی کی ہے وہ قبول نہیں ہو گی, بلکہ اللہ تبارك وتعالى سے ڈرو کہ میں کوئی برائی کروں گی تو میری پکڑ ہو گی ..!! اللہ سبحانہ و تعالی سے دعا کریں کہ ہم سب کی اصلاح کی توفیق عطا فرماے, ﺍﮮ الله ہمیں شرم و حیا کی دولت سے مالا مال فرما, اے اللہ جو زندگی گناہوں میں کٹ گئی ہے اے اللہ اس پر معاف فرما، اور جو قدم اچھائی اور نیکی کی طرف لے جائیں ان پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما ، ﺍﮮ الله کریم ہم ﮔﻤﺮﺍﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺁ ۔ ﺍﮮ الله ﮨﻤﯿﮟﺑﻬﯽ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﮯ ﺟﻨﻬﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ, اے اللہ ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے, اللہ عزوجل ہمیں رسول اللہ ﷺ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما, یا ذوالجلال والاکرام یاالله ! ہماری دعائیں اپنی شان کے مطابق قبول فرما۔

ہارٹ سرجری

ہر شخص دل میں یہ خواہش رکھتا ہے کہ ملک سے کرپشن ختم ہوجائے لیکن حکمران اور اشرافیہ کی کرپشن کی طرف اشارہ کرکے خودکرپشن کرنے کو جائز سمجھتا ہے۔ظلم اور نا انصافی کے خلاف آوازیں اٹھاتا ہے لیکن خود ظلم و زیادتی کرتا ہے کہ ملک میں انصاف تو ہے ہی نہیں۔ غنڈے بدماشوں کو بھتہ دینے کا بہانا بنا کر دوکاندار ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی کرتا ہے۔کم تنخواہ کو جواز بنا کر عام ملازم رشوت لیتا ہے۔ ٹریفک کا قانون توڑا جاتا ہے کہ کوئی قانون نہیں مانتا۔ اخلاقیات کا درس دینے والا دوسروں کی بداخلاقی کو جواز بنا کر خود بداخلاقی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ گویا کہ دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت والا معاملہ ہے۔ ہر کوئی دوسروں کی برائی دیکھتا ہے اور اس کی اصلاح کرنا چاہتا ہے لیکن خود اپنی اصلاح نہیں کرتا۔ گویا کہ اسے اللہ کے سامنے اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی اعمال کا جواب دینا ہے۔ جبکہ اللہ تعالٰی ہمیں اپنی فکر کرنے کی تنبیح کرتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۚ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿١٠٥﴾ سورة المائدة
’’اے ایمان والو! تم اپنی جانوں کی فکر کرو، تمہیں کوئی گمراہ نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر تم ہدایت پر رہے، تم سب کو اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمھیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو‘‘

لیکن اب تو مسلمان یہ بھول گیا ہے کہ اسے اللہ کے پاس واپس بھی جانا ہے ۔ اس لئے وہ نہ ہی اپنی فکر کرتا ہے اور نہ اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے بلکہ دوسروں کی فکر اور دوسروں کی گمراہی سے خود کو گمراہ کرتا ہے۔
ایسے میں معاشرہ کیسے بدلے؟
ملک میں تبدیلی کیسے آئے؟
نہ ہی کوئی بدلے گا اور نہ ہی یہ کرپٹ معاشرہ سدھرے گا۔
معاشرہ نہ ہی ایک دن میں بگڑا ہے اور نہ ہی ایک دن میں سدھر سکتا ہے۔
لیکن اس کرپٹ معاشرے کو سدھارنے کا ایک نشخہ یا ایک فارمولا ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ہمیں دیا ہے۔
اور وہ ہے’’ ہارٹ سرجری‘‘۔
آج مسلمانوں کی اکثریت کو ہارٹ سرجری کی ضرورت ہے۔
کیونکہ آج اکثر مسلمانوں کے دل بیمار ہیں اور ان کے دل کے سارے والوزvalves بلاک ہو گئے ہیں۔ اس لئے خیر و بھلائی کی باتوں کا ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ لوگ اپنی کا ن سے حق سنتے ہیں لیکن ان کا دل حق قبول نہیں کرتا ‘ اپنی آنکھوں سے کرپٹ لوگوں کا عبرتناک انجام دیکھتے ہیں لیکن ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ لوگ کرپشن‘ ظلم و زیادتی کرنے سے باز نہیں آتے۔ نہ یہ بہرے ہیں اور نہ ہی اندھے بلکہ ان کے دل اندھے ہو چکے ہیں:

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۖ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَـٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ ) ٤٦( سورة الحج
’’ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل (حق کو) سمجھنے والے اور اِن کے کان (آواز حق) سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘ ۔

لہذا دل کی اندھاپن دور کرنے کیلئے ہارٹ سرجری کی ضرورت ہے۔
ہمیں ہارٹ سرجن بننا ہوگا ‘ روحانی ہارٹ سرجن اور سب سے پہلے اپنا ہارٹ سرجری کرنا ہوگا تاکہ ہماری نگاہ ایسی ہو جائے کہ

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

اور ایسی نگاہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سچی اطاعت سے ہی ممکن ہے۔
نبی کریم ﷺ جب نبوت سے سرفراز ہوئے تو سب سے پہلے سے آپﷺ نے لوگوں کے دلوں کی جس طرح ہارٹ سرجری شروع کی تھی ہمیں بھی اس ہارٹ سرجری کے طریقے سیکھنے ہوں گے اور اپنا اور لوگوں کا ہارٹ سرجری کرنا ہوگا۔ جب یہ ہارٹ ٹھیک ہو جائے گا تو پورا معاشرہ ٹھیک ہوجائے گا۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

’’انسان کے جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ ٹھیک کام کرے تو سمجھو کہ پورا جسم ٹھیک کام کرے گا اور جب وہ خراب ہو جائے تو پورے جسم کا نظام خراب ہو جائے گا اور وہ دل ہے‘‘ ۔ ( بخاری و مسلم(
اور
آپ ﷺ نے اپنے قلبِ اطہر کی طرف تین مرتبہ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا! ’’ تقویٰ یہاں ہوتا ہے’ ! تقویٰ یہاں ہوتا ہے’ ! تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘ ۔ (صحیح مسلم)

اور تقویٰ اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف ہے ۔تقویٰ اس دل میں پیدا ہوتا ہے جس دل میں آخرت کے حساب اور جزا و سزا پر یقین ہو۔ آخرت سے مراد موت کے بعد کی زندگی ہے جس میں دنیا میں انسان اپنی نیک و بد اعمال کے بنیاد پر اللہ کے روبرو حساب کتاب کے بعد یا تو جنت میں دائمی ے آرام و چین کی زندگی بسر کرے گا یا جہنم کی عذاب میں مبتلا ہوگا۔ اسے عقیدہ آخرت کہتے ہیں جس کی درستگی ایمان کی تکمیل کرتی ہے۔ اللہ کی عدالت میں جواب دہی کا احساس بندے کو نیکی و تقویٰ کی راہ پر گامزن کرتا ہے اور اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ کی بلندیوں پر پہنچا تاہے ۔ لیکن اگر اس عقیدہ آخرت میں کمزوری آ جائے تو انسان میں عملی اور اخلاقی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ دنیا کو اپنا مقصود سمجھ کر ہر طرح کی کرپشن اور ظلم و زیادتی کی راہ پر چلنا شروع کر دیتا ہے۔
آج مسلمانوں کی اکثریت کے دلوں میں عقیدہ آخرت کا والو valve بلاک ہو چکا ہے اور ایمان کمزور ہو چکا ہے۔ اس لئے تقویٰ کا گزر دلوں سے ہوتا ہی نہیں۔ لوگ دنیا میں اس طرح مگن ہیں جیسا کہ انہیں مرنا ہی نہیں یا مرنے کے بعد دوبارہ جی کر اٹھنا اور اللہ کے روبرو پیش ہونا ہی نہیں۔ اس لئے کوئی بھی جرم اور کرپشن کرنے سے نہیں چوکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *