طوائف

میں نے ایک طوائف کی آنکھوں میں بھی حیاء دیکھی ہے اور ایک باپردہ آنکھوں میں بھی ہوس محسوس کی ہے۔میں نے لباس میں بھی لوگوں کو عریاں پایا ہے اور بے لباس لوگوں میں بھی پاکیزگی دیکھی ہے۔ میں نے گناہوں میں ڈوبے لوگوں کو راتوں کو روتے دیکھا ہے اور نیکی کرنے والوں کو دوسروں پر ہنستے دیکھا ہے۔کس کا کردار اچھا اور کس کا برا یہ صرف اللہ جانتا ہے کیونکہ انسان صرف اچھے انسان سے محبت کرتا ہےجبکہ اللہ برے انسان کو بھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔

ہمیں کسی پر فتوے لگانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میںایک آدمی کا بڑا بیٹا بہت لا ئق اور ہونہار طالب علم تھا لیکن چھوٹا بیٹا اتنا ہی نا لائق تھا۔ جب رزلٹ کا دن آیا تو باپ چھوٹے بیٹے کے پاس گیا اور بولا کہ آپ ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئے آپ کو پتہ نہیں ہے کہ ہم نے آج آپ کا رزلٹ لینے کے لیے آپ کے سکول جانا ہے۔ لڑکا بولا کہ ابو پلیز آپ مت جائیں میں اکیلے چلا جاتا ہوں میں کوئی احسن کی طرح لائق فائق تھوڑی ہوں کہ آپ فخر سے میرے ساتھ سکول جا سکیں ۔ آپ کی بھی بے عزتی ہوگی۔باپ مسکرا کر بولا کہ بیٹا مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا رزلٹ برا ہوتا ہے، میں آپ کا باپ ہوں اور ہر حالات میں ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا اور آپ مایوس کیوں ہوتے ہو آپ کا اور احسن کا بھلا کیا مقابلہ اور سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں کسی بھی دو انسانوں کا آپس میں کبھی کسی قسم کا مقابلہ نہیں بنتا۔ جب اللہ نے اس دنیا میں گھاس کا بیج بویا تھا تو وہ اگلے گھنٹے پوری دنیا میں ہری بھری نظر آنے لگی تھی لیکن کیا اللہ نے بانس کا بیج بے وجہ بنایا تھا؟ جب گھاس کا بیج لگایا تو اگلے گھنٹے پوری دنیا ہری بھری نظر آنے لگی اور جب بانس کا لگایا تو پہلے ایک سال کچھ نظر نہیں آیا، پھر دوسرا سال اسی طرح گزر گیااور کوئی بیل بوٹا نہیں اگا۔ لیکن کیا اللہ نے بانس کو بے مقصد بنایا تھا یا اس کے بیج بنانا بند کر دیے تھے۔ جب دو سال بعد بانس کا پودہ اگا

تو بالکل چھوٹا سا تھا، کمزور۔ لیکن جب بانس کا پودہ بڑا ہوتا ہے تو کتنا خوبصورت لگتا ہے۔ اتنا لمبا اونچا اور مضبوط، پھر اس کے آگے گھاس کی پتیاں کیسی لگتی ہیں۔ تو کسی کا کسی کے ساتھ موازنہ بے مقصد کی باتیں ہیں اور وقت کا ضیاع ہے۔ اس نے اپنے بیٹے کو بہت کم عمری میں ایک بہت قیمتی سبق سکھا دیا تھاکہ دنیا کے کارخانے میں کوئی بھی شے بے مقصد نہیں ہوتی اور کسی کا دوسرے انسان سے کوئی مقابلہ نہیں۔

سب الگ ہیں اور ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں ایسے میں ہر ایک اس دنیا میں ایک انمول رنگ بھرتا ہے اور جو لوگ اپنے بچوں میں اس طرح کے مقابلے بوتے ہیں، اس کا کڑوا پھل ان کی ذہنی بیماریوں کی صورت ساری عمر برداشت بھی کرتے رہتے ہیں۔ اللہ سب کو عقل دے

زندگی میں ہر کام کا ایک نتیجہ ہوتا ہے اور پھر ایک دن ہمیں یہ نتیجے بھگنتے بھی ہوتے ہیں۔ مگر ہم ہر کام بغیر سوچے سمجھے اس انداز سے کرتے ہیں کہ ہمیں کبھی بھی اسکا کوئی نتیجہ نہیں ملنا۔ بس ایویں کر لیتے ہیں۔ مگر ہر روز کا کام اکٹھا ہوتا رہتا ہے اور پھر ایک دن نتجے کی صورت ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ خاص طو پر دیوانی قسم کی جواانی میں تو انسان کو واقعی میں یہی لگتا رہتا ہے کہ کھا لے پی لے جی لے۔ یہی ہے زندگی۔

آج کے دن یعنی کہ چودہ فروری کو جو بھی یہ نسل کرنا چاہتی ہے اورجو جو جتنا جتنا کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسکو اپنی کامیابی گردانتا ہے کہ بہت بڑا معرکہ مار لیا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ جسمانی لحاظ سے اللہ نے آپکو جب کہ مخصوص قواعد و ضوابط کا پابند کیا ہے ۔ ہمارا معاشرہ ہمیں کہیں نہ کہیں سے یہ بتا اور دکھا رہا ہے کہ نہیں نہیں ان قواعد کا پابند بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جو جب جیسے جس کے ساتھ دل چاہیں کر لیں۔

آپ کو اپنے جذبات جو کہ اپنے شریک حیات کے لئے ہی بچا کر رکھنے ہیں آپ خوشی سے انکو ادھر اُدھر لُٹاتے رہیں ٹائم پاس کے نام پر ۔ پھر جزبات کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ ٹائم پاس نہیں ہوتے ۔ یہ کب کتنے سنجیدہ ہو جائیں آپ کچھ جانتے نہیں ہیں ۔ آپ کو خود بھی ، خود کا پتہ نہیں لگتا ۔ آپ کب کس کے ساتھ سنجیدہ ہو جائیں مگر سامنے والا آپکے ساتھ بس ٹائم پاس میں ہی ہو اور آپکو پتہ نہ لگے اور بے خبری میں ہی آپ مارے جائیں۔ جب تک آنکھ کھلے تب تک خاصی دیر بھی ہو چکی ہو۔

اسی طرح ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب آپ اس طرح کے کسی بھی ٹائم پاس میں دل سے ہوتے ہیں تو آپ دوسرے اہم رشتوں کو در خوعتنا نہیں سمجھتے اور ادھر ادھر وقت لٹانا تو ضروری سمجھتے ہیں مگر جدھر لٹانا چاہئے ادھر لٹاتے نہیں سو اسی وجہ سے پھر آپکو بڑھتی عمر کے ساتھ احساس تنہائی شدت کا محسوس ہونے لگتا ہے اور آپکو سمجھ نہیں آتی کہ آپ کیا کریں کیا نہ کریں ۔ بہت سے لوگ زندگی میں آتے جاتے ہیں مگر آپکو سمجھ نہیں آتی کہ احساس خوشی پھر بھی کیوں نہیں ہے۔

ہماری روح کو اللہ نے اس طرح کا بنایا ہے کہ وہ صرف اچھے کاموں سے ہی پاکیزہ رہتی ہے۔ اگر آپ منع کئے گئے کام کرتے رہیں گے اللہ کے اصولوں کو بخوشی توڑتے رہیں گے تو ایک وقت آئے گا کہ آپکو کچھ بھی برا ، برا محسوس ہی نہیں ہوگا ۔ آپ برے کو بھی اچھا سمجھنے لگ جائیں گے اور آپکو خود کو یہ پتہ بھی نہیں ہوگا کہ آپ یہ غلطی کر رہے ہیں سو ایسے غلط کار کرنے سے بچئے۔

زندگی ایک ہی دفعہ ملی ہے اسکا صیح ٹیسٹ لینے کے لئے آپکو اچھے کاموں کو پکڑنا ہوگا ۔ صیح کاموں کو پکڑنا ہوگا تب ہی آپ کر سکیں گے تب ہی آپ جی سکیں گے۔ اگر صیح کاموں کو نہیں کریں گے تو صرف زندہ ہوں گے مگر جی نہیں رہے ہوں گے۔ سو زندگی میں انتخاب سوچ سمجھ کر کریں ۔
اللہ کے اصول چننے ہیں یا سو کالڈ کُول کہلانے والے اصول ۔

رقص

ایک لڑکی نے سوچا کہ اگر میں اچانک اپنے خاوند کو یہ بتائے بغیر چلی جاو¿ں کہ میں کہاں جا رہی ہوں تو ان کا ردعمل کیا ہو گا؟ یہ سوچ کر اس نے خط لکھا “میں آپ سے تنگ آ چکی ہوںاور مزید آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی. میں آپ کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جا رہی ہوں‘ یہ خط لکھ کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور خود بیڈ کے نیچے چھپ گئی. جب اس کا خاوند واپس آیا

تو اس نے خط پڑھا ‘پہلے اس کی پشت پر کچھ لکھا اور پھر اس نے ناچنا اور گانا شروع کر دیا. وہ خوشی سے دیوانہ وار ناچ رہا تھا‘ اس نے اسی طرح جھومتے ہوئے اپنا فون اٹھایا‘کسی لڑکی کو نمبر ملایا اور بولا‘جان آج میں بہت خوش ہوں‘ میں اپنی بیوی سے بہتبیوی سے بہت تنگ تھا، آج مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس سے شادی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی‘میں بس کپڑے بدل کر تم سے ملنے آ رہا ہوں‘اب بس تم ہو گی‘ میں ہوں گا اور رقص میں سارا جنگل ہو گا‘اس کے بعد اس نے کپڑے بدلے اور گھر سے باہر چلا گیا. اس کی بیوی کچھ دیر بیڈ کے نیچے ہی لیٹی رہی‘منہ پر ہاتھ رکھ کر روتی رہی، آخر ہمت کر کے باہر نکلی. پھر اس نے سوچا کہ آخر اس کے خاوند نے خط کے پیچھے کیا لکھا تھا؟ اس نے کاغذ پلٹا تو وہاں لکھا تھا‘پاگل عورت بیڈ کے نیچے سے تمہارے پائوں نظر آ رہے تھے‘ میں مارکیٹ سے دودھ لینے جا رہا ہوں، دس منٹ میں آ جائوں گا.

لدی پھندی لمبی مسافرت اور پرواز کے لئے روانگی ہوئی تو ڈرائیور نے اپنے ایک عزیز کے ذریعے سامان کی ترسیل میں مدد دلانے کا اظہار کیا۔نیکی اور پوچھ پوچھ، اسوقت اس مدد کی شدیدضرورت تھی۔ ائر پورٹ پر ایک اژدھام تھا۔ ایسے میں جبکہ ایک مستعد شخص مدد کے لئے ٹرالی لئے،سامان اور سیٹ کی سہولت بہم پہنچانے کے لئے تیار کھڑا ہو اس وقت اس سے بڑی نعمت کیا ہوسکتی تھی جبکہ ذہن سامان اور وزن میں الجھا ہوا ہو۔

داخلی دروازے پر ایک ماں بیٹی کا وِ داعی منظر دلگداز اور رقت انگیز تھا بیٹی اور نواسے کو بمشکل رخصت کرتے ہوئے آنسو پونچھتی ہوئی ماں نے مجھے تھام لیا اس وعدے کے ساتھ کہ میں جہاز میں دوران پرواز انکی بیٹی اور نواسے کا خیال رکھوں گی۔

تمام مراحل سے گزر کر اس مددگار نے مجھے خدا حافظ کہا اور میں سی آئی پی لاؤنج کے لئے روانہ ہوئی ۔
یہ لاؤنج ایک گوشہ عافیت تھا اسکا مجھے اسوقت احساس ہوا جب اسی پرواز پر جانے والی ایک دوست کا فون آیا کہ وہ میری منتظر ہیں ۔میرے پرزور اصرار پر بھی وہ اندر آنے پر تیار نہ ہوئیں۔ تو میں خود ہی باہر ہولی ہم دونوں نے اپنی طبع شدہ کتابیں ایک دوسرے کو دیں اس وعدے پر کہ اب جہاز میں ملاقات ہوگی۔وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ کئی پروازیں جا رہی تھیں اور مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی ۔اسلام آباد کا نیا ائرپورٹ کب کام شروع کریگا؟ ہم جیسی عوام کو شدت سے انتظار ہے ۔

سیڑھیوں پر ہاتھ کا سامان لے جانا اب کافی مشکل لگتا ہے ۔اللہ بھلا کرے انکا جو مدد کو تیار ہوجاتے ہیں۔
جہاز میں سیٹ سنبھالی بیچ کی سیٹ چھوڑ ایک لڑکا بیٹھ گیا۔ جب کچھ دیر کے بعد بات چیت ہوئی تو معلوم ہوا کہ اٹلانٹا میں نیورو سرجری میں ریزیڈنسی کر رہا ہے،ذہین اور فطین بچہ تھا۔ غنیمت ہے کہ بیچ کی سیٹ خالی رہی۔ اور ہم دونوں سکون سے رہے۔

پی آئی اے کا یہ جہاز یوں سمجھ لیں فضا کے دوش پر اڑتا ہوا پاکستان ہے ،پاکستان کے ہر خطے کے لوگ نظر آتے ہیں‎۔ تفریحی سسٹم اسوقت بھی خراب تھا اسکے باوجود کانوں میں لگانے والے پلگ تقسیم ہوئے ۔ جب فضائی میزبان سے پوچھا کہ یہ کس لئے ہیں ؟ تو مسکرا کر کہا ، “دعا کیجئے شاید چل جائے”
اسوقت جب دنیا کے تقریباً ہر جہاز میں یہ سسٹم موجود ہے پی آئی اے کے جہاز میں یہ پچھلے سال سے خراب ہے۔غالبا اسکی بحالی یا مرمت کو غیر ضروری سمجھا گیا ورنہ ٹھیک ہو چکا ہوتا۔ میرے لئے یوں باعث اطمینان ہے کہ اسی بہانے آنکھیں موند لی جاتی ہیں۔ اب تو بیشتر جہازوں میں وائی فائی کی سہولت ہے امارات ائر لائن کے جہازوں میں مفت سہولت ہے۔

پی آئی اے ایک زمانے میں دنیا کے بہترین ائر لائن میں شمار ہوتاتھا ۔ اسوقت کی کئی مشہور ائر لائنز مثلاً امارات ، ملائشین، اور دیگر کئ ایک کو اسنے رہنمائی اور تربیت فراہم کی ۔ آج بھی اسکے منجھے ہوئے ہواباز کسی سے کم نہیں ہیں۔ ابھی تک یہ حکومت کے زیر تصرف ہےاور قومی ایئرلائن کی حیثیت ہے ۔پاکستان کے ابتدائی برسوں میں اورئنٹ ائر ویز کے بعد پی آئی اے کا قیام عمل میں آیا ۔اسکا مقولہ تھا
Great people to fly with
عظیم افراد پی آئی اے کے مسافر

اقربا پروری عملے کی غیر ضروری زیادتی اور بد عنوانی نے اس محکمے کو گہنا دیا ہے اور کارکردگی بری طرح متاثر کی ہے ۔ ماضی میں نج کاری کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں ۔نج کاری سے حالات شاید بہتر ہوجاتے ۔پی آئی اے والے دیگر ائیر لائن کے نفاذ کو مورد الزام ٹہراتے ہیں جبکہ یہ تو ہونا ہی تھا اسی سے تو مسابقت کی دوڑ ہوتی ہے ۔ شہری ہوا بازی میں عروج و زوال کی داستانیں کافی عام ہیں امریکہ میں آ ئے روز ائر لائن دیوالیہ ہو جاتے ہیں یا ایک دوسرے میں ضم ہوجاتے ہیں۔

امریکہ سے تو تمام پروازیں بند ہو چکی ہیں ٹورنٹو کی یہ پرواز پی آئی اے کی اسوقت مثالی پرواز ہے اگر راستے میں کہیں رکنے کی ضرورت نہ ہو تو تیرہ چودہ گھنٹے میں اسلام آباد کا سفر انتہائی آرام دہ ہوتا ہے۔
اب ان خاتون سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا ۔ اٹھ کھڑی ہوئی یوں بھی تاکید تھی کہ ایک آدھ گھنٹے کے بعد کچھ حرکت ضروری ہے۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں لیکن وہ لڑکی مجھے نہ مل سکی ۔ قوی امید تھی کہ اب تک سنبھل چکی ہوگی لیکن کاش کہ مل جاتی ۔

جہاز منزل کی جانب رواں دواں تھا ۔ سوتے جاگتے ، کھاتے پیتے ، نمازیں ادا کرتے تھوڑا بہت چہل قدمی اور گپ شپ کرکے وقت تیزی سے گزر رہاتھا ۔

ٹورنٹو اترنے کیلئے جہاز نیچے آیا تو حد نظر تک برف کی سفید چادر بچھی ہوئی دکھائی دی۔ ۲۰ ڈگری سنٹی گریڈ سے ہم منفی ۲۰ کی جانب سات سمندر پار پہونچ چکے تھے ۔ اندرون چلنے والی گرمائش سے اس سردی اور ٹھنڈک کا بالکل اندازہ نہیں ہوتا ۔ باہر کی فضاء میں تمام کوٹ جیکٹ سمیت پانچ منٹ نہیں گزارے جاتے۔اسلام آباد اور پاکستان کو ہم ہزاروں میل دور چھوڑ آئے تھے اور اس سرزمین پرپہنچ چکے تھے جسکو دوسرا وطن کہہ سکتے ہیں جہاں ہماری پہچان پاکستانی کینیڈئن کے طور پر ہے ۔ یہاں پر ہمارا وقت پاکستان سے نو گھنٹے پیچھے تھا پاکستان میں اگلی تاریخ شروع ہو چکی تھی اور رات کے تقریباً دو بجے تھے اور یہاں پچھلی تاریخ کے شام کے پانچ بج رہے تھے ۔ جیٹ طیاروں کی برق۔رفتاری کی بدولت ہم یہاں کے ٹائم زون میں پہونچ چکے تھے ۔ جسمانی گھڑی کو اسکا عادی ہونے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔

جہاز کو گیٹ میسر نہیں تھا تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد جہاز آکر رکا ۔ امیگریشن وغیرہ سے گزر کر سامان کی وصولی کے لئے پہنچی تو معلوم ہوا کہ ابھی تو سامان کی آمد شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔ ادھر ادھر دیکھا تو وہ لڑ کی اپنے بچے کو بہلاتی ہوئی دکھائی دی ۔ میں لپک کے ملی اسکی خیریت دریافت کی خوش وخرم دکھائی دی سامان کی منتظر تھی ایک لوڈر لے رکھا تھا ،اسنے کہا کہ امی آپکا پوچھ رہی تھیں جہاز میں اسکی نشست مجھ سے کافی دور تھی۔ میرا فون نمبر لیا ۔ یوں مجھے بھی اطمینان ہوا ۔

ہمارا سامان آنے میں دو گھنٹے لگ گئے جہاز کے سامان کا دروازہ سخت سردی سے جم گیا تھا اور بڑی مشکلوں سے اسکو کھولاگیا ۔ تھکان سے چور، یوں محسوس ہو رہاتھا کہ ٹانگیں شل ہو گئی ہوں لیکن انجام بخیر تو سب بخیر۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے۔
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں۔

اگر آپ کمر کے درد کا شکار ہیں تو اللہ رب العزت کے اس حکم پر عمل کریں ۔۔۔ امریکی یونیورسٹی کی ایسی تحقیق جس کی افادیت کو غیر مسلم بھی ماننے پر مجبور ہو گئے

لند ن(آن لائن) برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی، امریکا کی مینیسوٹا یونیورسٹی اور پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے دوان اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی نماز یا عبادت کے طریقہ کار اور جسمانی صحت کے فوائد کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اگر پانچ وقت کی نماز کو عادت بنالیا جائے اور درست انداز سے ادا کی جائے گی

تو یہ کمردرد کے مسائل سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔تحقیق کے مطابق نماز کی مختلف چیزوں کی ادائیگی کے دوران کمر کے زاویوں میں تبدیلی سے کمر درد میں نمایاں کمی آتیہے۔محققین کا کہنا تھا کہ نماز کے دوران جسم کی حرکات یوگا یا فزیکل تھراپی سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کمر کے درد کے علاج کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مختلف طبی رپورٹس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ نماز اور جسمانی طور پر صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنے میں تعلق موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نماز جسمانی تناو اور بے چینی کا خاتمہ کرتی ہے۔تحقیق کے دوران مختلف تجربات سے معلوم ہوا کہ دوران نماز رکوع اور سجدے کی حالت میں کمر کا زاویہ ایسا ہوتا ہے جو کمر درد میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔تاہم محققین نے بتایا کہ کمردرد میں کمی اسی وقت ممکن ہے جب اسے بالکل درست انداز سے ادا کیا جائے۔اس کے برعکس نماز کے اراکین کو ٹھیک طرح سے ادا نہ کرنا درحقیقت درد میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔یہ تحقیق جریدے انٹرنیشنل جرنل آف انڈسٹریل اینڈ سسٹمز انجنیئرنگ میں شائع ہوئی۔

واقعہ کچھ یوں ہوا، یہ اُس دور کی بات ہے جب نپولین نے روس پر حملہ کیا تھا۔ اُس کے فوجی دستے ایک اور چھوٹے سے قصبے میں جنگ میں مصروف تھے۔ اتفاق سے نپولین اپنے آدمیوں سے بچھڑ گیا۔ کاسک فوج کے ایک دستے نے نپولین کو پہچان لیا اور شہر کی پُرپیچ گلیوں میں اُس کا تعاقب شروع کردیا۔ نپولین اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتا ہوا ایک بغلی گلی میں واقع ایک سمور فروش کی دکان میں جا گھسا۔ وہ بری طرح ہانپ رہا تھا۔دکان میں داخل ہونے کے بعد جوں ہی اُس کی نگاہ سمور فرش پر پڑی وہ بے چارگی سے کراہتے ہوئے بولا ’’مجھے بچالو! مجھے بچالو! مجھے کہیں چھپا دو۔‘‘ سمورفروش بولا ’’جلدی کرو! اُس گوشے میںسمور کے ڈھیر کے اندر چھپ جائو!‘‘ پھر اُس نے نپولین کے اوپر اور بہت سے سمور ڈال دیے۔

ابھی وہ اس کام سے فارغ ہوا ہی تھا کہ کاسک فوجی دستہ دندناتا ہوا اُس کی دکان میں آ گھسا اور فوجی چیخنے لگے ’’وہ کہاں ہے؟‘‘ ’’ہم نے اُسے اندر آتے ہوئے دیکھا ہے؟‘‘ سمور فروش کے احتجاج کے باوجود اُن فوجیوں نے سمورفروش کی دکان الٹ پلٹ کر رکھ دی۔ نپولین کی تلاش میں اُنھوں نے دکان کا چپا چپا چھان مارا۔وہ اپنی تلواروں کی نوکیںسمور کے ڈھیر میں گھساتے رہے لیکن نپولین کو تلاش نہ کر پائے۔ بالآخراُنھوں نے اپنی کوشش ترک کر دی اور واپس چلے گئے۔ کچھ دیر بعد جب سکون ہوگیا تو نپولین سمور کے ڈھیر میں سے رینگتا ہوا باہر نکل آیا۔ اُسے کسی قسم کا کوئی گزند نہیں پہنچا تھا۔

عین اُسی لمحے نپولین کے ذاتی محافظ بھی اُسے تلاش کرتے ہوئے وہاں آن پہنچے اور دکان میں داخل ہوگئے۔ سمورفروش کوجب اندازہ ہوگیا کہ اُس نے کس عظیم شخصیت کو پناہ دی تھی تو وہ نپولین کی جانب گھوم گیا اور شرمیلے لہجے میں گویا ہوا ’’میں اتنے عظیم آدمی سے یہ سوال پوچھنے پر معذرت چاہوں گا! لیکن سمور کے اِس ڈھیر کے نیچے جب آپ کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ اگلا لمحہ یقینی طور پر آپ کی زندگی کا آخری لمحہ بھی ہو سکتا تھا تو آپ کو کیا محسوس ہوا تھا؟‘‘ نپولین جو اب پوری آن بان کے ساتھ تن کر کھڑا ہوچکا تھا، سمورفروش کے اِس سوال پر غصے میں آگیا اور برہمی سے بولا ’’تمھیں مجھ سے، بادشاہ نپولین سے، یہ سوال کرنے کی ہمت کیوں کر ہوئی؟‘‘

پھر وہ اپنے محافظوں سے مخاطب ہوا ’’محافظو! اس گستاخ شخص کو باہر لے جائو۔ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دو اور اِسے گولی مار دو! میں بذاتِ خود اس پر فائر کھولنے کا حکم دوں گا۔‘‘ محافظوں نے اُس بے چارے سمور فروش کو دبوچ لیا اور اُسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ پھر اُسے ایک دیوار کے ساتھ کھڑا کرکے اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ سمورفروش کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، البتہ اُس کے کانوں میں محافظوں کے حرکت کرنے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں جو دھیرے دھیرے ایک قطار میں کھڑے ہو کر اپنی رائفلیں تیار کر رہے تھے۔

ساتھ ہی اُسے سرد ہوا کے جھونکوںاور کپڑوں کی سرسراہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔ ہوا کے تھپیڑے اُس کے لباس سے ٹکرا رہے تھے اور اُس کے گال یخ ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اُس کی ٹانگیں کپکپا رہی تھیں اور وہ اُن پر قابو پانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ تب اُس کے کانوں میں نپولین کی آواز سنائی دی جس نے کھنکارتے ہوئے اپنا گلا صاف کیا اور آہستگی سے بولا ’’ہوشیار… شست باندھ لو۔‘‘ اُس لمحے میں یہ جانتے ہوئے کہ اُس کے تمام احساسات و جذبات اُس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہونے والے ہیں، سمورفروش کے اندر ایک ایسا احساس نموپذیر ہونے لگا، جسے بیان کرنے سے وہ قاصر تھا۔اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہو گئے۔

اُسے قدموں کی چاپ سنائی دی جو اُس کی جانب بڑھ رہی تھی۔ جب وہ آواز اُس کے عین نزدیک آ گئی تو کسی نے ایک جھٹکے سے اُس کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھول دی۔ اچانک روشنی ہونے سے سمورفروش کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں، تب اُس نے نپولین کو دیکھا جو اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اُس کے مقابل کھڑا تھا۔ اُس نے نپولین کے لب وا ہوتے دیکھے۔ وہ نرم لہجے میں بول رہا تھا ’’اب تمھیں پتاچل گیا؟‘‘

شیطان سے ملاقات

ایک دن ایک اداکارہ نے مجھ سے پوچھا ’’ اس دنیا کی رنگا رنگی اور خوبصورتی کس کے وجود سے ہے ؟ ’’یہ سوال کر کے وہ جواب بن کر سامنے بیٹھ گئی ، لیکن جب میں نے کہا ’’ شیطان کے دم قدم سے ۔تو اس نے سر سے لے کر پاؤں تک مجھے یوں دیکھا جیسے میں نے کہہ دیا ہو

’’ میری وجہ سے ۔شیطان سے میرا پہلی بار باقاعدہ تعارف اس دن ہوا جب میری ملاقات اپنے گاؤں کے مولوی صاحب سے ہوئی ، میں نے ان کی کسی بات پر اختلاف کیا تو انھوں نے میرے والد صاحب سے کہا ’’ آپ کا لڑکا بڑا شیطان ہوگیا ہے.’’انھوں نے ٹھیک ہی کہا تھا کیونکہ اس دنیا میں پہلی بار اختلاف رائے شیطان ہی نے کیا ۔یوں وہ اس دنیا میں جمہوریت کا بانی ہے ۔ شیطان مرد کے دماغ میں رہتا ہے اور عورت کے دل میں ۔ہر آدمی شیطان سے پناہ مانگتا ہے اور کئی لوگوں کو وہ پناہ دے بھی دیتا ہے ۔ شیطان اور فرشتے میں یہ فرق ہے کہ شیطان بننے کے لئے پہلے فرشتہ ہونا ضروری ہے ۔جہاں تک شیطان کو آدم کو سجدہ نہ کرنے کا تعلق ہے ، وہ سب اس کا پبلسٹی سٹنٹ تھا ، جس کی وجہ سے اسے شہرت ملی ، کہ جہاں جہاں رحمان کا ذکر آتا ہے

وہاں اس کا ذکر ضرور ہوتا ہے ۔ورنہ اس آدم کو تو وہ سو سو سجدے کرنے کے لئے آج بھی تیار ہے ۔میں شیطان دںسے کبھی نہیں گھبرایا لیکن برا آدمی دیکھ کر ہی ڈر جاتا ہوں کیونکہ شیطان برا وسٹ پڑھنے کے لئے کریںسے کبھی نہیں گھبرایا لیکن برا آدمی دیکھ کر ہی ڈر جاتا ہوں کیونکہ شیطان برا فرشتہ ہے برا انسان نہیں ۔

سادگی اپنوں کی اور غیروں کی عیاری بھی دیکھ

تبلیغی جماعت کی تشکیل ۱۹۲۶میں اس وقت عمل میں آئی تھی جب ملک میں ارتداد کی ایک تیز آندھی چل پڑی تھی ، عام مسلمانوں کی دین سے دورافتادگی کے سبب تبدیلیٔ مذہب کے واقعات بڑھنے لگےتھے ۔ان واقعات پر علمائے حق کی تشویش حق بجانب تھی اور ارتداد کی روک تھام کیلئے جن علماء نے حتی الامکان اپنی اپنی بساط بھر جدوجہد شروع کی ان میں مولانا محمد الیاس کاندھلوی ؒپیش پیش تھےانہیںدارالعلوم دیوبند کے مشہور عالم دین مولانا محمودحسن دیوبندی ؒکی علمی و روحانی سرپرستی حاصل تھی جو شیخ الہند کہے جاتے تھے ۔آزادی ٔ ہند کی تحریکات میں ان کا بڑا حصہ تھا ،مشہور زمانہ ریشمی رومال کی تحریک انہوں نے ہی چلائی تھی جس میں مولانا عبیداللہ سندھی جیسے ہوشمنداور جذبہ ٔ سرفروشی سے سرشارعلماءکی اچھی خاصی تعدادان کی ہمرکاب تھی ۔مولانا الیاس کاندھلوی ؒ نے جب یہ محسوس کیا کہ بھولے بھالے مسلمان غربت و افلاس اور دین سے دوری کے سبب دائرہ ٔ اسلام سے نکلتے جارہے ہیں ،انہیں شدید قلق ہوا ،انہوں نے فیصلہ کیا کہ فی الوقت سب سے ضروری کام یہ ہے کہ اس ارتداد کی لہر کو روکاجائے اور خصوصاً دوردراز کے دیہاتوں اور قریوں میں مقیم ان مسلمانوں سے رابطہ کیا جائے جو شدھی تحریک کا بہ آسانی شکار ہوتے جارہے ہیں ۔وہ درس وتدریس جیسے کام کو چھوڑکر دہلی پہنچےاوربستی نظام الدین کی بنگلہ والی مسجد سے دعوت و تبلیغ کی مہم کا آغاز کیا رفتہ رفتہ لوگ جڑتے گئے۔میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر ۰۰۰کےمصداق وہ تحریک بڑھتے بڑھتے ایک عالمگیر تحریک کی شکل اختیار کرگئی ۔آج دنیا کے گوشے گوشے میں اصلاح امت کا کام بڑے پیمانے پر جاری ہے جس سے نہ صرف یہ کہ ارتداد کی وہ تیز لہر رک گئی بلکہ بڑی تعداد میں وہ لوگ بھی اسلام سے قریب ہونے لگے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ اسلام کے حریف بنے ہوئے تھے ۔اس وقت میوات کا خطہ بے حد مخدوش تھاجہاںمسلمانوں کی عرفیت صرف ان کے اسلامی ناموں تک ہی محدودرہ گئی تھی ،عملی طور پر دیگراسلامی شناخت سے وہ یکسر خالی تھے ،مولانا ان خطوں میں متواتر جماعتیں بھیجتے رہے ۔ایک واقعہ مشہور ہے مولانا میوات پہنچے وہاں ایک کسان میاں محراب جی سے ملے ،انہیں دعوت دی وہ مسلسل ان سنی کرتے رہے یہاں تک کہ ایک دن طیش میں آکرمیاں محراب نے انہیں اتنی زور سے دھکادیا کہ وہ گرپڑے،مولانا زخمی ہوگئے لیکن مایوس نہ ہوئے اور برابر اصلاح و دعوت کے کام میں لگے رہے بالآخر ایک دن میاں محراب نے ہل پھینک دیا اور مولانا کے ساتھ ایسا لگے کہ پوری زندگی ہی ان کے ساتھ گزاردی ۔اس طرح کے متعدد واقعات شاہد ہیں کہ جماعت کے افراد جان و مال کی پرواکئے بغیر بس اللہ اور اسکے رسول کی خوشنودی تلا ش کرتے رہے ،ظاہر ہے جہاں ذاتی فائدے سے پرے انتہائی خلوص کا مظاہرہ کیا جائے اللہ کی نصرت کیوں نہیں شامل ہوگی ۔ جماعت کی کارکردگیوں اور اس کے خوش کن نتائج یہ بتاتے ہیں کہ جو امتیاز اس جماعت کو حاصل ہے ہندوستان بھر میں چلائی جانے والی کسی دیگر اسلامی تحریک کو حاصل نہیں ،چونکہ اس جماعت کو ہمیشہ علمائے حق کا تعاون حاصل رہا ہے اور اکثر جید علماء اس تحریک میں وقت بھی لگاتے رہے ہیں ۔غالباً ۱۹۸۰کی بات ہے ٹانڈہ فیض آباد میں ایک بڑا اجتماع ہوا تھا ،اس کے لئے جس زمین کا استعمال کیا گیا وہ ایک مشہور آریہ سماجی اور کانگریسی لیڈرمصری لال آریہ کی تھی اس اجتماع سےمولانا انعام الحسن کاندھلویؒ اور مولانا محمد عمر پالن پوریؒ وغیرہم نے خطاب کیا۔ مصری لال آریہ بہ نفس نفیس اس اجتماع میں شریک ہوئے اختتام پر ان کے تاثرات یہ تھے، یہ زمین یونہی پڑی تھی جس پر مویشیوں اور انسانی غلاظتوں کا انبار لگا رہتا تھا لیکن اب یہ زمین پوتر ہوگئی ہےمنتظمین سے یہ درخواست بھی کی اس طرح کے اجتماعات دوبارہ بھی کئے جائیں تاکہ اس کی پوترتا باقی رہے ۔ ایک اور واقعہ یاد آگیا ، ٹانڈہ نگر پالیکا کے چیئرمین اور رئیس شہر حیات محمد انصاری بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ایک متوازن انسان تھے تین دن کی جماعت میں گئے لوٹنے پر ان کے تجربات یہ تھے ۔تین دن مسجد کی کھردری چٹائیوں پر جو آرام مجھے حاصل ہوا وہ اپنی پرتعیش کوٹھی میں عمر بھر نہ مل سکا اس کے بعد وہ تا حیات جماعت سے منسلک رہے اور ہمیشہ معاون و مددگار بنے رہے ۔

وقت کے ساتھ ساتھ تحریکیں بھی کسل مندی اور پژمردگی کا شکار ہوتی ہیں۔ اصل نشانے سے جب نظریں ہٹتی ہیں تو کبر و نخوت اور انانیت پسندی کا غلبہ بڑھ جاتا ہے اس کی ضرب جب اتحاو و اتفاق پر پڑتی ہے تو وہیںسے انتشار و اختلاف کی راہیں کھل جاتی ہیں ۔جماعت بھی کچھ اسی طرح کے بحران کا شکارہے ،آپسی تناؤ اور تنافر کے سبب یہ جماعت تقریبا ً دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے ۔ایک گروپ کی قیادت مولانا سعد کاندھلوی کررہے ہیں تو دوسرے کی سربراہی مولانا لاڈ نے سنبھال رکھی ہے جس کے منفی نتائج ملک بھر میںانتشار کی صورت میں دکھائی دینے لگے ہیںجس سے اصل کام تو متاثر ہوہی رہا ہے ،ساتھ ہی عوامی سطح پر یہ پیغام بھی مسلسل پہنچ رہا ہے کہ ایک اللہ ،ایک رسول ؐاور ایک قرآن کے ہوتےہوئے یہ انتشار کی نوبت کیوں آرہی ہے ۔ظاہر ہے اس میں انانیت اور خود پسندی کا سب سے بڑا عمل دخل ہے جو کسی بھی تحریک کی تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہے ۔اس سے قبل جمعیۃ علمائے ہند میں انتشار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کی یہ مضبوط تنظیم دو حصوں میں بٹ گئی اور پورا ملک تماشا دیکھتا رہا ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ دونو ں گروپ ہمہ وقت اتحاد امت پر زور دیتے ہیں اب ان سے کون پوچھے کہ اتحاد امت کا یہ فلسفہ کیا ان پر نہیں عائد ہوتا ۔آج تبلیغی جماعت بھی تفریق و تقسیم کے دہانے پر ہے اور اصلاح امت کا جو کام جاری تھا وہ بڑی حد تک کمزور پڑچکا ہے ۔علماءیا دیگر دردمندان ملت کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ اجتماعی سطح پر دونوں گروپوں کے افراد کو اکٹھا کریں اور ان میں اختلاف و انتشار کی اس چلتی ہوئی آندھی کو روک دیں تاکہ اتحاد و اتفاق کی وہ لطیف ہوائیں پھر سے چلنے لگیں جو امت وسط کی اصل شناخت ہیں ۔ایک طرف ملکی سیاست میں طوفان مچا ہوا ہے ، فرقہ پرست طاقتیں ۲۴؍گھنٹے مسلمانوں کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اخبارات ان کے غلیظ اور غیر انسانی بیانات سے خالی رہ جائیں اب تو صورتحال یہ ہے کہ سیکولر سیاسی جماعتیں بھی مسلمانوں سے چشم پوشی کرنے لگی ہیں انہیں ہندوتوکی حمایت میں ہی اپنا مستقبل نظر آنے لگا ہے ۔دوسری طرف ہم آپس میںہی ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھا رہے ہیں اور ذلیل و رسوا کررہے ہیں ۔حضرت علیؓنے ایک موقع پر کہا تھا ، وہ باطل پر ہیں اور متحد ہیں اور ہم حق پر ہیںلیکن منتشر ہیں ،کیا ہمارے لئے یہ لمحہ ٔ فکریہ نہیں ہے ۔

بابائے قوم قائد اعظم کی بیٹی ’دینا جناح‘ برسوں بعد مزار قائد پر آئیں تو انہوں نے وزیٹرز بک میں کیا لکھا؟

‎
دینا جناح آج کل بھارت میں رہائش پذیر هیں اور انکی عمر اس وقت تقریبا 97
سال ہے یاد رہے شادی کے بعد سے دینا جناح کا نام’’دینا واڈیا‘‘ ہے،‎ﮨﺮ ﺑﺎﭖ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﯿﮑﯽ ﺍﻭﺭ
ﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﭼﻠﮯ۔ ﮐﺌﯽ ﺑﮍﮮ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ
ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻭ ﺗﺮﺑﯿﺖ
ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﺎﻝ ﭘﺎﺗﮯ۔ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺍُﻥ ﮐﺎ
ﺑﯿﭩﺎ ﯾﺎ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﻧﮑﻠﮯﺗﻮ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺗﻮ
ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯿﻮﮞ ﮐﯽ

ﺳﺰﺍ
ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ۔ ‎ﺑﺎﻧﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ
ﮨﯽ ﮨﻮﺍ۔ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺭﺳﯽ
ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺭﺗﻦ ﺑﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 
ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ۔ ﺭﺗﻦ ﺑﺎﺋﯽ ﻧﮯ شادی سے پہلے ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﯿﺎ
ﻧﺎﻡ ﻣﺮﯾﻢ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ
ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﻨﺎ ﺟﻨﺎﺡ ﺭﮐﮭﺎ
ﮔﯿﺎ۔ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﮯ
ﺑﺎﻋﺚ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﭘﺎﺗﮯ
ﺗﮭﮯ۔ﻣﺮﯾﻢ ﺟﻨﺎﺡ 1929ﺀ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ 29 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ
ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺩﯾﻨﺎ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺻﺮﻑ ﺩﺱ
ﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ۔ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﮐﻠﻮﺗﯽ
ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦ
ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺟﻨﺎﺡ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺫﻣﮧ
ﺩﺍﺭﯼ ﺳﻮﻧﭙﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻭ ﺗﺮﺑﯿﺖ
ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﻮ ﻗﺮآﻥ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ
ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﺍﮐﻠﻮﺗﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺴﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﺍﻭﺭ
ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ آﻝ ﺍﻧﮉﯾﺎ
ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﻠﯿﭧ ﻓﺎﺭﻡ ﺳﮯ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ
ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ آﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺭﮨﮯ
ﺗﮭﮯ۔ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺟﻨﺎﺡ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺑﮭﯽ
ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺳﺮﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﻟﮩٰﺬﺍ
ﺩﯾﻨﺎ ﺟﻨﺎﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺭﺳﯽ ﻧﻨﮭﯿﺎﻝ ﮐﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔ ‎ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ آﯾﺎ ﺟﺐ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ
ﭘﺘﮧﭼﻼ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺭﺳﯽ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﯿﻮﻝ
ﻭﺍﮈﯾﺎ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ‎ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ

ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﮯ
ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺎ۔ ﺍﺱ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﭘﺮ ﺑﺎﭖ
ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﮐﺌﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﮯ۔ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ
ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﻻﮐﮭﻮﮞ ﭘﮍﮬﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻟﮍﮐﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻢ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ
ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ
ﻟﻮ۔ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ
ﻣﯿﮟ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺗﮭﯽﻟﯿﮑﻦ
آﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺭﺳﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ؟ ﻗﺎﺋﺪ
ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ

ﮐﮧ ﭘﯿﺎﺭﯼ
ﺑﯿﭩﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ
ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺛﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ۔ ﻭﮦ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ
ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺟﻦ ﮐﯽ آﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﭘﺮ
ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺮﺩﻧﯿﮟ ﮐﭩﻮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ
ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺿﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮯ ﺑﺲ ﮨﻮ
ﮔﺌﮯ۔ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯽ۔ ‎ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ 
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺗﮭﮯ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ
ﻧﮯ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﺎ ﺟﻠﻨﺎ ﮐﻢ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﭘﺮ ﻣﺒﺎﺭﮐﺒﺎﺩ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﮈ آﺗﺎ ﺗﻮ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ
ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ

ﮐﮧ ”ﻣﺴﺰ
ﻭﺍﮈﯾﺎ آﭖ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﮑﺮﯾﮧ“ ۔ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ
ﻣﺨﺎﻟﻔﯿﻦ ﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ
ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ
ﮐﺮ ﻟﯽ ﻭﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻟﯿﮉﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﮍﯼ ﺭﮨﯽ۔1948ﺀ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺋﺪ
ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺍﮈﯾﺎ
ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺮﺍﭼﯽ آﺋﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﻤﺒﺌﯽ ﺳﮯ
ﻧﯿﻮﯾﺎﺭﮎ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ
ﭘﯿﭙﺮﺯ ﭘﺮﺍﺟﯿﮑﭧ ﮐﮯ ﺍﯾﮉﯾﭩﺮ ﺍﻧﭽﯿﻒ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺯﻭﺍﺭ ﺣﺴﯿﻦ
ﺯﯾﺪﯼ ﮐﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺍﮈﯾﺎ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﺗﮭﺎ۔

ﻭﮦ 2004ﺀ ﻣﯿﮟ
ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺍﮈﯾﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﮭﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺯﻭﺍﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﺯﯾﺪﯼ ﮐﮯ
ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺍﮈﯾﺎ ﮐﺎ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﺗﻮ
ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺍﮈﯾﺎ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﯽ
ﺑﯿﭩﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ آﺝ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺒﺖ
 ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﺴﻠﯽ ﻭﺍﮈﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺗﻮﮞ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ آﺋﯽ
ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺷﮩﺮﺕ ﻧﮩﯿﮟﮐﻤﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ۔ ‎ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺯﯾﺪﯼ2009ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﺌﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺍﮈﯾﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﭽﮫ

ﻋﺮﺻﮧ ﻗﺒﻞ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻤﺒﺌﯽ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺡ ﮨﺎؤﺱ ﮐﯽ ﻣﻠﮑﯿﺖ ﮐﯿﻠﺌﮯ
ﻣﻤﺒﺌﯽ ﮨﺎﺋﯽ ﮐﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺩﺍﺋﺮ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ
ﮐﮧ ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ آﺧﺮﯼ ﺩﻥ ﮔﺰﺍﺭﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ
ﺗﮏ ﺟﻨﺎﺡ ﮨﺎؤﺱ ﻣﻤﺒﺌﯽ ﮐﯽ ﻣﻠﮑﯿﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﯽ۔ ﻭﮦ
ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﻮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﯽ
ﺗﮭﯿﮟﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ
ﻋﻈﯿﻢ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ
ﺿﺮﻭﺭ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺒﮭﯽﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ
ﻣﺎﻟﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔ ﻗﺎﺋﺪ
ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ

ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ
ﺩﮐﮫ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﻮ
ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ﯾﮧ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ عظیم سیاسی ﺍﻧﺴﺎﻥ
ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﻗﺼﮧ ﮨﮯ۔ ‎ﺍﺏ ﺍﯾﮏ نامور ﺩﯾﻨﺪﺍﺭ عالم دین ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ
ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﯿﺠﯿﮯ۔ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﮐﮯ
ﺑﺎﻧﯽ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﺑﻮﺍﻻﻋﻠﯽٰ ﻣﻮﺩﻭﺩﯼ ﮐﯽ ﺩﯾﻨﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﺎ
ﺍﯾﮏ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﻌﺘﺮﻑ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻣﻔﺴﺮ ﺗﮭﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺣﯿﺪﺭ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﻣﻮﺩﻭﺩﯼ ﺟﻤﺎﻋﺖ
ﺍﺳﻼﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﻧﺎﻗﺪ ﮨﯿﮟ۔ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺍﺳﻼﻣﯽ
ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﺣﯿﺪﺭ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﻣﻮﺩﻭﺩﯼ ﮐﻮ ﺳﺨﺖ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ
ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺎﺿﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ

ﮐﮯ
ﺧﻼﻑ ﺑﯿﺎﻥ ﺑﯿﺎﺯﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﭘﺮ
ﺳﻨﮕﯿﻦ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﮐﮯ ﺍﻟﺰﺍﻣﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ.ﯿﺪﺭ
ﻓﺎﺭﻭﻕ ﻣﻮﺩﻭﺩﯼ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻣﻮﻻﻧﺎ
ﺍﺑﻮﺍﻻﻋﻠﯽٰ ﻣﻮﺩﻭﺩﯼ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﺳﯽ
ﻣﺮﺗﺒﮯ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺯﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ۔
54 سال بعد قائداعظم کی بیٹی دینا واڈیا 2004 میں مزار قائد پر آئی! ‎تصویر میں دینا واڈیا روتے هوئے مزار قائد سے واپس جا رہی هیں! ‎ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﻔﺮﺩﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﻧﺼﻒ ﺻﺪﯼ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺮﺻﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﺩﯾﻨﮯ
آﺋﯽ ﮨﻮ،

ﺍﺱ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺟﺴﮯ ﺍﺱ ﻧﮯﺑﺎﭖ ﮐﯽ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ آﺧﺮﯼ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﻧﮧ ﻣﻠﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔ ‎ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺩﯾﻨﺎﻭﺍﮈﯾﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﻮ
ﺍﯾﮏ ﻗﻄﻌﯽ ﻧﺠﯽ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺖ ﺭﮐﮭﺎ، ﺍﺱ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ
ﭘﺮ ﺟﺴﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ
ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ، ﺣﮑﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﻈﺎﺑﻖ، ﺍﺱ ﺧﻮﺍﮨﺶ
ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ،ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ، ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﺎﺿﺮﯼ
ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮﮐﻮﺋﯽ ﻓﻮﭨﻮﮔﺮﺍﻓﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ
ﭼﺎﮨﺌﮯ ﻭﺭﻧﮧﻭﮦ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔ ‎ﺩﯾﻨﺎﺟﻨﺎﺡ ﻧﮯ، ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻭﺍﮈﯾﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻟﯽ
ﺗﮭﯽ

ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﮐﺸﯿﺪﮦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺘﻢ
ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺩﯾﻨﺎ 1948ﺀ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ آﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ 56 ﺳﺎﻝ
ﺑﻌﺪ ﺍﺏ آﺋﯽ ﮨﯿﮟ، ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﮐﺮﮐﭧ ﻣﯿﭻ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺟﻮﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﻻﮨﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ‎ﻭﮦ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ
ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺮﺍﭼﯽ آﺋﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﻧﮯ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ آﮐﺮ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﺩﯾﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﺎ۔ ‎ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﻓﻮﭨﻮﮔﺮﺍﻓﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﯽ

ﻣﮕﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔‎ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺍﮈﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ
ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﻣﻐﻠﻮﺏ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺸﮩﯿﺮ ﮨﻮ۔ ‎ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﻭﺯﯾﭩﺮﺑﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺌﮯﮔﻮ ﻣﺨﺘﺼﺮﺍً ___ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ وزیٹر بک پر ایک جملہ یوں ﻟﮑﮭﺎ” ‎ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﮐﮫ ﺑﮭﺮﺍ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﯿﺠﺌﮯ۔” ‎ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺍﮈﯾﺎ ﻧﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯿﮟ،
ﺟﻦ ﮐﯽ ﻧﻘﻮﻝ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﻠﺪﮨﯽ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔ ﯾﮧ
ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﺩﻻﺗﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﯽ

ﮐﮧ ﯾﮧ
ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﯽ ﮨﯿﮟ۔ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺍﮈﯾﺎ ﻧﮯ ﻗﺎﺋﺪﮐﯽ ﺷﯿﺮﻭﺍﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ
ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﺯﯼ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻭﺍﻗﻔﯿﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ
ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮔﺰﺭﮮ، ﺑﯿﺘﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﺎ ﻋﮑﺲ ﮨﮯﺟﻮ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮔﺎ، ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ‎ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً
ﺳﺎﭨﮫ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮﺣﺎﺿﺮﮨﻮﺋﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ
ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﯽ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ

ﺍﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺳﮑﺎ۔ ‎ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻓﻠﯿﮓ ﺍﺳﭩﺎﻑ ﮨﺎؤﺱ ﻟﺌﮯ ﮔﺌﯽ
ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺩﺭﺍﺕ ﺩﯾﮑﮭﮯ،ﻭﮦ
ﻣﻮﮨﭩﺎ ﭘﯿﻠﺲ ﮔﺌﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﮭﻮﭘﮭﯽ
ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺟﻨﺎﺡ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻭﺯﯾﺮ
ﻣﯿﻨﺸﻦ ﮔﺌﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﮮ ﺳﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺍﮈﯾﺎ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﺗﺴﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮﮔﯽ،
ﻣﮕﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﭨﮫ ﺑﺮﺱ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ غلطی ﮐﺎ ﻣﺪﺍﻭﺍ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ!

آپ بھی شکر کیجئے اور مجھے بھی کرنے دیجئے

دنیا میں ہر حکمران کے مشیر ہوتے ہیں‘ یہ مشیر مختلف مسائل کے حل کیلئے حکمران کو مشورے دیتے ہیں‘ دنیا کے سب سے اچھے مشیر مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے پاس تھے‘ ان کی تعداد 9 تھی اور یہ لوگ اس وجہ سے نورتن کہلاتے ہیں‘ یہ اپنے اپنے شعبے کے انتہائی ذہین اور ماہر لوگ تھے اور ان لوگوں کی وجہ سے اکبر نے پورے برصغیر جس میں اب سات ملک شامل ہیں پر انچاس سال 8 ماہ حکومت کی اور اکبر اعظم کہلایااکبر کے نورتنوں میں بیربل نام کا ایک شخص بھی شامل تھا‘یہ انتہائی ذہین اور حاضر جواب شخص تھا‘

ایک دن کھانے کی میز پر بادشاہ چاقو سے سیب چھیل رہا تھا‘ چاقو پھسلا‘ بادشاہ کی کلائی پر لگا اور بادشاہ زخمی ہو گیا‘ بیربل کے منہ سے بے اختیار شکر الحمد اللہ نکل گیا‘ بادشاہ نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور کہا ’’ میں زخمی ہو گیا ہوں۔مگر تم شکر ادا کر رہے ہو‘ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا‘‘ بیربل نے عرض کیا ’’حضور میں نے سیانوں سے سنا تھا انسان کو چھوٹی مصیبت بڑی مصیبت سے بچاتی ہے‘ آپ کی کلائی زخمی ہو گئی‘ میرے خیال میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی بڑی مصیبت سے بچا لیا ہے چنانچہ میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا‘ بادشاہ کو یہ جواز پسند نہ آیا‘ اس نے گارڈز کو اشارہ کیا‘گارڈز نے بیربل کو بادشاہ کی ڈائننگ ٹیبل سے اٹھا کر جیل میں پھینک دیا‘بادشاہ اگلے دن شکار پر چلا گیا‘ شکار کے دوران وہ چار پانچ ساتھیوں کے ساتھ اپنے لشکر سے بچھڑ گیاوہ جنگل میں گم ہو گیا‘ ایک جنگلی قبیلے نے بادشاہ کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا‘ وہ اس قبیلے کی دیوی کو بھینٹ دینے کا دن تھا‘ اس دن جو بھی شخص ان کے ہتھے چڑھتا تھا‘ وہ اسے پکڑ کر دیوی کے سامنے ذبح کر دیتے تھے‘ وہ بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کو بھی لے کر سیدھے قربان گاہ پہنچ گئے‘ بادشاہ نے انہیں سمجھانے کی بڑی کوشش کی‘ میں اکبر ہوں‘ میں بادشاہ ہوں مگر ان کا کہنا تھا رْول از رْول‘ ہم آج کے دن کسی اجنبی کی جان نہیں بخش سکتے‘‘۔انہوں نے اس کے ساتھ ہی اکبر کے تمام ساتھیوں کے سر اتار دیئے‘

اب اکبر کی باری تھی‘ انہوں نے اس کا شاہی لباس اتارا تو اس کی کلائی پر پٹی بندھی تھی‘ انہوں نے پٹی کے بارے میں پوچھا‘ اکبر نے بتایا کل میرا ہاتھ کٹ گیا تھا‘ انہوں نے مایوسی سے سر ہلایا اور یہ کہہ کر اسے چھوڑ دیا ’’ ہم دیوی کو داغی قربانی پیش نہیں کر سکتے‘ تم جا سکتے ہو‘‘ اکبرا عظم کو فوراً بیر بل کی بات یاد آ گئی‘ وہ واپس آیا‘ اس نے بیربل کو جیل سے نکالادوبارہ ڈائننگ ٹیبل پر بٹھایا‘ کل کی غلطی پر معذرت کی اور پھر اس سے کہا ’’ مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی‘

اللہ تعالیٰ نے میرا ہاتھ کاٹ کر مجھے قتل ہونے سے بچا لیا لیکن تم ایک رات جیل میں رہے‘ قدرت نے تمہیں جیل میں رکھ کر کس مصیبت سے بچایا‘ بیرل بل نے قہقہہ لگایا اور کہا ’’ حضور آپ اگر مجھے جیل نہ بھجواتے تو میں آج آپ کے ساتھ شکار پر جاتا‘ وہاں ان وحشیوں کے ہاتھ لگ جاتا اور وہ آپ کے دوسرے ساتھیوں کی طرح مجھے بھی ذبح کرتے‘ میرے اللہ نے آپ کو چھوٹے سے زخم کے ذریعے بچا لیا اور میری جان جیل کی ایک رات کے عوض بچا لی‘ آپ بھی شکر ادا کیجئے اور مجھے بھی کرنے دیجئے۔

سادگی اپنوں کی اور غیروں کی عیاری بھی دیکھ

تبلیغی جماعت کی تشکیل ۱۹۲۶میں اس وقت عمل میں آئی تھی جب ملک میں ارتداد کی ایک تیز آندھی چل پڑی تھی ، عام مسلمانوں کی دین سے دورافتادگی کے سبب تبدیلیٔ مذہب کے واقعات بڑھنے لگےتھے ۔ان واقعات پر علمائے حق کی تشویش حق بجانب تھی اور ارتداد کی روک تھام کیلئے جن علماء نے حتی الامکان اپنی اپنی بساط بھر جدوجہد شروع کی ان میں مولانا محمد الیاس کاندھلوی ؒپیش پیش تھےانہیںدارالعلوم دیوبند کے مشہور عالم دین مولانا محمودحسن دیوبندی ؒکی علمی و روحانی سرپرستی حاصل تھی جو شیخ الہند کہے جاتے تھے ۔آزادی ٔ ہند کی تحریکات میں ان کا بڑا حصہ تھا ،مشہور زمانہ ریشمی رومال کی تحریک انہوں نے ہی چلائی تھی جس میں مولانا عبیداللہ سندھی جیسے ہوشمنداور جذبہ ٔ سرفروشی سے سرشارعلماءکی اچھی خاصی تعدادان کی ہمرکاب تھی ۔مولانا الیاس کاندھلوی ؒ نے جب یہ محسوس کیا کہ بھولے بھالے مسلمان غربت و افلاس اور دین سے دوری کے سبب دائرہ ٔ اسلام سے نکلتے جارہے ہیں ،انہیں شدید قلق ہوا ،انہوں نے فیصلہ کیا کہ فی الوقت سب سے ضروری کام یہ ہے کہ اس ارتداد کی لہر کو روکاجائے اور خصوصاً دوردراز کے دیہاتوں اور قریوں میں مقیم ان مسلمانوں سے رابطہ کیا جائے جو شدھی تحریک کا بہ آسانی شکار ہوتے جارہے ہیں ۔وہ درس وتدریس جیسے کام کو چھوڑکر دہلی پہنچےاوربستی نظام الدین کی بنگلہ والی مسجد سے دعوت و تبلیغ کی مہم کا آغاز کیا رفتہ رفتہ لوگ جڑتے گئے۔میں

اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر ۰۰۰کےمصداق وہ تحریک بڑھتے بڑھتے ایک عالمگیر تحریک کی شکل اختیار کرگئی ۔آج دنیا کے گوشے گوشے میں اصلاح امت کا کام بڑے پیمانے پر جاری ہے جس سے نہ صرف یہ کہ ارتداد کی وہ تیز لہر رک گئی بلکہ بڑی تعداد میں وہ لوگ بھی اسلام سے قریب ہونے لگے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ اسلام کے حریف بنے ہوئے تھے ۔اس وقت میوات کا خطہ بے حد مخدوش تھاجہاںمسلمانوں کی عرفیت صرف ان کے اسلامی ناموں تک ہی محدودرہ گئی تھی ،عملی طور پر دیگراسلامی شناخت سے وہ یکسر خالی تھے ،مولانا ان خطوں میں متواتر جماعتیں بھیجتے رہے ۔ایک واقعہ مشہور ہے مولانا میوات پہنچے وہاں ایک کسان میاں محراب جی سے ملے ،انہیں دعوت دی وہ مسلسل ان سنی کرتے رہے یہاں تک کہ ایک دن طیش میں آکرمیاں محراب نے انہیں اتنی زور سے دھکادیا کہ وہ گرپڑے،مولانا زخمی ہوگئے لیکن مایوس نہ ہوئے اور برابر اصلاح و دعوت کے کام میں لگے رہے بالآخر ایک دن میاں محراب نے ہل پھینک دیا اور مولانا کے ساتھ ایسا لگے کہ پوری زندگی ہی ان کے ساتھ گزاردی ۔اس طرح کے متعدد واقعات شاہد ہیں کہ جماعت کے افراد جان و مال کی پرواکئے بغیر بس اللہ اور اسکے رسول کی خوشنودی تلا ش کرتے رہے ،ظاہر ہے جہاں ذاتی فائدے سے پرے انتہائی خلوص کا مظاہرہ کیا جائے اللہ کی نصرت کیوں نہیں شامل ہوگی ۔ جماعت کی کارکردگیوں اور اس کے خوش کن نتائج یہ بتاتے ہیں

کہ جو امتیاز اس جماعت کو حاصل ہے ہندوستان بھر میں چلائی جانے والی کسی دیگر اسلامی تحریک کو حاصل نہیں ،چونکہ اس جماعت کو ہمیشہ علمائے حق کا تعاون حاصل رہا ہے اور اکثر جید علماء اس تحریک میں وقت بھی لگاتے رہے ہیں ۔غالباً ۱۹۸۰کی بات ہے ٹانڈہ فیض آباد میں ایک بڑا اجتماع ہوا تھا ،اس کے لئے جس زمین کا استعمال کیا گیا وہ ایک مشہور آریہ سماجی اور کانگریسی لیڈرمصری لال آریہ کی تھی اس اجتماع سےمولانا انعام الحسن کاندھلویؒ اور مولانا محمد عمر پالن پوریؒ وغیرہم نے خطاب کیا۔ مصری لال آریہ بہ نفس نفیس اس اجتماع میں شریک ہوئے اختتام پر ان کے تاثرات یہ تھے، یہ زمین یونہی پڑی تھی جس پر مویشیوں اور انسانی غلاظتوں کا انبار لگا رہتا تھا لیکن اب یہ زمین پوتر ہوگئی ہےمنتظمین سے یہ درخواست بھی کی اس طرح کے اجتماعات دوبارہ بھی کئے جائیں تاکہ اس کی پوترتا باقی رہے ۔ ایک اور واقعہ یاد آگیا ، ٹانڈہ نگر پالیکا کے چیئرمین اور رئیس شہر حیات محمد انصاری بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ایک متوازن انسان تھے تین دن کی جماعت میں گئے لوٹنے پر ان کے تجربات یہ تھے ۔تین دن مسجد کی کھردری چٹائیوں پر جو آرام مجھے حاصل ہوا وہ اپنی پرتعیش کوٹھی میں عمر بھر نہ مل سکا اس کے بعد وہ تا حیات جماعت سے منسلک رہے اور ہمیشہ معاون و مددگار بنے رہے ۔

آپ میری خواہش پوری کر دیں

امام ترمذیؒ اپنے وقت کے بہت بڑے محدث اور حکیم تھے۔ حدیث کی مشہور کتاب “ترمذی شریف” انہی کی لکھی ہوئی ہے۔ اللہ رب العزت نے آپ کو اس قدر حُسن دیا تھا کہ لوگ دیکھ کر فریفتہ ہو جاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو باطنی حسن بھی دیا تھا۔ آپ عین جوانی کے عالم میں ایک دن اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عورت اندر آئی اور آتے ہی اُس نے اپنا چہرہ کھول دیا۔

وہ عورت نہایت حسین و جمیل تھی وہ آپ سے کہنے لگی کہ “میں آپ کے حسن پر فدا ہوں اور بہت دنوں سے موقع کی تلاش میں تھی، آج بہت مشکل سے تنہائی ملی ہے، آپ میری خواہش پوری کر دیں!” امام ترمذیؒ کے دل پر خوفِ خدا اتنا غالب ہوا کہ آپ رو پڑے اور اتنا روئے کہ وہ عورت نادم ہو کر واپس چلی گئی اور آپ دیر تک روتے رہے۔ مدت گزر گئی آپ اس بات کو بھول گئے اور جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہوگئے، بال سفید ہوگئے ایک دن مصلے پر بیٹھے تھے کہ دل میں خیال پیدا ہوا کہ “اگر اُس وقت میں اُس عورت کی خواہش پوری کر دیتا تو کیا تھا بعد میں توبہ کر لیتا۔۔۔” لیکن جیسے ہی یہ خیال دل میں آیا فوراً رونے لگ گئے اور کہنے لگے، “اے رب کریم! جوانی میں تو یہ حالت تھی کہ میں گناہ کا نام سن کر ہی اتنا رویا تھا کہ وہ عورت میرے رونے سے نادم ہو گئی تھی۔ اب میرے بال سفید ہوگئے ہیں تو کیا میرا دل سیاہ ہو گیا ہے جو میرے دل میں اس گناہ کا خیال پیدا ہوا۔۔؟ اے اللہ! میں تیرے سامنے کس طرح پیش ہوںگا، اس بڑھاپے میں جب میرے اندر قوت بھی نہیں رہی میرے دل میں گناہ کا خیال کیسے آ گیا۔۔؟ اسی حالت میں روتے روتے سو گئے، خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت ہوئی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا “ترمذی! کیوں روتے ہو۔۔۔؟ عرض کیا، “میرے محبوبﷺ! جب جوانی کا زمانہ تھا قوت اور شہوت کا زور تھا، تب تو اللہ کا خوف اتنا تھا کہ گناہ کی بات سن کر ہی اللہ کے خوف سے رونے لگ گیا تھا۔

لیکن اب جبکہ بال سفید ہوگئے اور بڑھاپا آگیا تو دل اس قدر سیاہ ہوگیا ہے کہ یہ خیال آیا کہ اس وقت خواہش پوری کر لیتا اور بعد میں توبہ کر لیتا، میں اس لیے پریشان ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، پریشان نہ ہو۔یہ تیری کمی یا قصور نہیں جب تو جوان تھا تو میرے زمانے سے زیادہ قریب تھا ان برکتوں کی وجہ سے تیری یہ کیفیت تھی کہ گناہ کا خیال دل میں نہیں آیا، اب تیرا بڑھاپا آگیا ہے تو میرے زمانے سے بھی دوری پیدا ہو گئی اس لیے اب دل میں گناہ کا وسوسہ پیدا ہوا، بس توبہ استٖغفار کیا کر، اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔!

سادگی اپنوں کی اور غیروں کی عیاری بھی دیکھ

زندگی میں ہر کام کا ایک نتیجہ ہوتا ہے اور پھر ایک دن ہمیں یہ نتیجے بھگنتے بھی ہوتے ہیں۔ مگر ہم ہر کام بغیر سوچے سمجھے اس انداز سے کرتے ہیں کہ ہمیں کبھی بھی اسکا کوئی نتیجہ نہیں ملنا۔ بس ایویں کر لیتے ہیں۔ مگر ہر روز کا کام اکٹھا ہوتا رہتا ہے اور پھر ایک دن نتجے کی صورت ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ خاص طو پر دیوانی قسم کی جواانی میں تو انسان کو واقعی میں یہی لگتا رہتا ہے کہ کھا لے پی لے جی لے۔ یہی ہے زندگی۔

آج کے دن یعنی کہ چودہ فروری کو جو بھی یہ نسل کرنا چاہتی ہے اورجو جو جتنا جتنا کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسکو اپنی کامیابی گردانتا ہے کہ بہت بڑا معرکہ مار لیا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ جسمانی لحاظ سے اللہ نے آپکو جب کہ مخصوص قواعد و ضوابط کا پابند کیا ہے ۔ ہمارا معاشرہ ہمیں کہیں نہ کہیں سے یہ بتا اور دکھا رہا ہے کہ نہیں نہیں ان قواعد کا پابند بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جو جب جیسے جس کے ساتھ دل چاہیں کر لیں۔

آپ کو اپنے جذبات جو کہ اپنے شریک حیات کے لئے ہی بچا کر رکھنے ہیں آپ خوشی سے انکو ادھر اُدھر لُٹاتے رہیں ٹائم پاس کے نام پر ۔ پھر جزبات کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ ٹائم پاس نہیں ہوتے ۔ یہ کب کتنے سنجیدہ ہو جائیں آپ کچھ جانتے نہیں ہیں ۔ آپ کو خود بھی ، خود کا پتہ نہیں لگتا ۔ آپ کب کس کے ساتھ سنجیدہ ہو جائیں مگر سامنے والا آپکے ساتھ بس ٹائم پاس میں ہی ہو اور آپکو پتہ نہ لگے اور بے خبری میں ہی آپ مارے جائیں۔ جب تک آنکھ کھلے تب تک خاصی دیر بھی ہو چکی ہو۔

اسی طرح ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب آپ اس طرح کے کسی بھی ٹائم پاس میں دل سے ہوتے ہیں تو آپ دوسرے اہم رشتوں کو در خوعتنا نہیں سمجھتے اور ادھر ادھر وقت لٹانا تو ضروری سمجھتے ہیں مگر جدھر لٹانا چاہئے ادھر لٹاتے نہیں سو اسی وجہ سے پھر آپکو بڑھتی عمر کے ساتھ احساس تنہائی شدت کا محسوس ہونے لگتا ہے اور آپکو سمجھ نہیں آتی کہ آپ کیا کریں کیا نہ کریں ۔ بہت سے لوگ زندگی میں آتے جاتے ہیں مگر آپکو سمجھ نہیں آتی کہ احساس خوشی پھر بھی کیوں نہیں ہے۔

ہماری روح کو اللہ نے اس طرح کا بنایا ہے کہ وہ صرف اچھے کاموں سے ہی پاکیزہ رہتی ہے۔ اگر آپ منع کئے گئے کام کرتے رہیں گے اللہ کے اصولوں کو بخوشی توڑتے رہیں گے تو ایک وقت آئے گا کہ آپکو کچھ بھی برا ، برا محسوس ہی نہیں ہوگا ۔ آپ برے کو بھی اچھا سمجھنے لگ جائیں گے اور آپکو خود کو یہ پتہ بھی نہیں ہوگا کہ آپ یہ غلطی کر رہے ہیں سو ایسے غلط کار کرنے سے بچئے۔

زندگی ایک ہی دفعہ ملی ہے اسکا صیح ٹیسٹ لینے کے لئے آپکو اچھے کاموں کو پکڑنا ہوگا ۔ صیح کاموں کو پکڑنا ہوگا تب ہی آپ کر سکیں گے تب ہی آپ جی سکیں گے۔ اگر صیح کاموں کو نہیں کریں گے تو صرف زندہ ہوں گے مگر جی نہیں رہے ہوں گے۔ سو زندگی میں انتخاب سوچ سمجھ کر کریں ۔
اللہ کے اصول چننے ہیں یا سو کالڈ کُول کہلانے والے اصول ۔

دو سوال

کولمبیا کی ایک یونیورسٹی میں میتھس کے لیکچر کے دوران کلاس میں حاضر ایک لڑکا بوریت کی وجہ سے سارا وقت پچھلے بنچوں پر مزے سے سویا رہا، لیکچر کے اختتام پر طلباء کے باہر جاتے ہوئے شور مچنے پر اسکی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ پروفیسر نے وائٹ بورڈ پر دو سوال لکھے ہوئے ہیں۔ لڑکے نے انہی دو سوالوں کو اسائنمنٹ سمجھ کر جلدی جلدی اپنی نوٹ بک میں لکھا اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ ہی کلاس سے نکل گیا۔گھرجا کرلڑکا ان دو سوالوں کے حل سوچنے بیٹھا۔

سوال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مشکل ثابت ہوئے۔میتھس کا اگلا سیشن چار دنوں کے بعد تھا اس لئے لڑکے نے سوالوں کو حل کرنے کیلئے اپنی کوشش جاری رکھی۔ اور یہ لڑکا چار دنوں کے بعد ایک سوال کو حل کر چکا تھا۔اگلی کلاس میں لڑکے کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پروفیسر نے آتے ہی بجائے دیئے ہوئے سوالوں کے حل پوچھنے کے، نئے ٹوپک پر پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ لڑکا اْٹھ کر پروفیسر کے پاس گیا اور اْس سے کہاکہ سر ، میں نے چار دن لگا کر ان چار پیجز پر آپکے دیئے ہوئے دو سوالوں میں سے ایک کا جواب حل کیا ہے اور آپ ہیں کہ کسی سے اس کے بارے میں پوچھ ہی نہیں رہے؟پروفیسر نے حیرت سے لڑکے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ میں نے تو کوئی اسائنمنٹ نہیں دی۔ ہاں مگر میں نے وائٹ بورڈ پر دو ایسے سوال ضرور لکھے تھے

جن کو حل کرنے میں اس دْنیا کے سارے لوگ ناکام ہو چکے ہیںجی ہاں۔یہی منفی اعتقادات اور سوچ ہے، جنہوں نے اس دْنیا کے اکثر انسانوں کو ان مسائل کے حل سے ہی باز رکھا ہوا ہے، کہ انکا کوئی جواب دے ہی نہیں سکتا تو کوئی اور کیوں کر ان کو حل کرنے کیلئے محنت کرے۔اگر یہی طالبعلم عین اْس وقت جبکہ پروفیسر وائٹ بورڈ پر یہ دونوں سوال لکھ رہا تھا،جاگ رہا ہوتا اور پروفیسر کی یہ بات بھی سن رہا ہوتا کہ کہ ان دو مسائل کو حل کرنے میں دنیا ناکام ہو چکی ہے تو وہ بھی یقیناً اس بات کو تسلیم کرتا اور ان مسائل کو حل کرنے کی قطعی کوشش ہی نہ کرتا۔ مگر قدرتی طور ہر اْسکا سو جانا اْن دو مسائل میں سے ایک کے حل کا سبب بن گیا۔ اس مسئلے کا چار پیجز پر لکھا ہوا حل آج بھی کولمبیا کی اْس یونیورسٹی میں موجود ہے.

مجھےبچالو ! مجھے بچالو ـــــ

واقعہ کچھ یوں ہوا، یہ اُس دور کی بات ہے جب نپولین نے روس پر حملہ کیا تھا۔ اُس کے فوجی دستے ایک اور چھوٹے سے قصبے میں جنگ میں مصروف تھے۔ اتفاق سے نپولین اپنے آدمیوں سے بچھڑ گیا۔ کاسک فوج کے ایک دستے نے نپولین کو پہچان لیا اور شہر کی پُرپیچ گلیوں میں اُس کا تعاقب شروع کردیا۔ نپولین اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتا ہوا ایک بغلی گلی میں واقع ایک سمور فروش کی دکان میں جا گھسا۔ وہ بری طرح ہانپ رہا تھا۔دکان میں داخل ہونے کے بعد جوں ہی اُس کی نگاہ سمور فرش پر پڑی وہ بے چارگی سے کراہتے ہوئے بولا ’’مجھے بچالو! مجھے بچالو! مجھے کہیں چھپا دو۔‘‘ سمورفروش بولا ’’جلدی کرو! اُس گوشے میںسمور کے ڈھیر کے اندر چھپ جائو!‘‘ پھر اُس نے نپولین کے اوپر اور بہت سے سمور ڈال دیے۔

ابھی وہ اس کام سے فارغ ہوا ہی تھا کہ کاسک فوجی دستہ دندناتا ہوا اُس کی دکان میں آ گھسا اور فوجی چیخنے لگے ’’وہ کہاں ہے؟‘‘ ’’ہم نے اُسے اندر آتے ہوئے دیکھا ہے؟‘‘ سمور فروش کے احتجاج کے باوجود اُن فوجیوں نے سمورفروش کی دکان الٹ پلٹ کر رکھ دی۔ نپولین کی تلاش میں اُنھوں نے دکان کا چپا چپا چھان مارا۔وہ اپنی تلواروں کی نوکیںسمور کے ڈھیر میں گھساتے رہے لیکن نپولین کو تلاش نہ کر پائے۔ بالآخراُنھوں نے اپنی کوشش ترک کر دی اور واپس چلے گئے۔ کچھ دیر بعد جب سکون ہوگیا تو نپولین سمور کے ڈھیر میں سے رینگتا ہوا باہر نکل آیا۔ اُسے کسی قسم کا کوئی گزند نہیں پہنچا تھا۔

عین اُسی لمحے نپولین کے ذاتی محافظ بھی اُسے تلاش کرتے ہوئے وہاں آن پہنچے اور دکان میں داخل ہوگئے۔ سمورفروش کوجب اندازہ ہوگیا کہ اُس نے کس عظیم شخصیت کو پناہ دی تھی تو وہ نپولین کی جانب گھوم گیا اور شرمیلے لہجے میں گویا ہوا ’’میں اتنے عظیم آدمی سے یہ سوال پوچھنے پر معذرت چاہوں گا! لیکن سمور کے اِس ڈھیر کے نیچے جب آپ کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ اگلا لمحہ یقینی طور پر آپ کی زندگی کا آخری لمحہ بھی ہو سکتا تھا تو آپ کو کیا محسوس ہوا تھا؟‘‘ نپولین جو اب پوری آن بان کے ساتھ تن کر کھڑا ہوچکا تھا، سمورفروش کے اِس سوال پر غصے میں آگیا اور برہمی سے بولا ’’تمھیں مجھ سے، بادشاہ نپولین سے، یہ سوال کرنے کی ہمت کیوں کر ہوئی؟‘‘

پھر وہ اپنے محافظوں سے مخاطب ہوا ’’محافظو! اس گستاخ شخص کو باہر لے جائو۔ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دو اور اِسے گولی مار دو! میں بذاتِ خود اس پر فائر کھولنے کا حکم دوں گا۔‘‘ محافظوں نے اُس بے چارے سمور فروش کو دبوچ لیا اور اُسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ پھر اُسے ایک دیوار کے ساتھ کھڑا کرکے اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ سمورفروش کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، البتہ اُس کے کانوں میں محافظوں کے حرکت کرنے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں جو دھیرے دھیرے ایک قطار میں کھڑے ہو کر اپنی رائفلیں تیار کر رہے تھے۔

ساتھ ہی اُسے سرد ہوا کے جھونکوںاور کپڑوں کی سرسراہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔ ہوا کے تھپیڑے اُس کے لباس سے ٹکرا رہے تھے اور اُس کے گال یخ ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اُس کی ٹانگیں کپکپا رہی تھیں اور وہ اُن پر قابو پانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ تب اُس کے کانوں میں نپولین کی آواز سنائی دی جس نے کھنکارتے ہوئے اپنا گلا صاف کیا اور آہستگی سے بولا ’’ہوشیار… شست باندھ لو۔‘‘ اُس لمحے میں یہ جانتے ہوئے کہ اُس کے تمام احساسات و جذبات اُس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہونے والے ہیں، سمورفروش کے اندر ایک ایسا احساس نموپذیر ہونے لگا، جسے بیان کرنے سے وہ قاصر تھا۔اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہو گئے۔

اُسے قدموں کی چاپ سنائی دی جو اُس کی جانب بڑھ رہی تھی۔ جب وہ آواز اُس کے عین نزدیک آ گئی تو کسی نے ایک جھٹکے سے اُس کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھول دی۔ اچانک روشنی ہونے سے سمورفروش کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں، تب اُس نے نپولین کو دیکھا جو اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اُس کے مقابل کھڑا تھا۔ اُس نے نپولین کے لب وا ہوتے دیکھے۔ وہ نرم لہجے میں بول رہا تھا ’’اب تمھیں پتاچل گیا؟‘‘

نقلی آئن سٹائن

مشہور ریاضی دان اور سائنس دان البرٹ آئن سٹائن جب کہیں لیکچر دینے جاتے تو ان کا ڈرائیور ہال کے آخر میں بیٹھا لیکچر سنتا رہتا ۔ایک مرتبہ کسی یونیورسٹی میں لیکچر دینے کیلئے جب گاڑی میں بیٹھے تو ڈرائیور نے کہاجناب! میں آپ کے لیکچر سْن سْن کر تنگ آ گیا ہوں۔۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے آپ کے تمام لیکچر یاد ہو گئے ہیں۔یہ سْن کر آئین سٹائن نے کہا۔ٹھیک ہے آج جس یونیورسٹی میں میرا لیکچر ہے اتفاق سے وہ مجھے جانتے بھی نہیںلہذا آج میری جگہ لیکچر دے دو۔۔۔مزید اصرار کرنے پر ڈرائیور مان گیا۔

یوں ڈرائیور آئن سٹائن اور اصلی آئن سٹائن ڈرائیور بن بیٹھا۔ڈرائیور نے یونیورسٹی میں بہت ہی عمدہ طریقے سے لیکچر دیا۔ لیکچر دینے کے بعد ایک شخص نے نقلی آئن سٹائن سے پوچھا “۔جناب! آپ نے لیکچر میں ریاضی کا جو فلاں فارمولہ بتایا ہے، وہ مجھے صحیح طرح سمجھ نہیں لہذا وضاحت کر دیں”۔نقلی آئن سٹائن نے کہا “جناب! یہ فارمولہ تو اتنا آسان ہے کہ میرا ڈرائیور بھی آپکو سمجھا دے گا”۔یہ کہہ کر اْس نے ڈرائیور کو آواز دی اور کہا کہ ان صاحب کو فلاں فارمولہ سمجھا دو۔

آئن سٹائن

دنیا کا ذہین ترین انسان آئن سٹائن بچپن میں دماغی طور پر ایک کمزور انسان تھا، اُس کا سر موٹا اور زبان بولنے کی صلاحیت سے محروم تھی، بڑی مشکل سے کچھ الفاظ اٹک اٹک کر بولتا تھا جو بعض اوقات اُس کی ماں کو بھی سمجھ نہیں آتے تھے، کہا جاتا ہے کہ آئن سٹائن آٹزم کی بیماری میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ میں گم رہتا تھا اوراپنے معمولات میں کسی کی دخل اندازی پسند نہیں کرتا تھا،9 سال کی عمر تک وہ بولنے کی صلاحیت سے محروم رہا، تب اچانک ایک دن کھانے کی میز پر جب اُس کے سامنے سوپ رکھا گیا تو اُس نے سوپ کا پہلا چمچ منہ میں ڈالتے ہی کہا’’سوپ بہت گرم ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی اُس کے والدین اچھل پڑے، خوشی سے بے حال ماں نے آئن سٹائن سے پوچھا کہ ایسے الفاظ تم نے کبھی پہلے کیوں نہیں بولے؟ آئن سٹائن کا جواب تھا اِس سے پہلے ہر چیز نارمل تھی اس لیے میں نہیں بولتا تھا

اُس نے دوسری شادی مالیوا نامی خاتون سے کی، اِس شادی کی دلچسپ بات وہ معاہدہ ہے جو اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا، معاہدے میں طے پایا کہ اُس کی بیوی اُس کے کپڑے اور سامان ہمیشہ صاف اور بہترین حالت میں رکھے گی،تینوں وقت کا کھانا آئن سٹائن کو اُس کے کمرے میں دیا جائے گا،آئن سٹائن کے کمرے، سٹڈی روم اور خاص طور پر اُس کی میز بالکل صاف رکھی جائے گی اور کوئی فالتوچیز یہاں نظر نہیں آئے گی، جب تک آئن سٹائن کا موڈ نہ ہو، بیگم اُس سے کوئی بات نہیں کرے گی، آئن سٹائن دیگر لوگوں کے سامنے اپنی بیگم سے لاتعلق رہے گا اورآخری شرط یہ تھی کہ ہمارے درمیان کچھ ضروری تعلقات کے علاوہ اور کوئی تعلق نہیں ہوگا۔۔۔!!!ماشاء اللہ! غالباً یہی وہ

مجاہدانہ اقدام ہیں جن کی بدولت آئن سٹائن نے اتنی ذہانت پائی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر آئن بھائی اپنی بیوی سے اتنا سخت رویہ نہ رکھتے اور نرمی سے پیش آتے تو صورتحال کیا ہونی تھی۔بیوی: آئن۔۔۔وے آئن۔۔۔!آئن سٹائن: جی جان۔۔۔کیاہوا؟ بیوی: وے کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے! آئن سٹائن: اوہو۔۔۔جان ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔ بیوی: وے یاد کر۔۔۔تجھے پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔ آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔ بیوی: وے اگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔آئل لے کے آ، اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور پانچ روپے کا ’استنبول کا چھلکا‘ بھی لیتے آنا آئن سٹائن: پلیز جان۔۔۔بس صر ف آدھے گھنٹے کی مہلت دے دو،میری ریسرچ مکمل ہونے والی ہے۔

بیوی: دفع دور۔۔۔جب دیکھو سائنس،جب دیکھو سائنس۔۔۔نہ تونے اتنی سائنس پڑھ کے کون سا عالم لوہار بن جانا ہے؟؟؟ آئن سٹائن: پلیز جان ایسا مت کہو۔۔۔سائنس میری زندگی ہے، میں ہر وقت سائنس کے حصار میں رہتا ہوں۔ بیوی: ہا۔۔۔ہائے۔۔۔شادی سے پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں گڑھی شاہو میں رہتا ہوں؟آئن سٹائن: اوہو جان، میرا مطلب ہے کہ میں ہروقت سائنس میں گم رہتا ہوں، سائنس میرا عشق ہے، میرا پیار ہے۔ بیوی: لخ لعنت ہے بھئی تیرے عشق پر۔۔۔اگر اتنا بڑا سائنسدان ہے تو میری ایک بات کا جواب دے۔۔۔! آئن سٹائن: پوچھو جان۔۔۔!

بیوی: عورت اگر واہیاتی پر اُتر آئے تو ورلڈ ریکار ڈ بنانے کے لیے کیا کچھ کرسکتی ہے؟ آئن سٹائن: پلیز جان۔۔۔ایسے سوال مت پوچھو، میں آئن سٹائن ہوں، وینا نہیں۔۔۔! بیوی: وے یہ تو بڑا آسان سا سوال تھا۔۔۔چل یہ بتا میری وڈی خالہ کا السر کب ٹھیک ہوگا؟؟؟ آئن سٹائن: وہ۔۔۔مم۔۔۔مجھے کیا پتا؟ بیوی: مجھے پہلے ہی پتا تھا تیرے جیسے نکمے بندے کو سواہ تے مٹی پتا ہونا ہے۔۔۔روندا سائنس نوں۔۔۔ آئن سٹائن: پپ۔۔۔پلیز جان۔۔۔اگر اجازت ہو تو تھوڑا کام کرلوں؟؟؟ بیوی: وے کام تونے کیا کرنا ہے، ویلیاں کھائی جاتا ہے، ہزار دفعہ کہا ہے میرے تائے کے بیٹے کے ساتھ سبزی منڈی چلا جایا کر، وہ بھی بہت

بڑا سائنسدان ہے۔۔۔ آئن سٹائن: وہ کیا کرتاہے جان؟ بیوی: سبزی منڈی میں بڑے اور چھوٹے پیاز الگ الگ کرتاہے. آئن سٹائن: لاحول ولا قوۃ۔۔۔جان کہاں وہ، کہاں میں۔۔۔
بیوی: ظاہری بات ہے کہاں وہ روز کا دو سوروپیہ کمانے والا اور کہاں تُوسسرالیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا. آئن سٹائن: پلیز جان۔۔۔ایسے تو نہ کہو۔۔۔میرے سسرالی تو خود لنگر پر گذارہ کرتے ہیں۔۔۔بیوی: کیا کہا؟۔۔۔وے تیرا بیڑا غرق۔۔۔تیری ریسرچ میں کیڑے پڑیں۔۔۔وہ نہ مدد کریں تو تُو بھوکا مرجائے۔۔۔

آئن سٹائن: اچھا پلیز جان۔۔۔یہ لڑائی بعد میں کرلینا۔۔۔میرا ذہن کسی اور طرف ہے۔۔بیوی: مجھے پہلے ہی شک تھا، سامنے والی ہمسائی کی کھڑکی بھی تھوڑی سی کھلی ہوئی ہے، سچ سچ بتا آئن سٹائن۔۔۔تیرا ذہن کس کی طرف ہے؟جھوٹ بولا تو میں تیری سائنس بند کروں گی۔ آئن سٹائن: فار گاڈ سیک جان۔۔۔میرے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں، میرا دماغ توہر وقت اپنے سائنسی کام میں مگن رہتا ہے۔ بیوی: سب جانتی ہوں میں تیرے نکمے سائنسی دماغ کو۔۔۔ٹی وی کا ریموٹ تو تجھ سے ٹھیک ہوتا نہیں، وڈا آیا سائنسدان. آئن سٹائن: (آہ بھر کر) ٹھیک ہے میری جان۔۔۔آج سے سائنس ختم، کل سے میں بھی سبزی منڈی جایا کروں گا. بیوی: (خوشی سے) واقعی؟۔۔۔ہائے آئن سٹائن۔۔۔تم کتنے جینئس ہو۔۔۔